سہیل آفریدی کی چُھٹی؟
- تحریر انصار عباسی
- جمعرات 08 / اکتوبر / 2026
خیبر پختونخوا اس وقت محض ایک سیاسی کشمکش کا مرکز نہیں بلکہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں صوبائی سیاست، دہشت گردی کے خلاف قومی پالیسی، وفاق اور صوبے کے تعلقات اور ریاستی اداروں کے باہمی اعتماد جیسے بنیادی سوال ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا اسلام آباد مارچ جاری ہے جبکہ دوسری طرف وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں یہ احساس مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ اب معاملہ صرف ایک سیاسی احتجاج یا مارچ کا نہیں رہا۔ سب سے بڑا سوال دہشت گردی کے خلاف پالیسی کا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، خصوصاً ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل ہے، دہشت گردی کے خلاف پالیسی کو کسی ایک صوبائی حکومت کی الگ پالیسی نہیں بنایا جا سکتا۔ قومی سلامتی، سرحدی انتظام، افغانستان سے متعلق پالیسی، دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ صوبائی حکومت کا تعاون ایسے معاملات ہیں جن میں وفاق اور صوبے کو ایک ہی سمت میں چلنا ہوتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جس پر وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا بنیادی اعتراض سامنے آ رہا ہے۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ سکیورٹی اداروں کو صوبائی حکومت کی وہ مکمل معاونت اور تعاون نہیں مل رہا جس کی موجودہ حالات میں ضرورت ہے۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بعض بیانات سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی کو اسی انداز میں قبول کرنے کیلئے تیار نہیں جس انداز میں وفاق اور سکیورٹی ادارے اسے دیکھتے ہیں۔ ان کے بیانات میں بعض اوقات اس معاملے کو ایک مختلف سیاسی زاویے سے پیش کیا جاتا ہے، جس سے وفاق اور صوبے کے درمیان پہلے سے موجود خلیج مزید گہری ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو درپیش دہشت گردی کا مسئلہ کسی ایک جماعت، حکومت یا صوبے کا مسئلہ نہیں۔ افغانستان کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا، اس میں بھارت کا گندا کردار، دہشت گرد گروہوں کی سرحد پار موجودگی اور ان کے بیرونی روابط کے بارے میں ریاستی مؤقف بارہا سامنے آ چکا ہے۔
اس لیے اس جنگ کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنا ہی قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ لیکن اصل سوال اب یہ ہے کہ اگر وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان اس بنیادی معاملے پر اتفاق پیدا نہیں ہوتا تو راستہ کیا رہ جاتا ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس نے خیبر پختونخوا کے مستقبل کے بارے میں کئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ ان میں وزیراعلیٰ کے خلاف قانونی یا آئینی راستہ اختیار کرنے سے لے کر دیگر غیر معمولی انتظامی و سیاسی اقدامات تک مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایمرجنسی، گورنر راج یا آئینی و قانونی دائرے میںرہ کر کوئی ایسا راستہ جس کے ذریعے موجودہ سیاسی کشمکش ختم کی جا سکے، ان امکانات پر بھی گفتگو ہو رہی ہے۔ تاہم ان میں سے کسی ایک آپشن کو حتمی فیصلہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ ایک اور امکان یہ بھی زیر بحث ہے کہ وزیراعلیٰ کسی ایسے مقدمے میں نااہلی یا سزا کا سامنا کریں جس کے نتیجے میں ان کا عہدہ ختم ہو جائے۔ لیکن ایسا کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو اس کے سیاسی اثرات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
خیبر پختونخوا وہ صوبہ ہے جہاں پی ٹی آئی کو غیر معمولی عوامی حمایت حاصل رہی ہے۔ صوبائی اسمبلی میں اس کی مضبوط اکثریت ہے اور عمران خان کے حوالے سے بھی یہاں جذبات دوسرے صوبوں کے مقابلے میں زیادہ گہرے ہیں۔ لہٰذا اگر کسی بھی غیر معمولی طریقے سے موجودہ صوبائی حکومت کو ہٹانے یا تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ صرف پشاور کی حکومت تبدیل کرنے کا معاملہ نہیں ہوگا، اس کے اثرات پورے ملک کی سیاست پر پڑ سکتے ہیں۔ دوسری طرف وفاق اور اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں یہ سوچ بھی موجود ہے کہ موجودہ صورتحال کو مزید طول دینا ریاست کیلئے قابل قبول نہیں۔ خصوصاً اسلام آباد کی طرف مارچ، سڑکوں کی بندش اور احتجاجی سیاست کو اگر دہشت گردی اور صوبائی سکیورٹی کے مسئلے کے ساتھ ملا دیا جائے تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
اسی لیے یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ پہلے مارچ کا مسئلہ ختم ہونا چاہیے، اس کے بعد ہی وسیع تر سیاسی معاملات پر بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے دوبارہ مذاکرات کی بات یقیناً ایک مثبت اشارہ ہے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا پی ٹی آئی بھی موجودہ حالات میں مارچ کو روکنے پر آمادہ ہوگی؟ اگر مارچ جاری رہتا ہے اور دوسری طرف وفاقی حکومت کا اصرار برقرار رہتا ہے کہ احتجاجی دباؤ کے ماحول میں مذاکرات نہیں ہو سکتے تو پھر سیاسی ڈیڈ لاک مزید گہرا ہونے کا خدشہ ہے۔ اصل امتحان شاید یہی ہے۔ ریاست کیلئے یہ فیصلہ آسان نہیں کہ خیبر پختونخوا کی منتخب حکومت کے خلاف کوئی غیر معمولی قدم اٹھایا جائے۔ پی ٹی آئی کیلئےبھی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صوبائی حکومت کی سیاسی بقا اور دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی دو الگ معاملات ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوری حق ہے، لیکن قومی سلامتی کے بنیادی معاملات پر ریاستی اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان کم از کم عملی تعاون ناگزیر ہے۔ آنے والے دن اور ہفتے اسی لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
کیا مذاکرات کوئی راستہ نکال پاتے ہیں؟ کیا مارچ رک جاتا ہے؟ کیا سہیل آفریدی سیاسی طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھتے ہیں؟ یا پھر وفاق کو کوئی ایسا قدم اٹھانا پڑے گا جس کے اثرات خیبر پختونخوا سے کہیں آگے تک جائیں؟ فیصلہ جو بھی ہو، ایک بات واضح ہے: خیبر پختونخوا میں پیدا ہونے والا بحران صرف ایک وزیراعلیٰ یا ایک مارچ کا بحران نہیں۔ یہ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے، دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاقِ رائے، ریاستی اداروں اور سیاسی حکومتوں کے باہمی تعلق کا امتحان بھی ہے۔ اور اگر اس امتحان میں سیاسی دانش مندی ناکام ہوئی تو اس کے نتائج صرف پشاور یا اسلام آباد تک محدود نہیں رہیں گے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)