قانون کی بالادستی کے لیے کام کرنے پر جنوبی افریقہ کی قانون دان کو نوبل امن انعام
جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ممتاز قانون دان اور سابق اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ناوانیتھم ’ناوی‘ پلے کو امن، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے خدمات کے اعتراف میں نوبل امن انعام 2026 سے نوازا گیا ہے۔
نوبل کمیٹی کے سربراہ یورگن واٹنے فریدنیس نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ناوی پلے نے عالمی سطح پر امن، انصاف اور بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا، جس کے اعتراف میں انہیں اس سال کا نوبل امن انعام دیا جا رہا ہے۔ نوبل امن انعام 2026 کی فاتح ناوی پلے نے انعام ملنے کی خبر پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ابتدا میں یقین ہی نہیں آیا کہ یہ خبر واقعی درست ہے۔
انعام کے اعلان کے بعد اپنے مختصر خطاب میں انہوں نے کہا کہ انہیں ایک کال موصول ہوئی اور ایک شخص نے بتایا کہ وہ نوبیل امن انعام جیت گئی ہیں۔ ناوی پلے نے ہنستے ہوئے کہا: ’یہ کوئی مذاق ہی ہونا چاہیے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’آپ کی تالیاں میرے لیے بہت معنی رکھتی ہیں، لیکن چونکہ میں ایک وکیل اور جج ہوں، اس لیے میں اب بھی اس خبر کی تصدیق کرنا چاہتی ہوں۔‘
85 سالہ ناوی پلے نے حاضرین سے خوشگوار انداز میں مخاطب ہوتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر بھی چٹکی لی۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر آپ تھوڑی اور تالیاں بجائیں تو شاید میں یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ بھی بانٹ لوں۔‘ یہ تبصرہ گزشتہ سال کی نوبل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کے اس اقدام کی جانب اشارہ تھا، جب انہوں نے جنوری میں اپنا تمغہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پیش کیا تھا۔
85 سالہ ناوی پلے جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ایک غریب انڈین نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد بس ڈرائیور تھے۔ نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کے دور میں انہوں نے انسانی حقوق کے لیے کام کا آغاز کیا اور 1967 میں صوبہ نیٹل میں وکالت کا دفتر قائم کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔
بعد ازاں وہ جنوبی افریقہ میں ہائی کورٹ کی جج مقرر ہونے والی پہلی غیر سفید فام خاتون تھیں۔ اپارتھائیڈ مخالف کارکنوں کے مقدمات لڑنے کے بعد انہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے روانڈا کے لیے بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل کی جج منتخب کیا، جہاں انہوں نے آٹھ سال خدمات انجام دیں، جن میں چار سال بطور صدر شامل ہیں۔
ناوی پلے حالیہ برسوں میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔ وہ اس وقت بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اس مقدمے سے بھی وابستہ ہیں جس میں میانمار پر نسل کشی کے الزامات زیرِ سماعت ہیں۔
ناوی پلے کو دنیا بھر میں انسانی حقوق، انصاف اور جوابدہی کے اصولوں کے فروغ کے لیے طویل خدمات کے باعث عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہے۔
نوبل امن کا اعلان ہونے سے پہلے پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے امید ظاہر کی تھی کہ سال رواں ک اانعام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دی اجائے گا۔ پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرچکا ہے۔ شہباز شریف نے ’ایکس‘ پر ایک بیان میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا میں امن کو فروغ دینے میں ایک تاریخی کردار ادا کیا۔ ’اُن کی بروقت مداخلت نے پاکستان اور انڈیا کو کشیدگی کے دہانے سے واپس لانے اور جنگ بندی یقینی بنانے میں مدد دی جو آج تک برقرار ہے۔‘