عقل کی بات ممنوع ہے
- تحریر خورشید ندیم
- جمعرات 08 / اکتوبر / 2026
مسئلہ ہماری نفسیاتی ساخت کا ہے۔ مذہب ہو یا سیاست، یہ جہاں ظہور کرے گی، ایک جیسے نتائج دے گی۔عقل و دانش کی یہ بات ہمیں زہر لگتی ہے۔ ہر وہ آدمی ہمارا دشمن ہے جو عقلِ عام کی بات کرے۔جسم کا وہ حصہ جہاں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ عقل کا گھر ہے،وہاں بھی جذبات کا بسیرا ہے۔
یہی وہ نفسیات ہے جس نے ہمیں طالبان کا مداح بنایا ہے۔ یہی ہے جو سیاست میں نمودار ہوئی تو ہم ایک کلٹ کے پیچھے لگ گئے۔ بچھڑے کو خدا بنانے کی روایت صرف بنی اسرائیل تک محدود نہیں۔ یہ نفسیات ہر جگہ ہے اور ایک جیسے نتائج دے رہی ہے۔سیاست اور بصیرت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بصیرت کے بغیر سیاست ایسے ہی ہے جیسے انسانیت کے بغیر انسان۔ سیاست معاملہ فہمی سکھاتی ہے۔ یہ بند گلی سے راستہ نکالنا ہے۔ سیاستدان اگر عقل کو طلاق دے دے تو پھر سیاست کا گھر اُجڑ جاتا ہے۔ انقلاب کا تصور،اس مفہوم میں سیاست کی ضد ہے۔ تصادم اور ٹکراؤ کے لیے بھینسا ہونا کافی ہے۔ انسان تو جنگلوں اور پہاڑوں میں سے راستے نکالتا ہے‘ درختوں اور پتھروں سے سر نہیں پھوڑتا۔ خود کشی انسان کے لیے حرام قرار دی گئی ہے‘ بھینسے کے لیے نہیں۔
سیاسی نظریات اور تاریخ کا علم اس کے سوا کیا ہے کہ سیاسی عمل کو سمجھنے کی ایک شعوری اور عقلی کاوش ہے۔ یہیں سے قوموں کے عروج و زوال کے اصول اخذ ہوتے ہیں۔ اہلِ علم نے یونانی سلطنت کے زوال کی داستان لکھی۔ اُمویوں اور عباسیوں کی کہانی بیان کی۔ ان سے نتائج اخذ کیے۔ ابنِ خلدون نے پہلے تاریخ لکھی، اس کے بعد وہ شہرہ آفاق مقدمہ لکھا جس میں بتایا کہ دنیا میں قومیں اگر ابھرتی ہیں تو کس اصول پراور ڈوبتی ہیں تو بھی یہ اتفاقی واقعہ نہیں ہوتا۔ کسی کو اقتدار ملتا ہے تو اس کے اسباب ہوتے ہیں۔ انہی اسباب کی دریافت ہے جس نے ابنِ خلدون کو عظیم بنایا۔ انہوں نے متوجہ کیا کہ سیاسی اقتدار کس طرح سیاسی عصبیت سے جڑا ہوا ہے، اس کا ادراک کیے بغیر سیاسی عمل کو نہیں سمجھا جا سکتا۔ ہمارا معاملہ کیا ہے؟ یہاں ابنِ خلدون کے تصورِ عصبیت کا اطلاق کریں تو ہماری وہی نفسیات روبہ عمل ہوتی ہے جسے عقل سے دشمنی ہے۔ جس کا خیال ہے کہ عقل کا سیاست سے کیا تعلق؟ یہ گروہ پھر جہالت کے ہر ہتھیار کے ساتھ اُس پر پل پڑتا ہے جو اسے ابنِ خلدون کا تصورِ عصبیت سمجھانا چاہتا ہے۔ یہ لوگ صف کے دونوں اطراف پائے جاتے ہیں جو بے علم ہے وہ اسے قابلِ التفات نہیں سمجھتا۔ جو جاہل ہے‘ وہ زبان دراز کرتا ہے اور قلم بھی۔
افادۂ عام کے لیے اپنی بات دہراتا ہوں۔ جب ایک فرد یا گروہ کو معاشرے میں سیاسی عصبیت حاصل ہو جاتی ہے تو اس کے بعد عام قانون اور روایت کے مطابق، اس کے ساتھ معاملہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر کسی قانون کا اطلاق نتیجہ خیز ہوتا ہے، نہ کسی سماجی ضابطے کا۔ پاکستان میں یہ عصبیت ایک دور میں ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل رہی۔ پھر نواز شریف صاحب کو ملی۔ اب یہ عصبیت عمران خان کو حاصل ہے۔ کلٹ اور عصبیت کا بہت گہرا تعلق ہے۔ عصبیت، عام سیاستدان کو ملے تو ایک عقلی بحث کا موضوع بن سکتی ہے۔ کسی کلٹ کو ملے تو عقل کو دیس نکالا دے دیا جاتا ہے۔ عمران خان صاحب کا معاملہ اگر مدت سے حل طلب ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ ان کے مداح اس بات کو سمجھ سکے ہیں نہ ان کے مخالفین۔ اسی لیے ’سٹیٹس کو‘ ہے۔ وقت جیسے تھم گیا ہے۔
بھٹو صاحب پر قتل کا مقدمہ بنا تو ان کے مداحوں نے اسے مسترد کر دیا۔ نواز شریف صاحب پر قائم مقدمات جعلی قرار پائے۔ عمران خان صاحب کے چاہنے والے بھی یہی کہتے ہیں کہ ان کے خلاف دائر مقدمات بے بنیاد ہیں۔ عصبیت ایک حجاب ہے جو حقیقت اور تاثر کے مابین حائل ہو جاتی ہے۔ عمران خان صاحب کے خلاف جاری مہم، ان کی سیاسی حمایت کو کم نہیں کر سکی۔ میڈیا پر ان کا نام لینا ممنوع ہے۔ کرکٹ کی بات ہوتی ہے تو ان کا ذکر نہیں ہوتا۔ اس سے ان کی مقبولیت متاثر نہیں ہوئی۔ ریاستی قوت کا استعمال زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکا۔ ریاست کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ یہ ساری مہم بے نتیجہ کیوں ہے؟ اس کی حکمتِ عملی میں کیا خلا ہے؟ میرا خیال ہے اس کا جواب ابنِ خلدون نے دیا ہے۔ اب ابنِ خلدون سے کون پوچھے؟ جس معاشرے میں ان کا حوالہ گناہ ہو، اس میں معاملات کا علمی سطح پر تجزیہ کیسے ہو سکتا ہے؟ سیاسی عصبیت غلط اور صحیح کا فیصلہ نہیں کرتی۔ یہ ایک زمینی حقیقت کا بیان ہے جس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے کوئی حکمتِ عملی نہیں بنائی جا سکتی۔
اسی طرح جب کہا جاتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو عقل سے کام لیتے ہوئے اپنے لیے راستہ تلاش کرنا چاہیے تو کلٹ زدہ ذہنیت میدان میں نکل پڑتی ہے کہ تم نے ہم سے عقل کی بات کیوں کی؟ تم نے یہ کیوں کہا کہ ہمیں اپنے کارکنوں کے جان و مال کا تحفظ کرنا چاہیے؟ تم ہوتے کون ہو ہمیں عقل کی راہ دکھانے والے؟ عقل سے ہمارا کیا لینا دینا؟ عقل تو کمزور لوگوں کا ہتھیار ہے۔ یہ بزدلوں کا کام ہے۔ ہم تو ٹکرائیں گے کیونکہ ہم حق پر ہیں۔ یہ بات سمجھنے کے لیے بھی عقل چاہیے کہ حق پر قائم رہنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ وہ نفسیات ہے جو دوست کو دشمن بنا دیتی ہے۔ پھر ہر وہ مشورہ زہر لگتا ہے جس میں عقل کی بات کی جاتی ہے۔
مجھے یہ تجربہ دوسری بار ہو رہا ہے۔ پہلی بار اس وقت ہوا جب جہاد کے نام پر مسلم معاشروں کا امن بر باد کیا جا رہا تھا۔ ہم جیسے اس وقت بھی دہائی دے رہے تھے کہ مسلمانوں اور غیر محارب کا قتل، شریعت میں شدید جرم ہے۔ جو لوگ یہ علم اٹھائے ہوئے ہیں وہ دنیا کو فساد کی آماجگاہ بنا دیں گے۔ شرعی کے ساتھ اس کے عقلی دلائل بھی دیے گئے۔ اس وقت بھی ہمارا سامنا اسی نفسیات سے ہوا۔ ہمیں دشمن کا طرفدار بتایا گیا۔ جو یہ دہائی دے رہے تھے، انہیں قتل کیا گیا یا ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔ عقل کو اس وقت بھی دیس نکالا دے دیا گیا۔ ہر طرف ایک ہی سوچ کا غلبہ تھا: ’مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘۔ ہماری بات ریاست نے مانی نہ لوگوں نے۔ آج دونوں مان رہے ہیں مگر بعد از خرابیٔ بسیار۔
آج پھر ہمیں اُسی صورتحال کا سامناہے۔ وہ نفسیات جو اُس وقت جہاد کے نام پر کار فرما تھی، آج سیاست میں روبعمل ہے۔ ریاست کو طاغوت بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ حکومت اور ریاست کا فرق ختم ہو چکا۔ نہ ریاست سیاسی عصبیت کو سمجھ پا رہی ہے نہ اس کے مخالفین کی حکمتِ عملی میں سیاسی شعور نام کی کوئی شے موجود ہے۔ اس کی قیمت ملک ادا کر رہا ہے۔ عوام ادا کر رہے ہیں۔ ’ضد اور عزیمت میں فرق ہوتا ہے‘۔ ’سیاست بے عقلوں کا کام نہیں‘۔ یہ دو ’اقوالِ زریں‘ ہی اگر قبول کر لیے جائیں تو ملک میں استحکام آ سکتا ہے۔ ایسا مگر کیوں ہو گا؟
جہاں ابنِ خلدون کے ذکر سے لوگ چڑ جائیں اور جہاں عقلِ عام کی بات گالی سمجھی جائے وہاں ’اقوالِ سیاہ‘ ہی کو حرزِ جاں بنایا جا سکتا ہے۔ لوگ اپنی خو نہیں بدلیں گے اورہم بھی مجبورِ وفا ہیں:
مجھے ہے حکمِ اذاں لا الٰہ الا اللہ
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)