نعروں اور رد عمل کی سیاست سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 07 / اکتوبر / 2026
پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ، مرکزی حکومت کی ہٹ دھرمی اور بیرسٹر گوہر علی کی طرف سے غیر مشروط مذاکرات کی خواہش سے پاکستان کی سیاسی صورت حال کے حوالے سے چند باتیں واضح ہوجاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ تحریک انصاف اسلام آباد پر ’دھاوا‘ بول کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے لانگ مارچ میں لوگوں کی قابل ذکر تعداد جمع کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی ہے۔ دوسرے حکومت پارٹی کی اس ’بے بسی ‘ کا فائدہ اٹھا کر اسے سیاسی طور سے دیوار سے لگانے کی کوشش کررہی ہے۔
اس تنازعہ میں عمران خان سے ملاقاتوں، ان کے علاج اور سیاسی قیدیوں کی رہائی یا انہیں سہولتیں دینے کے بارے میں کوئی بھی مطالبہ ناجائز نہیں ہے۔ یہ سب سہولتیں سیاسی یا غیر سیاسی قیدیوں کا بنیادی حق ہیں جن کی ضمانت ملک کا آئین فراہم کرتا ہے۔ لیکن حکومت نے پی ٹی آئی کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اب خیبر پختون خوا میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے سوال پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی عمران خان کی سہولتوں کے لیے ملکی سلامتی کے حوالے سے ایسا سخت گیر طرز عمل اختیار کررہے ہیں جو بالآخر ان کے پاؤں کی بیڑیاں بن سکتا ہے۔ لانگ مارچ کے دوران سہیل آفریدی کی تند و تیز تقاریر ایک طرف حکومت کو صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی ترغیب دے سکتی ہیں تو دوسری طرف جوشیلی تقریریں وزیر اعلیٰ کو طویل المدت مقدموں میں پھنسانے کا سبب بن سکتی ہیں۔
سیاسی عمل میں عام طور سے نعرے اور مخالف کو اکسانے کے ہتھکنڈے استعمال ہوتے ہیں لیکن سب فریقوں کو یہ بھی دھیان رکھنا چاہئے کہ اس قسم کے طریقوں سے ملکی مفادات کو نقصان نہ پہنچے۔ فی الوقت خیبر پختون خوا کی حکومت یاتحریک انصاف ہی اس افسوسناک غلطی کا ارتکاب نہیں کررہے بلکہ مرکزی حکومت بھی جائز مطالبے نہ مان کر غیر ضرور ی طور سے ایک مقبول اور بڑی سیاسی پارٹی کو اشتعال دلا نے کی ناجائز کوشش کررہی ہے۔ دریں حالات اب یہ واضح ہورہا ہے کہ اگر تحریک انصاف لانگ مارچ کے لیے بڑی تعداد میں کارکنوں کو گھروں سے نکالنے میں ناکام ہورہی ہے تو حکومت بھی ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلانات کو دھمکیوں کے طور پر استعمال کرکے تحریک انصاف میں تقسیم پیدا کرنے اور اس سے اپنی مرضی کے مطابق رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ فی الوقت مرکزی حکومت شاید خیبر پختون خوا میں براہ راست مداخلت کے لیے تیا رنہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ ایمرجنسی یا گورنر راج کے بعد پیدا ہونے والے حالات اور سیاسی خلیج میں اضافے کا خوف ہوسکتا ہے۔ اسی لیے حکومتی وزرا گورنر راج کی دھمکیاں دینے کے ساتھ مذاکرات کی بات بھی کرتے ہیں ۔ اور دوسری طرف تحریک انصاف بھی اسلام آباد ’فتح‘ کرنے کے اعلانات کرتے ہوئے بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کررہی ہے۔
حیرت ہے کہ اگر فریقین بات چیت ہی کے ذریعے مسائل حل کرنے پر متفق ہیں تو پھر اتوار کے روز براہ راست مذاکرات کا دروازہ بند کیوں کیا گیا اور دونوں فریقوں نے پرجوش طریقے سے ’بات چیت ناکام ہوگئی، اب دمادم مست قلندر ہوگا‘ قسم کے نعرے لگانے کا سلسلہ کیوں شروع کیا؟ تحریک انصاف کی حد تک اندازے کی غلطی کے علاوہ لیڈروں میں اختلاف بھی کسی حد تک اس فیصلے کی وجہ ہوسکتاہے۔ تاہم چند روز لانگ مارچ کا شوق پورا کرلینے کے بعد اب پارٹی کے علاوہ خیبر پختون خوا کی حکومت بھی اس مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کررہی ہے۔ حکومت کو اس موقع کو غنیمت جان کر اپنی طرف سے عمران خان کو کچھ سہولتیں دے کر سیاسی مفاہمت کے لیے اعتماد سازی کرنی چاہئے تھی۔ لیکن وفاقی حکومت اس کمزور لمحے میں تحریک انصاف کو خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے خلاف فوجی کارروائی کے سوال پر سرکاری بیانیہ ماننے پر مجبور کررہی ہے۔ حالانکہ بیانوں اور الزامات کی بجائے مذاکرات کی میز یہ مقصد حاصل کرنے کا بہتر ذریعہ ہوگی۔ کسی کو بھی حکومتی پارٹیوں یا تحریک انصاف کی ملک دوستی کے بارے میں شبہ نہیں ہونا چاہئے لیکن تصادم کی موجودہ صورت حال میں دھمکی آمیز بیانات سے مصالحت کی بجائے فساد کا راستہ ہموار ہو گا۔ حکومت اور تحریک انصاف کویکساں طور سے اس کا احساس کرنا چاہئے۔
مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنا اگر حکومت کی مجبوری نہ ہوتی تو وزیر اعظم گزشتہ روز لانگ مارچ ختم کرکے بات چیت شروع کرنے کی دعوت نہ دیتے۔ حکومت کو کمزور احتجاجی لانگ مارچ کو سیاسی سودے بازی کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ اس سے تو یہ قیاس ہوتا ہے کہ حکومت لانگ مارچ سے گھبرا کر اسے ختم کرانے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتی ہے۔ دوسرے وزیر اعظم کو مذاکرات شروع کرانے کے لیے تحریک انصاف کو کوئی رعایت دینی چاہئے تھی۔ عمران خان سے ملاقاتوں کے سوال پر ہوسکتا ہے شہباز شریف کے ’اختیارات‘ محدود ہوں لیکن انہیں ایک جہاں دیدہ سیاست دان کے طور پر ہائبرڈ نظام میں اپنے شریک فریق کو اس بارے میں نرمی کا مشورہ دینا چاہئے۔ اسی طرح خیبر پختون خوا کی حکومت کے ساتھ بگڑے ہوئے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں اور موجودہ تناؤ کم ہوسکے گا۔
مرکزی حکومت نے خیبر پختون خوا کے گورنر اور صوبائی انتظامیہ پر براہ راست کنٹرول کے ذریعے کسی حد تک سہیل آفریدی کی حکومت کو لاچار کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس طریقے کو شاید صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کا متبادل سمجھا جارہا ہے۔ اس دوران ایسے راستے دیکھے جارہے ہیں جن سے خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ کو گھیرا جاسکے، نااہل کروایا جاسکے یا کسی طرح عہدہ چھوڑنے پر مجبور کیا جاسکے۔ ہوسکتا ہے سرکاری حلقوں میں بعض ’داناؤں‘ کا خیال ہو کہ اس طرح تحریک انصاف کو نیا وزیر اعلیٰ تلاش کرنے کے کام پر لگا کر موجودہ احتجاجی مہم جوئی کا زور توڑا جاسکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ ملکی سیاسی مسائل پیچیدہ اور سنگین ہیں۔ انہیں ایسے ’ایڈہاک‘ اقدامات سے حل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
دوسری طرف وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا نے بھی اس حکومتی پالیسی کو محسوس کیا ہے اور ان کا لب و لہجہ زیادہ تلخ اور جارحانہ ہوگیا ہے۔ تحریک انصاف کے ہوشمند لیڈروں کو یہ جاننا چاہئے کہ اس موقع پر جذبات کی رو میں بہہ کر پرجوش اور اشتعال انگیز بیانات دینے سے تحریک انصاف کی مشکلوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی کی طرف سے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو طلب کرنے کے معاملہ پر سہیل آفریدی اتنے تلخ ہوگئے کہ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی کو سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار قرار دے کر الزام لگایا ہے کہ اب ٓصف زرداری ملک کے مزید ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں لیکن ’ ہم پاکستان کو توڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے‘۔ اس سے پہلے خیبر پہنچ کر ایک تقریر میں انہوں نے خیبر پختون خوا میں کسی بھی فوجی آپریشن کے سامنے دیوار بن جانے کا اعلان بھی کیا تھا۔ سہیل آفریدی جوش کے عالم میں بیان دیتے ہوئے یہ بھول گئے کہ حال ہی میں پیپلز پارٹی ہی کی وجہ سے حکومت مذاکرات پر آمادہ ہوئی تھی اور مستقبل میں بھی کسی سیاسی سہولت کے لیے تحریک انصاف کو پیپلز پارٹی کا تعاون درکار ہوگا۔ عمران خان سے ملاقاتوں کے سوال پر وزیر اعلیٰ کو اتنا جذباتی نہیں ہونا چاہئے کہ وہ صوبے کے ساڑھے چار کروڑ عوام کے مفادات پس پشت ڈال دیں۔
مختصر المدت سیاسی اہداف حاصل کرنے کے لیے تحریک انصاف اور حکومت کو جوش کی بجائے مفاہمانہ ہوشمندی، تصادم کی بجائے تعاون اور نعروں کی بجائے مسئلے حل کرنے کی طرف بڑھنا چاہئے۔ وقتی جوش میں کہی ہوئی باتیں ملک کے لئے بھی نقصان دہ ہوں گی اور پارٹیوں کو بھی اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔