ترقی کے جھوٹے خواب

اس وقت وطن عزیز میں دو قسم کے طبقے ہیں۔ ایک بڑا طبقہ وہ ہے جو سارا دن یہ سوچتا ہے، پیسہ کہاں سے آئے کہ گزارا ہو ۔اور دوسرا طبقہ وہ ہے جسے یہ فکر کھائے جاتی ہے پیسہ کہاں رکھے۔

ملتان کے ایک بینک کی خبر سامنے آئی جس کے لاکر میں رکھے اسی تولے سونے کے زیورات غائب ہوگئے، اُدھرلاہور کے ایک تاجر کی خبر سننے کو ملی کہ موصوف گھر گئے تو دکان میں رکھے ایک کروڑ بیس لاکھ چوری ہو گئے۔ اب یہ و ہ طبقہ ہے جسے سمجھ نہیں آ رہی پیسہ کہاں رکھے۔آپ کہیں گے کیش گھر یا دکان پر رکھنے کی کیا ضرورت ہے، بنک میں جمع کرائیں۔ دوسری طرف اتنا زیادہ سونا لاکر میں رکھنے کی کیا ضرورت ہے، گھر میں انہیں کوئی سیف خرید دیں۔ لیکن جناب یہ ایف بی آر والے تو بینک اکاؤنٹ سونگھتے پھرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ڈاکو گھروں میں رکھے سونے کی خوشبو سونگھ لیتے ہیں۔  ایسے میں یہ پیسے والا طبقہ خاصا پریشان نظر آتا ہے۔

 تاجروں کا مسئلہ یہ ہے انہوں نے سب کچھ کرنا ہے مگر ٹیکس نہیں دینا۔ تاجروں پر ہی کیا منحصر یہاں ہر طبقہ یہی چاہتا ہے ٹیکسوں سے بچا رہے، سوائے تنخواہ دار طبقے کے اور کسی کا ٹیکس نہیں کٹتا۔ ابھی چند روز پہلے نجی ہسپتالوں اور کلینکوں نے بھی ہڑتال کی۔ نجی پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر بھی ہڑتال میں شامل ہوئے، کیونکہ ایف بی آر نے ان ہسپتالوں، کلینکوں میں اپنے بندے بٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، جو دیکھیں گے مریض کتنے آئے اور فیسیں کتنی لی گئیں۔ اب ظاہر ہے وہ ڈاکٹر جو صرف اپنی سرکاری ملازمت کی تنخوا پر ٹیکس دیتے ہیں اور لاکھوں روپے کی اس آمدنی پر نہیں جو نجی پریکٹس سے حاصل ہوتی ہے، وہ پریشان ہیں۔

دنیا میں یہ دستور ہے کہ جو جتنا کماتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔ ہمارے ہاں نظام اُلٹ ہے۔ غریبوں پر سیلز ٹیکس کی تلوار لٹکا کر ان کی محدود آمدنی میں سے بھی ٹیکس حاصل کرلیا جاتا ہے اور امیر کو  اپنی آمدنی پر ایک طرح سے ٹیکس چھوٹ دے دی جاتی ہے۔ ایک باخبر معیشت دان اپنا تجزیہ بتا رہے تھے کہ ہماری ظاہری معیشت سے کالے دھن کی معیشت تقریبا دوگنا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا گھروں میں رکھا ہوا سونا ہی باہر آجائے تو ہمارے سارے قرضے ختم ہو جائیں۔ اس سے پہلے ایک بینکر یہ کہہ چکے تھے کہ حکومت اگرپانچ ہزار روپے کے نوٹ پر پابندی لگاکے اسے بینکوں میں جمع کرانے کا حکم جاری کرے تو کھربوں روپے باہر آجائیں۔ خیر ایسی باتوں پر اظہارِ حیرت ہی کیا جاسکتا ہے لیکن یہ بات تو کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ ہمارے ہاں خوشحال طبقہ ٹیکس نہیں دیتا۔ اس میں سہولت کاری خود ایف بی آر والے کرتے ہیں اگر ٹیکس پورا جمع ہونا شروع ہو جائے تو ہمارا بجٹ خسارہ نہ رہے اور ہمیں قرضے لینے کی حاجت بھی نہ رہے۔ یہ جو پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کا ظالمانہ رواج آیا ہے، اس کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ ایف بی آر ٹیکس اکٹھا کرنے میں ناکام ہو گیا ہے  اور حکومت نے آسان راستہ یہ نکالا ہے کہ پٹرول پر لیوی لگا کر روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے عوام کی جیبوں سے نکالے جائیں۔

وزیرداخلہ محسن نقوی کا ایک بیان نظر سے گزرا کہ جلد اسلام آباد کو کیش فری کر دیں گے۔ مطلب یہ کہ وہاں سارا لین دین ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے ہوگا۔ بہت اچھی بات ہے، اس سے کسی بھی ادارے، دکان، پٹرول پمپ یا فیکٹری کی آمدنی کا اندازہ لگانے میں آسانی رہے گی اور اس کے ٹیکس گوشواروں کی اس کے مطابق جانچ پرکھ کی جا سکے گی لیکن یہ کام تو جلد از جلد پورے ملک میں کرنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں تو یہ حال ہے کہ اچھے بھلے شاپنگ مالز یا بڑی دکانیں کارڈ سے ادائیگی قبول نہیں کرتے۔ کیش مانگتے ہیں، اسے اگرچہ غیر قانونی قرار دیا گیا ہے مگر یہ کام دھڑلے سے جاری ہے۔ اس طرف مکمل توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معیشت جب ڈیجیٹلائز ہوگی تو یہ ٹیکس چوری کا رجحان بھی کم ہوگا۔ پھر ایف بی آر میں بیٹھے ٹیکس چوروں کے سہولت کاروں کو بھی پکڑنے میں آسانی رہے گی۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں موٹرسائیکل یا رکشہ والے کو کیا گیا دو ہزار روپیہ جرمانہ بھی کسی صورت معاف نہیں ہوتا۔ چاہے وہ خودکشی کرے یا رکشے کو آگ لگائے۔ تاہم اس معاشرے میں بڑے بڑے مگرمچھ موجود ہیں جو کروڑوں روپے کا ٹیکس بغیر ڈکار لئے بچالیتے ہیں۔ ایک طبقے کے پاس گھروں میں پیسے رکھنے کیلئے جگہ نہیں رہی اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے گھر میں دو وقت کی روٹی نہیں پکتی۔ یہ تو سرا سرنظام قدرت، نظام معیشت اور نظام ِ انصاف کے خلاف ہے۔ معیشت  کی بنیاد اس نکتے پر رکھی جاتی ہے کہ معاشرے میں متمول طبقوں سے لے کر غریب طبقوں پر وسائل خرچ کئے جائیں۔یہاں معاملہ الٹ ہے، جو خوشحال ہے وہ ہر ٹیکس سے مستثنیٰ ہے اور اس کے لئے ساری سہولتیں بھی موجود ہیں، جو غربت زدہ ہیں انہیں آٹے، روٹی، گھی، چینی اور پٹرول پر بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے۔

دنیا ہم پر ہنستی ہوگی کہ اس جدید ترقی یافتہ اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی پاکستان میں ٹیکس چوری عروج پر ہے۔ سامنے کی حقیقتیں بھی ہمیں نظر نہیں آتیں۔ ریسٹورنٹ، شاپنگ مال، بازار اور شاہ عالم مارکیٹ جیسی تھوک کے بیوپارکی آماجگاہیں گاہکوں سے بھری پڑی ہیں، یا تو یہ کہا جائے کساد بازاری بہت ہے۔ گاہک ہی نہیں ہیں تو ٹیکس کہاں سے اکٹھاہو؟ مگر یہاں تو معاملہ الٹا ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود ٹیکس نیٹ بڑھ رہا ہے اور نہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی، آخر کہیں تو گڑبڑ ہے، وہ ختم کیوں نہیں ہو رہی۔ یہ بیان سنتے سنتے تو عوام کے کان پک گئے ہیں کہ معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے، اب ترقی کی طرف گامزن ہیں، کون سی ترقی کی طرف یہ بھی تو بتایا جائے۔  

یہاں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں نے عوام کی کمرتوڑ رکھی ہے، لوڈشیڈنگ کئی گھنٹوں پر محیط ہو چکی ہے، مہنگائی  آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ حکومتی شخصیات کے پروٹوکول میں کوئی فرق نہیں آیا بلکہ بڑھ گیا ہے۔کیا اسے ترقی کہیں گے جو عوام کے سینوں پر مونگ دل رہی ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)