جنگی جرائم کے خلاف نوبل امن انعام

کئی سال کے متنازعہ فیصلوں کے بعد نارویجین نوبل کمیٹی نے ایک ایسی قانون دان کو  2026 کے امن انعام کا مستحق قرار دیا ہے جنہوں نے ساری زندگی جنگی جرائم سے متاثرین کو انصاف  دلانے کے لیے صرف کی۔ اس طرح نوبل کمیٹی نے دنیا کو یاد دلایا ہے کہ  دنیا میں جنگ ہی نہیں بلکہ جنگوں میں  عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں بھی  عالمی امن کی راہ    بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔

سال رواں کا امن انعام جنوبی افریقہ کی 85 سالہ قانون دان ناوی پلے کو دیا گیا ہے۔  وہ جنوبی افریقہ کے ایک غریب   بھارتی نژاد خاندان میں پیدا ہوئیں اور قانون کی تعلیم حاصل کرکے  ساٹھ کی دہائی میں  ملک کی اپارتھائیڈ  حکومت کے خلاف آزادی کی جد و جہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو قانونی معاونت فراہم کرتی رہیں۔ بعد میں انہیں جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ کا جج بنایا گیا۔    1995  میں انہیں روانڈا میں جنسی و نسلی استحصال کے خلاف تحقیقات  کرنے والے  ٹریبونل کی  جج بنایا گیا۔  انہوں نے 2003 تک اس عہدے پر کام کیا اور اسی سال انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی جج نامزد ہوئیں اور  2008 تک اس عہدے پر کام کرتی رہیں۔ اس کے بعد  انہوں نے 2014 تک    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی ہائی  کمشنر کے عہدے پر کام کیا۔ انہیں  2021 میں فلسطینی و اسرائیلی تنازعہ  کے تحقیقاتی کمیشن کی سربراہ بنایا گیا۔ اس کمیشن نے 2025 کو اپنی رپورٹ میں اسرائیل کو غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مجرم قرار دیا گیا۔ اسرائیل نے اس الزام کو سختی سے مسترد کیا  ہے لیکن ناوی پلے کا کہنا ہے کہ یہ قتل و غارت گری  سانحاتی نہیں  بلکہ ریاستی پالیسی کے طور پر   ہوتی رہی ہے۔ وہ اس  وقت  انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں  میانمار میں نسل کشی کے الزامات کے مقدمہ میں ایڈہاک جج کے طور پر کام کررہی ہیں۔

نارویجین نوبل کمیٹی کی طرف سے قانون کی بالادستی اور جنگی جرائم کی خلاف ورزی  کو مسترد کرنے کے لیے انعام دینے کا فیصلہ درحقیقت ہر اس عالمی طاقت کے لیے پیغام ہے جو ایسے جرائم میں ملوث ہے۔ ان میں روس، امریکہ اور اسرائیل خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ اسرائیل تو  ناوی پلے کی گزشتہ سال فلسطینیوں کی نسل کشی کے بارے میں رپورٹ پر اس قدر برہم ہے کہ آج نوبل امن انعام کا اعلان ہونے کے بعد اسرائیلی وزارت خارجہ نے شدید الفاظ میں اس انعام کی  مذمت کی اور ناوی پلے کو گوئیبلز کے پائے کی  ’جھوٹی عورت‘ قرار دیا۔ خود ناوی پلے کا کہنا ہے کہ  انہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی حالت زار  اور اسرائیلی ہتھکنڈوں کے بارے میں جو رپورٹ تیار کی تھی، اسی کی وجہ سے شاید انہیں نوبل امن انعام  کا مستحق  سمجھاگیا ہے۔ اسرائیل  کے علاوہ  امریکہ نے بھی اس انعام پر ناپسندیدگی کا اظہارکیا ہے۔ اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ  یا وائٹ ہاؤس نے ابھی  براہ راست کوئی بیان جاری نہیں کیا تھا لیکن ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ایسی  پوسٹ شئیر کی ہے جس میں ناوی پلے کو ملنے والے انعام کو ’شرمناک فیصلہ ‘ قرار دیا گیا ہے۔

ٹرمپ کے نزدیک یہ فیصلہ یوں بھی ‘شرمناک‘ ہوگا کیوں کہ وہ خود کو ہی اس انعام کا سب سے زیادہ مستحق قرار دیتے ہیں۔ دو روز پہلے بھی ایک بیان  میں انہوں نے کہا تھا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس سال بھی نوبل کمیٹی  یہ انعام مجھے نہیں دے گی  حالانکہ میں نے دنیا میں  8 جنگیں بند کرائی ہیں۔ ایسا دعویٰ کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ انہوں نے نہ صرف غزہ میں اسرائیلی جنگ جوئی کی  کھل کر حمایت کی  بلکہ اس سال فروری میں ایران کے خلاف جنگ کا باقاعدہ آغاز کیا۔ یہ جنگ اب تک جاری ہے اور ٹرمپ متعدد بار اشارہ کرچکے ہیں کہ نومبر میں مڈ ٹرم انتخابات کے بعد  امریکہ ایک بار پھر ایران پر شدید حملے شروع کرے گا۔ اس کے برعکس  الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق امن انعام صرف ایسے شخص کو دیا جاسکتا ہے جس نے  جنگ یا مسلح تنازعہ بند کرانے میں کردار ادا کیا ہو۔  پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف ضرور  ٹرمپ کو امن کا ’چیمپئن‘ قرار دیتے ہیں اور گزشتہ سال پاک بھارت جنگ کے بعد انہوں نے اس کا کریڈٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اگر ٹرمپ مداخلت نہ کرتے تو ایٹمی اسلحہ کے حامل پاکستان اور بھارت کی جنگ میں کروڑوں انسان ہلاک ہوسکتے تھے۔  شہباز شریف نے کبھی اس دعوے کی تائید میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا لیکن  اس دعوے کو صدر ٹرمپ ہر فورم پر اپنی  ’امن پسندی‘ کی دلیل کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے  خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بیان کو دہرایا تھا اور شہباز شریف کی تعریف کی  تھی۔  حالانکہ اس تقریر میں صدر ٹرمپ نے ایران کو نیست و نابود کردینے کی دھمکیاں دی  تھیں۔

شہباز شریف نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ نہ تو ڈونلڈ ٹرمپ    نوبل امن انعام کے مستحق ہیں  اور نہ ہی انہیں عالمی امن میں کوئی دلچسپی ہے، پہلے گزشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ کا نام  نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا۔ اور گزشتہ روز  ’ایکس ‘ پر ایک پیغام میں اس نامزدگی کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس بار ٹرمپ کو  یہ اہم انعام دیا جائے گا کیوں کہ انہوں نے  پاک بھارت جنگ بند کرائی تھی۔ حالانکہ بھارت نے مسلسل اس دعوے کو مسترد کیا ہے اور صدر ٹرمپ کے اصرار پر بھی اپنا مؤقف تبدیل نہیں کیا۔ نئی دہلی کا مؤقف رہا ہے کہ پاک بھارت تنازعہ  براہ راست دونوں ملکوں کی عسکری کمان کے درمیان رابطے کے بعد  بندکرنے کا فیصلہ ہؤا تھا۔ بھارت  نے  پاکستان کے خلاف شروع کی ہوئی جنگ کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا اور جنگ بندی کے باوجود اسے جاری رکھنے کا اعلان کرتا  ہے۔

نوبل امن انعام ناوی پلے کو دے کر نارویجین نوبل کمیٹی نے نہ صرف اس عالمی انعام کا اعتبار بحال کیا ہے بلکہ  ایک اہم مسئلہ کو  دنیا کے ایجنڈے پر لاکر جنگی جرائم اور ناانصافی کو امن کے لیے سب سے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ اس طرح ان عناصر کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جو جنگوں سے متاثرین کی بحالی کا کام کرتے ہیں یا انہیں انصاف دلانے کے لیے سرگرم ہیں۔  2025  کا انعام وینزویلا کی لیڈر ماریا کورینا ماچادو کو دیا تھا۔   اس خاتون نے بعد میں نوبل کمیٹی کی طرف سے ملنے والی ٹرافی وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کو دیتے  ہوئے کہا تھا کہ وہی  درحقیقت اس انعام کے حقیقی مستحق ہیں۔ اس دعوے کی وجہ  اس سال جنوری میں وینزویلا کے خلاف امریکہ کی فوجی کارروائی تھی جس میں ملک کے صدر نکولاس مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرکے امریکہ پہنچا دیا گیا تھا۔  ماریا ماچادو کا خیال تھا کہ اگر وہ ٹرمپ کی خوشامد کریں گی تو شاید وہ انہیں وینزویلا میں حکومت دلادیں گے لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکی۔

پہلے تو 2025 کے انعام پر ہی اختلاف رائے موجود تھا تاہم جب ماریا ماچادو نے  انعامی میڈل ٹرمپ کے حوالے کیا تو  ناروے کی نوبل کمیٹی کو شدید خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم کمیٹی کے کسی رکن نے اس غلطی کا اعتراف  نہیں کیا اور نہ ہی اپنے عہدے سے استعفی  دیا۔ البتہ 2026 کا انعام ایک مستحق اور امریکی پالیسی کے خلاف انسانیت کے لیے کام کرنے والی خاتون کو دے اس غلطی کی تلافی کی کوشش کی گئی ہے جو گزشتہ سال سرزد ہوئی تھی۔ اسی پس منظر میں  ناوی پلے نے نیومبرگ (جرمنی)  میں نوبل انعام ملنے پر حاضرین کی تالیوں کا جواب دیتے ہوئے یہ چٹکی لی  کہ ’اگر آپ لوگ زیادہ  زور سے تالیاں  بجائیں  تو میں شاید یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ شئیر  کرلوں‘۔

ناوی پلے کو ملنے والا انعام فلسطینوں کے خلاف اسرائیلی جرائم پر  انگلی اٹھانے کی وجہ سے  اسرائیل و امریکہ کے لیے   پریشانی کا باعث ہے۔ لیکن  صدر ٹرمپ  کے جنوبی افریقہ کے ساتھ تعلقات بھی    کشیدہ ہیں اور  وہ اس ملک کو ’سزا‘ دینے کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں۔  ان اختلافات  کی کئی وجوہات  ہیں۔ ٹرمپ اور جنوبی افریقہ کا تنازع زمین  کی  ملکیت کے بارے  میں  سفید فام آبادی کے حقوق، تجارت، اسرائیل، ایران اور عالمی سیاست  میں   پریٹوریا کی پالیسیوں  سے اختلاف پر استوار ہے۔  جنوبی افریقہ  امریکی طرز عمل کو اپنی خود مختاری کے  خلاف رویہ قرار  دیتا ہے  لیکن  امریکہ  اپنا معاشی و سفارتی اثرورسوخ  استعمال کرکےجنوبی افریقہ کی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔  

اس پس منظر میں ناریجین نوبل امن کمیٹی نے نہ  صرف اس انعام کے لئے صدر  ٹرمپ کا دباؤ  ماننے سے انکار کیا ہے بلکہ  جنوبی افریقہ کی  شہری کو انعام دے کر   ٹرمپ کی بے جا تنقید اور   کمیٹی کی خود مختاری پر سوال اٹھانے کو بھی مسترد کیا ہے۔