پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا دہشت گردوں کے حوالے کر دیا:عطا اللہ تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ ماضی میں خیبر پختونخوا پاکستان کے لیے باعثِ فخر اور امن کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا تاہم گزشتہ 13 برس کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے صوبے کا ایسا حشر کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی پالیسیوں نے خیبر پختونخوا کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے بجائے قرونِ وسطیٰ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جبکہ صوبے کے عوام آج بھی بنیادی ترقیاتی منصوبوں اور روزگار کے مواقع کے منتظر ہیں۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کے رہائشی علاقوں میں دہشتگردوں کو لاکر بسایا، یہ کالعدم ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی، فارنزک لیب اور پولیس کو جدید اسلحہ فراہم کرنا خیبرپختونخوا حکومت کا کام تھا جو نہیں کیا گیا جبکہ طالبان کی خواتین سے متعلق سوچ پورے خیبرپختونخوا پر مسلط کی گئی۔
وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے صوبے کی ترقی کے اوپر صفر وقت لگایا لیکن تخریب کاری کےلیے 6،6 گھنٹے کی میٹنگ کی۔ واضح رہے کہ اس وقت پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ کر رہی ہے، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان نے اس مارچ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ’لانگ مارچ آج اپنے ساتویں روز میں داخل ہو چکا ہے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کچھ ہی دیر میں چارسدہ سے مارچ کا دوبارہ آغاز کریں گے۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات نے سوال اٹھایا کہ لکی مروت سے صوابی تک آئی ٹی پارکس کیوں قائم نہیں کیے گئے اور نوجوانوں کے لیے جدید روزگار کے مواقع کیوں پیدا نہیں کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کے جال میں پھنس چکے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ’آپ کیا پورے صوبے کو ’دہشتگردوں‘ کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت عوامی مسائل کے حل اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔