انڈین جمہوریت میں ووٹ چوری کا بڑھتا تنازع

انڈیا میں شاید ہی کسی کو گمان تھا کہ دنیا کی بڑی جموریت کہلانے والے ملک کا آخری آزاد اور غیر جانب دار ادارہ انتخابی کمیشن اس قدر متنازع بن جائے گا کہ ہر گلی کوچے میں الیکشن کمشنر گیانشور کمار کی مسخ شدہ تصویریں اور ووٹ چوری کے نعرے گونجیں گے۔

ایک جانب نوجوانوں کی جماعت کاکروچ جنتا پارٹی جنتر منتر اور انڈیا کے بڑے شہروں میں انتخابی کمشنر کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، وہیں اپوزیشن کی تقریباً 18 سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمان کمیشن بھی جنتر منتر کے سامنے دھرنے پر ہیں اور ’ووٹ چور‘، ’گدی چور‘ کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ کانگریس کے سرکردہ رکن اشوک سنہا کہتے ہیں کہ ’آزادی کے بعد جس ہندوستان میں اداروں کی شفافیت، غیر جانب داری اور منصفانہ نظام کی بنیاد ڈالی گئی تھی، اس کو (حکمراں) بھارتیہ جنتا پارٹی نے نہ صرف مسمار کیا بلکہ ملک میں ہندو مسلم سیاست کر کے اسے خانہ جنگی کی جانب دھکیل دیا ہے۔ اب ہندوستان کو پہلے بی جے پی سے آزادی حاصل کرنی ہوگی، تبھی اس ملک کو بچایا جاسکتا ہے۔‘

بی جے پی کے رہنما اور وزیراعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کو دماغی نکسل بتا کر ہندو توا کی اپنی پالیسی قائم رکھی اور وہ انڈیا کو ہندو راشٹر بنانے کے اپنے خواب پر بضد ہیں، جس میں آخری ایجنڈا یکساں سول کوڈ کا اطلاق ہے اور جس کا انہوں نے بُگل بجا دیا ہے۔ مسلمان اور دوسری اقلیتیوں کا درجہ کیا ہوگا، اس پر ابھی بی جے پی نے اپنے پتے ظاہر نہیں کیے ہیں البتہ وہ آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ذریعے اقلیتوں کے محدود حقوق کے بارے میں اشارے دلواتی رہی ہے۔

ایک دہائی قبل ہی انڈیا کے انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانب دار اداروں کے قیام پر عالمی تھنک ٹینکس کی جانب سے مثبت رپورٹیں تحریر کی جاتی رہی ہیں اور یہ عام رائے قائم کی گئی تھی کہ دنیا کی بڑی جمہوریت میں 90 کروڑ سے زائد ووٹروں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے پر اطمینان ہے، ووٹ کی عزت کی جاتی ہے اور ووٹر کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ اسے استعمال کرکے سرکردہ سیاست دانوں کو ہرا سکتا ہے اور اپنی مرضی کی سرکار بنا سکتا ہے۔ ماضی میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ یہ شفاف انتخابی عمل ہی تھا کہ جس پر ہر انڈین کو ناز تھا لیکن 2014 میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد جہاں ملک کے بیشتر آزاد اداروں کی ساخت متاثر ہوئی ہے، وہیں انتخابی کمیشن کی ووٹروں کی شناخت سے متعلق بعض نئی پالیسیوں کے اندراج سے ووٹ چوری کا نیا خفیہ نظام قائم ہوا، جس کے نتیجے میں 13 کروڑ ووٹروں کو حق رائے دہی سے ہی فارغ کر دیا گیا ہے۔

مہاراشٹر، ہریانہ، بہار اور مغربی بنگال کے ریاستی انتخابات میں ایسے سینکڑوں معاملات سامنے آئے اور جب یہ سارے معاملات سپریم کورٹ اور دوسری عدالتوں میں درج ہوئے تو عدلیہ کی خاموشی اور ٹال مٹول نے ووٹروں کو شکوک میں مبتلا کر دیا۔ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے چند برس قبل جب ایک پریس کانفرنس میں ہر فرضی ووٹر اور ووٹ چوری کی درجنوں معاملات کی رپورٹ جاری کی تو میڈیا نے اس کو نظر انداز کر کے اسے من گھڑت قرار دیا۔ بہار میں راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالو پرساد یادو کے بیٹے اور رکن اسمبلی تیجیسوی یادو نے ریاستی انتخابات میں شکست کے بعد ووٹ چوری یا ووٹروں کو بے اختیار کرنے کے ہزاروں کیسوں کی نشاندہی کی تو اس کو نظر انداز کر کے نہ تو انتخابی کمیشن نے نوٹس لیا اور نہ عدالتوں سے متاثرہ ووٹروں کو انصاف فراہم ہوا۔

مہاراشٹر کے بعد سب سے زیادہ ووٹ چوری یا بے اختیار کرنے کی وارداتیں مغربی بنگال میں ہوئیں جہاں ترنمول پارٹی کی سربراہ ممتا بینرجی کے کروڑوں ووٹ ہتھیا لیے گئے اور بی جے پی نے انتخابی جیت کے بعد ترنمول کے درجنوں لیڈروں کو سنگسار کیا۔ بنگال اور آسام میں ایک بڑی مسلم آبادی کو ووٹ سے ہی محروم نہیں کر دیا گیا بلکہ ان کی شہریت پر سوال اٹھاکر بنگلہ دیش کے کھاتے میں ڈالا گیا۔ انتخابی کمیشن خاموش رہا، عدالتیں معاملات کو ٹالتی رہیں اور بنگال یا آسام کا بیشتر مسلم ووٹ غائب کر دیا گیا، حتیٰ کہ بعض سرکردہ مسلمانوں کو بنگلہ دیشی بتا کر ملک بدر بھی کر دیا گیا۔

حیدر آبار دکن کے سیاسی کارکن نجیب احمد کہتے ہیں کہ ’کلکتہ میں ان کے خاندان کے چار افراد کا ووٹ رجسٹر میں نام ہی نہیں تھا، جب انہوں نے شکایت کی تو انتہا پسندو ہندوؤں نے انہیں بنگلہ دیشی قرار دے کر پولیس کے حوالے کر دیا، جنہیں پھر سرحد پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ ایسا ہزاروں مسلم ووٹروں کے ساتھ ہوا جس پر میڈیا نے اُف تک نہیں کی۔ انتخابی افسر بی جے پی کے کارکن تھے۔ اپوزیشن صرف تیرہ کروڑ بے دخل ووٹروں کی فہرست بتا رہی ہے، اصل میں یہ تعداد اس سے زیادہ ہے جس پر ابھی کمیشن نے پردہ ڈالا ہوا ہے۔‘

اپوزیشن، غیر سرکاری اداروں اور سوشل میڈیا کے بعض سرکردہ کارکنوں نے کئی برسوں سے انتخابی کمیشن کے جانب دار کردار پر سوالات اٹھائے مگر بعض میڈیا رپورٹوں کے مطابق بی جے پی سرکار نے میڈیا کو سختی سے منع کر دیا اور ایسی خبروں کو نظرانداز کرنے کا حکم دیا مگر انڈین ایکسپریس کی حالیہ تحقیقاتی رپورٹ نے اس پر سے پردہ اٹھایا، جس کے بعد ملک میں جیسے ایک بڑا طوفان آیا ہوا ہے۔ کاکروچ پارٹی کے سرکردہ کارکن سورو داس کہتے ہیں کہ دہلی کے چاندنی چوک میں قلم کی ایک ہی جنبش سے 909 ووٹوں میں 908 کو بے دخل کردیا گیا تھا، جس سے باقی علاقوں کے حالات کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بی جے پی کی ہندوتوا پالیسی سے گو کہ مسلمان مسلسل اذیت کا شکار ہو رہے ہیں لیکن ووٹ چوری کی پالیسی سے ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے اور بی جے پی کو جتانے کے حربے استعمال کرکے انتخابی کمشنر نے اپنا امیج بری طرح مجروح کیا ہے۔ بقول راہل گاندھی: ’گیانشور شرما نے بی جے پی کی محبت میں جمہوریت کا قتل کر دیا ہے، اس کی سزا مودی، امت شاہ، موہن بھاگوت اور گیانشور کو ضرور بھگتنا ہوگی۔‘

بی جے پی کے درجنوں رہنما انڈین میڈیا پر صفائیاں اور اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر اپوزیشن کے رہنماؤں کی مار پیٹ، خواتین کے ساتھ زور زبردستی اور جیلوں میں اسیر کر نے کی ویڈیوز سے بی جے پی کے خلاف عوامی غصہ بڑھ رہا ہے۔ کاکروچ پارٹی کے ہزاروں نوجوانوں کو پہلے ہی جنتر منتر پر کئی بار دبوچ لیا گیا مگر ملک کے طول و عرض میں جو شور، احتجاج یا ہنگامہ شروع ہوا ہے ،وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور گیانشور شرما سمیت کئی رہنماؤں کے استعفیٰ کے بعد ہی ایک نیا سیاسی منظر نامہ نظر آنے لگے گا کہ جس میں ملک کی بیشتر ریاستوں اور پارلیمان کے لیے نئے سرے سے انتخابات عین ممکن ہے۔

بعض ذرائع سے یہ خبریں گشت کرنے لگی ہیں کہ حالات کے بگڑنے کی شکل میں یا سرکار بچانے کے لیے مودی ایمرجنسی بھی لاگو کرسکتے ہیں۔

(بشکریہ: انڈی پنڈنٹ اردو)