اپنی دنیا آپ پیدا کر
- تحریر طارق محمود مرزا
- جمعہ 09 / اکتوبر / 2026
اقبال کو پڑھنا دراصل اپنے آپ کو پڑھنا ہے۔ ان کے اشعار محض الفاظ کی خوب صورت ترتیب نہیں بلکہ انسانی روح کے دروازے پر دستک ہیں۔ ان کے ہاں شعر کبھی چراغ بن کر راستہ دکھاتا ہے، کبھی آئینہ بن کر انسان کو اس کا اصل چہرہ دکھاتا ہے اور کبھی تازیانہ بن کر سوئی ہوئی قوموں کو بیدار کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال کا کلام ایک صدی گزر جانے کے باوجود پرانا نہیں ہوا۔ وقت بدلا، دنیا بدلی، انسان کے مسائل کی نوعیت بدلی، لیکن اقبال کے سوال آج بھی وہی ہیں۔ انسان کون ہے۔ اس کے اندر پوشیدہ قوتیں کیا ہیں اور وہ اپنی زندگی کو محض حالات کا تابع بنانے کے بجائے اپنی تقدیر کا معمار کیسے بن سکتا ہے؟ اسی فکری سلسلے کی ایک نہایت معنی خیز کڑی ہے:
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی
یہ صرف ایک شعر نہیں، اقبال کے تصورِ حیات کا ایک پورا فلسفیانہ منشور ہے۔ اقبال یہاں ’زندہ‘ ہونے کو محض سانس لینے کے معنی میں استعمال نہیں کرتے۔ زندہ وہ ہے جس کے اندر فکر ہے، احساس ہے، ارادہ ہے، تخلیق کی خواہش ہے، جستجو ہے اور عمل کی قوت ہے۔ جو شخص دوسروں کے بنائے ہوئے راستوں پر آنکھیں بند کرکے چلتا رہے، جس کی اپنی کوئی آرزو، کوئی فکری سمت اور کوئی تخلیقی پہچان نہ ہو، وہ بظاہر زندہ ہو سکتا ہے، مگر اقبال کے نزدیک زندگی کے حقیقی مفہوم سے محروم ہے۔ دوسرے مصرعے میں اقبال نے ’ضمیرِ کن فکاں‘ کی ترکیب کے ذریعے انسان کے اندر موجود اس تخلیقی قوت کی طرف اشارہ کیا ہے جو اسے محض مادی دنیا کا تماشائی نہیں رہنے دیتی۔ قرآن کا تصورِ تخلیق ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی امر کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے لیے ’’کن‘‘ کا حکم کافی ہے۔ اقبال اسی تخلیقی قوت کا ایک عکس انسان کے اندر دیکھتے ہیں۔ انسان کو عقل، شعور، ارادہ اور اختیار عطا ہوا ہے؛ اس لیے وہ اپنے وجود کو سنوار سکتا ہے، اپنے ماحول کو بدل سکتا ہے اور اپنی دنیا کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔اقبال کے نزدیک زندگی جمود کا نام نہیں بلکہ مسلسل تخلیق کا نام ہے۔ اسی لیے ان کی شاعری میں حرکت، پرواز، جستجو، عشق اور عمل بار بار سامنے آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
گویا منزل کوئی آخری پڑاؤ نہیں۔ انسان جس بلندی کو آج اپنی انتہا سمجھ رہا ہے، کل اس سے آگے ایک نئی بلندی اس کی منتظر ہے۔ یہی اقبال کی فکر کا امتیاز ہے کہ وہ انسان کو حاصل شدہ کامیابی پر بیٹھنے نہیں دیتے بلکہ ہر کامیابی کے بعد ایک نئی جستجو کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔قدرت کی طرف دیکھیے تو ہر طرف حرکت اور نشوونما کا یہی قانون نظر آتا ہے۔ ایک چھوٹا سا بیج مٹی کے اندھیرے میں دفن ہوتا ہے، مگر وہ اسی تاریکی کو اپنی قبر نہیں بناتا۔ اس کے اندر زندگی کی ایک ایسی قوت ہوتی ہے جو اسے زمین کا سینہ چیر کر روشنی کی طرف بڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔ اقبال اسی منظر کو دیکھ کر کہتے ہیں:
ظلمت کدۂ خاک پہ شاکر نہیں رہتا
ہر لحظہ ہے دانے کو جنوں نشوونما کا
یہاں ’دانا‘ محض نباتاتی بیج نہیں، انسانی وجود کی علامت بھی بن جاتا ہے۔ جس طرح بیج اپنی پوشیدہ قوت کو بروئے کار لا کر درخت بنتا ہے، اسی طرح انسان کے اندر بھی بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بیج اپنی فطرت کے قانون سے انحراف نہیں کرتا، مگر انسان کبھی اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے سے انکار کرتا ہے اور کبھی خوف، مایوسی، احساسِ کمتری اور آسائش پسندی کے ہاتھوں انہیں دفن کر دیتا ہے۔ اسی لیے اقبال کی فکر کا مرکز ’خودی‘ ہے۔ اقبال کی خودی خود پسندی یاانا پسندی نہیں ۔ اقبال کی خودی انسان کو مغرور نہیں بناتی، اسے بامقصد بناتی ہے، اسے دوسروں سے کاٹتی نہیں، اسے اپنے اصل مقام سے آشنا کرتی ہے۔ خودی انسان کے اندر یقین، خود اعتمادی، عزتِ نفس، مقصدِ حیات اور عمل کی قوت پیدا کرتی ہے۔ اقبال خودی کے بارے میں کہتے ہیں:
خودی کیا ہے؟ رازِ درونِ حیات
خودی کیا ہے؟ بیداریِ کائنات
یہاں خودی دراصل انسان کے اندر شعور کی بیداری ہے۔ انسان جب اپنے وجود کے راز سے آشنا ہوتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض حالات کا اسیر نہیں۔ اس کے اندر سوچنے، فیصلہ کرنے، سیکھنے، بدلنے اور تخلیق کرنے کی قوت موجود ہے۔ خودی کا پہلا مرحلہ عرفانِ ذات ہے یعنی انسان اپنے آپ کو پہچانے۔ اپنی قوتوں کو بھی، اپنی کمزوریوں کو بھی، اپنی منزل کو بھی اور اپنی ذمہ داری کو بھی۔ اسی لیے اقبال کہتے ہیں:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن
کتنی عجیب بات ہے کہ انسان ساری زندگی دوسروں کو پڑھتا رہتا ہے، دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، لوگوں کے عیب تلاش کرتا ہے، معاشرے کو بدلنے کے منصوبے بناتا ہے، مگر کبھی اپنے اندر جھانکنے کی فرصت نہیں نکالتا۔ صوفی شاعر بلھے شاہ نے اسی حقیقت کو نہایت سادگی سے کہا:
پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویا، کدی اپنے آپ نوں پڑھیا ای نہیں،
جا جا وڑ دا مسجداں مندراں، کدی من اپنے وچ وڑیا ای نہیں
علم کی اصل منزل معلومات کا انبار نہیں، شخصیت کی تعمیر ہے۔ اگر علم انسان کے اندر بصیرت، عاجزی، کردار اور خود شناسی پیدا نہیں کرتا تو وہ علم ابھی اپنے مقصد تک نہیں پہنچا۔ خودی کا دوسرا مرحلہ عرفانِ الٰہی ہے۔ انسان اپنے آپ کو پہچانتے پہچانتے اپنے خالق تک پہنچتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کی قوت اپنی ذات کی پیدا کردہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔ یہی احساس خودی کو تکبر سے بچاتا ہے اور اسے بندگی سے جوڑتا ہے۔ اقبال اسی لیے کہتے ہیں:
خودی کا سرِّ نہاں لا الٰہ الا اللہ
خودی ہے تیغِ فساں لا الٰہ الا اللہ
لا الٰہ الا اللہ خودی کی بنیاد ہے۔ جب انسان دنیا کی جھوٹی طاقتوں، دولت، اقتدار، شہرت اور خوف کے بتوں سے آزاد ہوجاتا ہے تو اس کے اندر ایک ایسی آزادی پیدا ہوتی ہے جو کسی ظاہری اقتدار سے نہیں مل سکتی۔ اسی حقیقت کو اقبال ایک اور جگہ یوں بیان کرتے ہیں:
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
اللہ کے سامنے جھکنے والا انسان دنیا کے باطل نظاموں کے سامنے جھکنے سے آزاد ہوجاتا ہے۔ یہی خودی کی اصل سربلندی ہے۔ خودی کا تیسرا مرحلہ عرفانِ کائنات اور تسخیرِ کائنات ہے۔ انسان جب اپنے آپ کو اور اپنے رب کو پہچان لیتا ہے تو اس کی نگاہ کائنات کی طرف اٹھتی ہے۔ وہ آسمان کو صرف دیکھتا نہیں، اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے؛ ستاروں کو صرف گنتا نہیں، ان کے راز جاننے کی جستجو کرتا ہے۔ قرآن مجید بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے:
الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
یعنی جو لوگ اللہ کو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں۔
یہی غور و فکر انسان کو تحقیق تک لے جاتا ہے، تحقیق اسے علم تک پہنچاتی ہے اور علم اسے تسخیرِ کائنات کی طرف لے جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک انسان کائنات کا بے بس تماشائی نہیں، اس میں اپنا کردار ادا کرنے والا فعال وجود ہے۔ اسی لیے وہ نوجوان کو شاہین سے تشبیہ دیتے ہیں:
تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
شاہین اقبال کے ہاں صرف بلند پروازی کی علامت نہیں بلکہ آزادی، خودداری، غیرت، بلند نگاہی اور مسلسل حرکت کا استعارہ ہے۔ وہ آسائش کے آشیانے میں قید رہنے والا پرندہ نہیں۔ اقبال انسان کو بھی یہی سبق دیتے ہیں کہ جو قومیں اور افراد صرف آرام کو منزل سمجھ لیتے ہیں، ان کی پرواز ختم ہوجاتی ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، خودی کو بیدار کرنے کے بعد کیا کیا جائے؟ جواب ہے، عمل۔ خودی اگر عمل میں نہ ڈھلے تو محض ایک خوب صورت نظریہ بن کر رہ جاتی ہے۔ اقبال کی فکر میں عملِ پیہم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
انسان کو جو کچھ بننا ہے، اپنے عمل سے بننا ہے۔ قدرت کا پورا نظام حرکت میں ہے۔ زمین گردش کر رہی ہے، سورج رواں ہے، ستارے سفر میں ہیں، دریا بہہ رہے ہیں، موسم بدل رہے ہیں۔ گویا پوری کائنات انسان سے کہہ رہی ہے کہ ٹھہر جانا موت ہے اور حرکت زندگی۔ اسی حقیقت کو اقبال یوں بیان کرتے ہیں:
جنبش سے ہے زندگی جہاں کی
یہ رسمِ قدیم ہے یہاں کی
قرآن کا اصول بھی یہی ہے:
وَاَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ
انسان کے لیے وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کی فرد سے متعلق فکر قوم کی زندگی سے جڑ جاتی ہے۔ اقبال کا پیغام صرف ایک شخص کو کامیاب بنانے کا پیغام نہیں بلکہ ایک زندہ، خوددار اور باوقار قوم کی تعمیر کا پیغام ہے۔ جس طرح ایک فرد اپنی دنیا دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے تو اس کی شخصیت کمزور ہوجاتی ہے، اسی طرح وہ قوم جو علم، تحقیق، فکر، سائنس اور تخلیق میں دوسروں کی محتاج ہوجائے، رفتہ رفتہ اپنی آزادیِ فکر کھو دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے جب علم، تحقیق، اجتہاد اور تخلیق کو اپنا شعار بنایا تو دنیا کی فکری قیادت ان کے ہاتھ میں تھی۔ لیکن جب تحقیق کی جگہ تقلید، جستجو کی جگہ جمود اور تخلیق کی جگہ محض نقل نے لے لی تو زوال شروع ہوگیا۔ اقبال اسی لیے کہتے ہیں:
یہی آئینِ قدرت ہے، یہی اسلوبِ فطرت ہے
جو ہے راہِ عمل میں گامزن، محبوبِ فطرت ہے
اقبال کی اصل دعوت دراصل بیداری کی دعوت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان اپنی تاریخ پر صرف فخر نہ کرے بلکہ اپنی تاریخ سے سبق لے۔ماضی کو صرف یاد نہ کرے بلکہ مستقبل تعمیر کرے، دوسروں کی کامیابیوں کا تماشائی نہ بنے بلکہ علم، تحقیق اور کردار کے میدان میں اپنا مقام پیدا کرے۔ اور یہی ’اپنی دنیا آپ پیدا کر‘ کا حقیقی مفہوم ہے۔ اپنی دنیا پیدا کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان خدا سے بے نیاز ہوجائے۔ اس کے برعکس اقبال کے نزدیک حقیقی خودی بندگی سے پیدا ہوتی ہے۔ انسان جتنا اپنے رب کے قریب ہوتا ہے، اتنا ہی باطن میں مضبوط اور دنیا کے باطل دباؤ سے آزاد ہوتا ہے۔ اسی لیے خودی کی تربیت کے مراحل اطاعتِ الٰہی، ضبطِ نفس اور نیابتِ الٰہی سے گزرتے ہیں۔ جب وہ ا س بلند مقام پر پہنچتا ہے تو وہ منتہائے مقصود پر پہنچ جاتا ہے، اسے اللہ کی خوشنودی حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے حوالے سے اقبال نے فرمایا تھا:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
یہ شعر انسانی عظمت کا اعلان ضرور ہے، مگر اس عظمت کی بنیاد بندگی ہے۔ اقبال کا انسان اپنی خواہش کا غلام نہیں، وہ اپنے نفس کو قابو میں رکھ کر ایک بڑے مقصد کے لیے جیتا ہے۔ اقبال کا انسان خواب دیکھتا ہے، مگر صرف خواب نہیں دیکھتا،وہ خواب کو حقیقت بنانے کے لیے اپنے خونِ جگر سے راستہ بناتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں:
رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزۂ فن کی ہے خونِ جگر سے نمود
تخلیق چاہے فن کی ہو، علم کی ہو، فکر کی ہو یا زندگی کی، اس کے پیچھے محنت، اخلاص، صبر اور مسلسل جدوجہد درکار ہوتی ہے۔ دنیا ان لوگوں کی نہیں بنتی جو حالات کا انتظار کرتے رہتے ہیں؛ دنیا ان لوگوں کے ہاتھوں بدلتی ہے جو حالات کے اندر امکانات تلاش کرتے ہیں۔ اس لیے ’اپنی دنیا آپ پیدا کر‘ دراصل ایک سوال بھی ہے اور ایک دعوت بھی۔ اگر ہم زندہ ہیں تو ہماری فکر زندہ ہونی چاہیے۔ فکر زندہ ہے تو آرزو بلند ہونی چاہیے۔ آرزو بلند ہے تو جستجو پیدا ہونی چاہیے۔ جستجو پیدا ہوگئی ہے تو علم اور تحقیق کی طرف قدم بڑھنا چاہیے۔علم حاصل ہوگیا ہے تو اسے عمل میں ڈھلنا چاہیے۔اور عمل مسلسل ہوجائے تو انسان اپنی ذات، اپنے معاشرے اور اپنی قوم کی دنیا بدلنے کی قوت حاصل کرسکتا ہے۔ اقبال کا پیغام کسی ایک زمانے، ایک ملک یا ایک نسل کے لیے نہیں۔ یہ ہر اس انسان کے لیے ہے جو اپنی زندگی کو محض گزرنے نہیں دینا چاہتا، بلکہ اسے کوئی معنی دینا چاہتا ہے۔ آخر میں پھر وہی صدا ہمارے سامنے آتی ہے، اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے۔
پس انسان کا کام صرف بنی بنائی دنیا میں جگہ تلاش کرنا نہیں، اس کے اندر اپنی جگہ پیدا کرنا بھی ہے۔ اپنی فکر سے، اپنے کردار سے، اپنے علم سے، اپنی محنت سے اور اپنے عمل سے۔ اور شاید اقبال کے پیغام کا سب سے خوب صورت خلاصہ یہی ہے کہ جو شخص اپنے اندر کی دنیا کو بیدار کرلیتا ہے، وہی باہر کی دنیا میں تبدیلی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے۔