ایڈوانی اور طاقتور بھارتی الیکشن کمیشن

خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالات یا گورنر راج کے نفاذ کے مستقل ذکر سے اْکتا گیا ہوں۔ اس سے توجہ ہٹائی تو تھر کے بچوں کی محنت وصلاحیت پر اٹھائے سوالات 1990کی دہائی میں کراچی پر مسلط ہوئی بدامنی یاد دلانا شروع ہوگئے۔ نام نہاد  دیہی  اور  شہری سندھ میں تقسیم اس کا بنیادی سبب تھی۔ جی کو مطمئن رکھنے والی خبر نظر نہیں آتی اور جھوٹی امید دلانے کی عادت نہیں۔

ریگولر اور سوشل میڈیا پر چھائی ہیجانی خبروں کے ہجوم میں اچانک بھارتی مقبوضہ کشمیر سے شائع ہونے والے ’کشمیر ٹائمز‘کے ویب ایڈیشن پر نگاہ پڑی تو کمینہ دل یہ جان کر بہت خوش ہوا کہ ہندوانتہا پسندی کو ’رتھ یاترا‘کے ذریعے عوامی مقبولیت دلوانے میں اہم کردار ادا کرنے والے لعل کرشن ایڈوانی کو بھارتی الیکشن کمیشن نے ووٹ ڈالنے کے اہل شہریوں کی فہرست میں ابتداًشامل نہیں کیا تھا۔مزید بڑھنے سے قبل یاد دلانا چاہوں گا کہ ہمارے میڈکیٹ جیسے امتحانات کے دوران ہوئی بے ایمانی بے نقاب کرنے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے ان دنوں بھارت کے چیف الیکشن کمشنر سے استعفیٰ کے حصول کے لیے ایک اور احتجاجی تحریک چلارکھی ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعت کے رہ نما راہول گاندھی اپنی ہمشیرہ سمیت اس کی حمایت کررہے ہیں۔ منگل کے روز پارلیمان سے نکل کر احتجاجی مارچ میں شریک ہونے کی کوشش کرتے دونوں بہن بھائی کچھ دیر کے لئے گرفتار بھی کرلئے گئے تھے۔

بھارتی الیکشن کمیشن نے 1990کا آغاز ہوتے ہی اپنی ساکھ کو حیران کن انداز میں اجاگر کیا تھا۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے مہاراشٹرا پر کئی برسوں تک راج کرنے والی مرہٹہ قوم پرست اور مسلم دشمن جماعت شیو سینا کے بانی بال ٹھاکرے کو نفرت پھیلاتی تقاریرکی وجہ سے ووٹ دینے کے حق سے محروم کردیا تھا۔ بھارتی وزیر اعظم انتخابی عمل کے دوران ’ترقیاتی منصوبوں‘ کے ا فتتاح کے لئے سرکاری ہیلی کاپٹر الیکشن کمیشن کے خوف سے استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ مودی سرکار کی سرپرستی میں انتہائی بااختیار اور ہر حوالے سے غیر جانب دار ثابت ہوا بھارتی الیکشن کمیشن تاہم بتدریج اپنی ساکھ کھونا شروع ہوگیا۔ گزشتہ چند برسوں سے بھارتی سیاست پر ہندواکثریت کی بالادستی یقینی بنانے کے عمل میں اہم شراکت دار بن چکا ہے۔

انتخابی فہرستوں کا بے رحم جائزہ مذکورہ تناظر میں اس کا کلیدی ہتھیار ہے۔ بھارت کے 13کروڑ ووٹروں کے نام اس کی بدولت انتخابی فہرستوں سے نکال دیے گئے۔ مضحکہ خیز اتفاق یہ بھی ہے کہ نااہل قرار پائے ووٹروں کی بے پناہ اکثریت مودی سرکار کی مخالف جماعتوں کی حامی تھی۔ بہار میں یہ ہتھیارکارگر ثابت ہوا تو بھارتی بنگال پر انتخابی عمل کے نام پر قابض ہونے کے لئے مذکورہ ہتھیار کو مزید بے رحمی سے استعمال کرتے ہوئے ممتا بنیر جی سے نجات حاصل کرلی گئی۔ ہندوانتہا پسند1990کی دہائی سے مسلسل یہ دہائی مچارہے ہیں کہ بنگلہ دیش کے مسلمان ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بھارت میں گھس رہے ہیں۔ بنگال اور آسام میں مسلمانوں کو اکثریت دلوانے کے بعد بہار اور یوپی میں بھی وہ طاقتور بننا چاہیں گے۔ ٹھوس اعدادوشمار کے بغیر پھیلائی اس کہانی کو معتبر بنانے میں لعل کرشن ایڈوانی نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ بابری مسجد کا انہدام یقینی بنانے کے بعد اس کی جگہ مندر کی تعمیر کے لئے ہوئی ’رتھ یاترا‘ کے دوران وہ یہ دعویٰ کرتا رہا کہ بنگلہ دیش سے 5کروڑ افراد بھارت میں گھس آنے کے بعد وہاں کے شہری بن چکے ہیں۔ ان کی بے پناہ تعداد تخریبی اور دہشت گرد کارروائیوں میں بھی ملوث ہے۔

لعل کرشن ایڈوانی ہمارے سندھ کے حیدر آباد شہر میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا تعلق ’حامل‘ ذات سے ہے۔ اس جاتی سے تعلق رکھنے والے سندھی وڈیروں اور حکمرانوں کے مالی معاملات کے نگران ہوا کرتے تھے۔ ہمارے سندھ میں پیدا ہوکر 1947کے بعد بھارت منتقل ہوئے ایڈوانی کو مگر یوپی کے مسلمان ’پنجاب سے آیا مہاجر‘ پکارتے تھے۔ مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے سیاسی طورپر متحرک کئی مسلمان مصر رہتے ہیں کہ 1947کے دوران ہوئے فسادات کی وجہ سے پاکستان سے بھارت منتقل ہوئے مہاجر ذاتی تجربات کی وجہ سے سیکولر ازم کے کٹر مخالف ہیں۔ بھارتی معاشرے کو سمجھے بغیر ہندوانتہاپسندی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ بنیادی طورپر وہ ’پنجابی مائنڈسیٹ‘ کی پھیلائی آریہ سماجی سوچ کے نمائندے ہیں۔ بھارت کے بارہا سفر کے دوران یوپی سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کو بہت مشکل سے یہ سمجھانا پڑتا کہ ایڈوانی پنجابی نہیں سندھی ہے۔ یہ سمجھاتے ہوئے مجھے پاکستان میں ’پنجابی مائنڈسیٹ‘کا نمائندہ ہونے کے طعنے یاد آتے۔

مذکورہ تناظر میں لعل کرشن ایڈوانی کی بطور ووٹر اہلیت پر بھارتی الیکشن کمیشن کے اٹھائے سوالات مجھے ’مکافاتِ عمل‘ کی روشن علامت محسوس ہوئے۔ موصوف 92برس کے ہوچکے ہیں۔ رواں صدی کے آغاز میں وہ بھارت کا طاقتور ترین وزیر داخلہ ہونے کے علاوہ نائب وزیر اعظم بھی تھا۔ واجپائی کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دیرپاامن کی خاطر اٹھائے اقدامات کو نہایت مکاری سے سبوتاژ کرتا رہا۔ اقتدار سے ر خصت کے بعد تاہم بڑھاپے میں داخل ہوتے ہوئے ہندوانتہا پسند خیالات سے رجوع کرنا شروع ہوگیا۔ اس کے نظریات میں نرمی مگر سیاسی حوالے سے بے اثر رہی۔ دو سے زیادہ دہائیوں تک ہندوانتہا پسندی کا نمائندہ چہرہ ہوتے ہوئے ایڈوانی کا تازہ ترین ایڈریس  بھارتی الیکشن کمیشن کے ریکارڈ میں موجود نہیں تھا۔انتخاب میں ووٹ ڈالنے کے اہل افراد کی فہرست سے نکالے افراد کو بھارتی پاسپورٹ کے حصول یا تجدید کے لئے بھی نااہل تصور کیا جاتا ہے۔ ایڈوانی اس فہرست میں شامل ہونے کے قریب تھا تو اس کی بہو کو خبر ہوگئی۔ اس نے بھارتی الیکشن کمیشن کے اہلکاروں پر چیختے چلاتے ہوئے ریکارڈ درست کروایا۔

بھارت کو پانچ کروڑ بنگلہ دیشی باشندوں کی دراندازی سے خوفزدہ بنانے والے ایڈوانی کے ساتھ ہوئے سلوک سے کینہ بھرے دل کی بہت تسلی ہوئی۔ اس نے جو کہانی گھڑی تھی، بھارت کی انتخابی فہرستوں میں متعصبانہ نظرثانی کا جواز بنی۔ بھارتی بنگال پر ہندو انتہا پسندوں کا غلبہ اسی کہانی کے ذریعے یقینی بنایا گیا ہے۔ اس کہانی کے موجد ایڈوانی کا نام مگر ’شدھ‘ بنائی انتخابی فہرست سے غائب ہوسکتا تھا اور اس کی بدولت ہمیں جیسی کرنی ویسی بھرنی کی عملی مثال مل سکتی تھی۔

(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)