پشاور ہائی کورٹ نے لانگ مارچ کے لیےہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر سہیل آفریدی سے جواب مانگ لیا
پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔
رواں ہفتے وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا اس وقت تنقید کی زد میں آئے جب اتوار کی دوپہر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں شرکت کے لیے سہیل آفریدی پشاور سے لکی مروت سرکاری ہیلی کاپٹر پر پہنچے تھے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے ظاہر خان نے ایڈووکیٹ یاسین رضا کے توسط سے وزیرِ اعلیٰ کے خلاف سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال کرنے پر پشاور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست جمع کروائی تھی۔
جمعرات کے روز اس درخواست کی سماعت پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عریق شاہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ وزیر اعلی سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال کر رہے ہیں۔ ایڈووکیٹ یاسین رضا کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلیٰ نے لکی مروت لانگ مارچ کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یاسین رضا نے بتایا کہ گزشتہ برس پشاور ہائی کورٹ نے نومبر 2025 میں ایک فیصلہ جاری کیا تھا جس میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس ہی طرز کا ایک حکم حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دیا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے اس درخواست وزیر اعلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ ماہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی اسی نوعیت کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب ان کی جانب سے لندن کے نجی دورے کے لیے سرکاری طیارہ استعمال کیا گیا تھا۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے میڈیا سیل کی جانب سے شائع کردہ ویڈیو میں سہیل آفریدی کو ہیلی کاپٹر پر لکی مروت پہنچتے ہوئے دکھایا گیا تھا جہاں اُن کے استقبال کے لیے پارٹی جھنڈے اٹھائے ہوئے کارکنان بھی موجود تھے۔ یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا آغاز اتوار کے روز لکی مروت سے ہوا تھا۔
پنڈال میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچنے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی سہیل آفریدی کی ہیلی کاپٹر پر پنڈال آمد کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا سرکاری ہیلی کاپٹر پر لانگ مارچ کی قیادت کے لیے گنڈی چوک (لکی مروت) پہنچنا توہینِ عدالت اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔‘
گورنر کے مطابق ’جب وزیرِاعلیٰ خود عدالت کے احکامات کی پاسداری نہیں کریں گے اور سرکاری وسائل کو سیاسی سرگرمی کے لیے استعمال کریں گے، تو پھر ان کے کارکنوں سے قانون کی پاسداری کی کیا توقع کی جا سکتی ہے۔‘
یاد رہے کہ 2018 میں وزیر اعظم بننے سے قبل عمران خان بھی خیبر پختونخوا میں اپنی جماعت کے دورِ حکومت کے دوران صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی انکوائری کا حصہ رہ چکے ہیں۔ وزارت عظمیٰ کے دور میں وزیر اعظم آفس سے بنی گالہ میں اپنی نجی رہائش گاہ آنے جانے کے لیے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر بھی اُن پر تنقید ہوتی تھی۔