شرائط اورضد : کیا پاکستانی سیاست دان بس یہی جانتے ہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 08 / اکتوبر / 2026
حکومت اور تحریک انصاف نے بدستور سینگ پھنسائے ہوئے ہیں۔ بحران بس اتنا ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرکے اور مذاکرات شروع کرے۔ لیکن وزیر اعظم بھی یہ بتانے کو تیار نہیں ہیں کہ یہ بات چیت کس موضوع پر ہوگی۔ اور تحریک انصاف چاہتی ہے کہ حکومت عمران خان کو رعائتیں دے تاکہ وہ اعلان کرسکے کہ اس کا لانگ مارچ اسلام آباد پہنچابھی نہیں اور حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے۔
یہی وجہ ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈروں محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس نےٹیلی فون پر رابطہ کرنے کے بعد اعلا ن کیا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کیے بغیر حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع نہیں ہوں گے۔ ایک طرف لانگ مارچ ختم کرنے کی شرط ہے تو دوسری طرف سے ملاقات کی شرط عائد کرکے جیسے کو تیسا کا ماحول بنا یا جارہا ہے۔ لیکن ان دونوں لیڈروں نے بھی یہ بتانے کی زحمت نہیں کی کہ جب لانگ مارچ اور تحریک انصاف کے احتجاج کا واحد مطالبہ عمران خان سے ملاقاتیں بحال کرانا ہے تو یہ مقصد حاصل ہونے کے بعد ان کا وفد حکومت سے کیا بات کرے گا؟
دیکھا جاسکتا ہے کہ فریقین میں سے کسی کے پاس کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ اگر بین السطور کوئی ایجنڈا موجود ہے تو وہ یہی ہے کہ حکومت اقتدار پر گرفت مضبوط رکھنا چاہتی ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ یقینی بنانے کی خواہش محسوس کی جاسکتی ہے کہ 2029 یا اس سے آگے پیچھے جب بھی انتخابات منعقد ہوں تو فارم 47 سے ملتا جلتا کوئی ایسا جھرلو دریافت ہوجائے کہ اسی گروپ کو مزید پانچ سال اقتدار نصیب رہے۔ تحریک انصاف کی طرف دیکھا جائے تو وہاں سے بھی اقتدار کی خواہش کے علاوہ کوئی مطمح نظر دکھائی نہیں دیتا۔ بتایا جاتا ہے کہ عمران خان کے علاوہ کوئی پاکستان کے مسائل حل نہیں کرسکتا۔ اس کو وزیر اعظم بنوانا ہے۔ لیکن اس سوال کا جواب توبعد کی بات ہے ،تحریک انصاف کا کوئی لیڈر یا جوشیلا یہ سوال سننے پر بھی آمادہ نہیں ہوگا کہ عمران خان کو وزیر اعظم بنوانے کے لیے سیاسی عمل جاری و ساری ہونا چاہئے۔ انتخابات کے لیے راستہ ہموار ہو، الیکشن کمیشن کو خود مختار بنانے اور شفاف انتخابات کرانے کے قابل بنوانے کے لئے کوئی طریقہ کار وضع کیا جائے۔ جب تک یہ بنیادی آئینی جمہوری تقاضے پورے نہ ہوں تو عمران خان کیسے وزیر اعظم بنیں گے؟ اور اس رائے کے بقول جو واحد شخص ملک کے مسائل حل کرنے کی استعداد رکھتا ہے وہ کیسے یہ کردار ادا کرسکے گا؟
یہ سوال ذرا مشکل ہیں ، اسی لیے جواب دینے کی بجائے انہیں اٹھانے ہی کی اجازت دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔ تحریک انصاف پہلے سارا زور عمران خان کو رہا کرانے پر صرف کررہی تھی ، دو سال بعد اب نوبت محض ملاقاتوں اور علاج کرانے کے مطالبے تک آگئی ہے۔ تحریک انصاف مقبولیت اور عوامی پزیرائی کے جیسے بھی دعوے کرے لیکن اس کی واحد خواہش یہی ہے کہ کسی طرح اسٹبلشمنٹ سے اس کا سلسلہ جنبانی شروع ہوجائے۔ پرانے گلے شکوے دور کرکے ایک بار پھر’ون پیج‘ کا ماحول بن جائے تاکہ ’چوروں لٹیروں‘ کو جیلوں میں بند کرکے ملک کا واحد دیانت دار اپنا حق حاصل کرسکے۔ باقی ملک کے مسائل اور عوام کی ضرورتیں، ان کے بارے میں تحریک انصاف کا ریکارڈ دیکھنا ہو تو 2018 سے 2022 کے دوران اس کے دور حکومت کا مشاہدہ کرلیا جائے۔ یا پھر خیبر پختون خوا میں عوام کو میسر سہولتوں کا جائزہ لے لیا جائے جہاں پارٹی 2013 سے حکمران ہے۔ کسی بھی شعبہ میں خیبر پختون خوا کے لوگوں کی حالت دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر نہیں ہے لیکن مقبولیت کے نعروں اور عمران خان کو لیڈر سے بڑھا کر مرشد یا اوتار کے مرتبے پر فائز کرکے جواب دہی کا ہر راستہ مسددود کردیا گیا ہے۔ جو پارٹی سب سیاسی دشمنوں کو بدعنوان اور نااہل قرار دے کر جیلوں میں بند کرنے کا ایجنڈا رکھتی ہو، وہ جب خود احتسابی سے اتنا فاصلہ قائم رکھے گی تو صرف ’عقیدت مند ‘ ہی اس کی باتوں پر یقین کرسکیں گے۔
اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے قبضے اور امریکی فوجوں کے افغانستان سے انخلا کے بعد اسٹبلشمنٹ نے عمران خان کی حکومت کو باور کرایا تھا کہ اگر تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیا جائے اور افغان جیلوں سے رہ اہونے کے بعد انہیں ملک واپس آنے اور نارمل زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے تو حالات بہتر ہوجائیں گے اور یہ شدت پسند گروہ اپنی موت آپ مرجائے گا۔ اسٹبلشمنٹ کی یہ خواہش پوری نہیں ہوئی اور اسے ٹی ٹی پی کے تشدد میں مسلسل اضافہ کے بعد اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑی ۔ حالات نے یوں کروٹ لی کہ پاکستان کی سرپرستی میں کابل پر قبضہ کرنے والے افغان طالبان بھارت کی گود میں جا بیٹھے اور اپنے پرانے مربی پاکستانی فوج و اسٹبلشمنٹ کے ساتھ دشمنی کا رشتہ استوار کرلیا۔ اب بھارت افغانستان کے راستے پاکستان کو کمزور کرنے کا ہر حربہ استعمال کررہا ہے اور افغان طالبان کی حکومت ہو یا تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد، دونوں بھارتی اشاروں پر چل رہے ہیں تاکہ پاکستان کو زخمی کرسکیں۔
تحریک انصاف البتہ اس نئی صورت حال کا ادراک کرنے اور ملک دشمن عناصر کے گٹھ جوڑ اور دہشتگردی کے حالات کو سمجھنے کی بجائے اسٹبلشمنٹ کا رٹایا ہؤا پرانا آموختہ دہرانے پر مصر ہے۔ وہ ٹی ٹی پی کے تشدد کے خلاف فوجی کارروائیوں کا ساتھ دینے کی بجائے، پرانی ڈگر پر قائم ہیں کہ دہشت گردوں کو برا نہ کہا جائے، وہ تو ہمارے پیارے ہیں ، انہیں سمجھا بجھا کر گلے لگا لیا جائے۔ سہیل آفریدی لانگ مارچ کی قیادت میں اسی سبق کو دہرا کر اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ جس اسٹبلشمنٹ نے تحریک طالبان سے مصالحت کا راستہ دکھایا تھا، وہی اب انہیں ملک و قوم کے مفاد کے خلاف سرگرم عناصر سمجھ رہی ہے۔ تاہم تحریک انصاف کے نزدیک وہی فوج اور اسٹبلشمنٹ ملک دوست ہوسکتی ہے جو عمران خان کو اقتدار میں لانے میں معاونت کرے۔
اس پس منظرمیں شہباز شریف کی حکومت جو اب ہائبرڈ انتظام سے مستفید ہورہی ہے، چاہتی ہے کہ تحریک انصاف اب پرانا سبق بھول جائے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نیا سبق یاد کرلے۔ مگر کوڑھ مغز شاگرد کی طرح تحریک انصاف کو نیا سبق صرف اسی وقت یاد ہوگا جب اسٹبشلنٹ اسے اقتدار دینے کا وعدہ کرے گی۔ گزشتہ چار سال کے دوران تحریک انصاف نے تصادم اور فوج دشمنی پر مبنی جو سیاست کی ہے یا اس کے ساتھ وابستہ عناصر نے جیسے ملکی نظام کو تہ و بالا کرنے میں کردار ادا کیا ہے، اس کی وجہ سے اسٹبلشمنٹ عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ مواصلت و مصالحت کے سارے دروازے بند کرچکی ہے۔
شہباز شریف چونکہ اس لڑائی کا فائدہ حاصل کررہے ہیں، اس لیے وہ تو چاہیں گے کہ تحریک انصاف کا ہر قدم ایسی سمت اٹھے کہ اسٹبلشمنٹ اس سے مزید نالاں ہوجائے۔ خیبر پختون خوا کا لانگ مارچ درحقیقت شہباز شریف کے اس خواب کی تکمیل میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ ذاتی ہوس اقتدار کے ماحول میں ملک و قوم کی ضرورتیں اور عوام کی پریشانیاں ثانوی حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔ حالانکہ اگر ملک کے سیاست دان اور سیاسی پارٹیاں آئین کی بالادستی اور سیاسی معاملات پر اسٹبلشمنٹ کی دسترس کم کرنے کی خواہش میں دیانت دار ہوتے تو وہ سب سے پہلے باہمی اختلافات دور کرکے کسی ایسے منصوبہ پر کام کرتے جو سیاسی قوتوں کو توانائی اور سیاسی عمل پر عوام کا اعتماد بحال کرتا۔ عام عقل کا انسان بھی جان سکتا ہے کہ صرف سیاسی گروہوں کا باہمی اشتراک ہی ملک میں جمہوری روایت پر مبنی سیاسی عمل مضبوط کرنے کا باعث ہوگا۔
تاہم جب سارا جھگڑا اقتدار کا حصول ہو تو اس میں جمہوریت، آئین اور انصاف محض نعرے بن جاتے ہیں۔ ضد اور شرطوں کے ذریعے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش ہوتی ہے۔ سیاست دانوں کا کل سرمایہ نعروں و الزامات کے ذریعے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی خواہش رہ جاتا ہے۔ ایسے میں غیر منتخب ادارے مضبوط اور بااثر ہوتے ہیں اور عوام لاچار اور بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں۔ پاکستان میں لانگ مارچ ہو یا مذاکرات کے لئے تگ و دو ، انہیں اسی ایک تصویر کی علامتیں سمجھا جاسکتا ہے۔