سعودی حوثی لڑائی: اختتام کیسے؟
- تحریر افضال ریحان
- ہفتہ 10 / اکتوبر / 2026
سعودی عرب اور یمنی شیعہ حوثی باغیوں میں دیرینہ چپقلس، ان دنوں بگڑ کر جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق حوثیوں نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں سعودی حکام کے مطابق تین سعودی شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔
سعودی ایئرلائنز کے ایک طیارے کو بھی نقصان پہنچا، دوسری طرف سعودی فضائیہ نے بھی اپنے اتحادیوں کے تعاون سے جوابی حملے کرتے ہوئے 136 فوجی اہداف کو ٹارگٹ کیا ہے۔ دو لاکھ کے قریب یمنیوں کی نقل مکانی ہو چکی ہے، سعودیوں کی سینکڑوں فلائیٹس منسوخ ہو چکی ہیں۔ رائٹر کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی سول ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی نے بھی سعودی فضائی حدود کے حوالے سے اپنی احتیاطی ہدایات وسیع کی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہا۔ واضح رہے، اس سے پہلے یمنی حوثیوں نے ریڈ سی کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کرتے ہوئے باب المندب کے اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا جس کے بعد سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی افواج نے جوابی کارروائی کی اور کئی کامیابیوں کے دعوے کیے۔ اب فضائی کے ساتھ زمین لڑائی بھی شروع ہو چکی ہے۔ موجودہ جنگی صورتحال کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر پر ایک طائرانہ نظر ضروری ہے۔
یہ تو سب پر واضح ہے کہ سعودی عرب ایک سنی مملکت ہے جس کے حکمران خادم حرمین شریفین ہونے کے باوجود مذہبی تنگناؤں میں الجھنے کی بجائے عصری تقاضوں کا نہ صرف کہ شعور و دراک رکھتے ہیں بلکہ بشمول امریکا پوری دنیا سے معتدل تعلقات، او آئی سی اور عرب لیگ کے علاوہ خلیجی تعاون کونسل میں بھی اپنے اثر و رسوخ کے حامل ہیں۔ جبکہ دوسری طرف 1979 سے تاحال ایران ایک سخت گیر شیعہ مملکت ہے جس کی اصل حکمرانی ولایت فقیہ کے نام پر خالص شیعہ مذہبی راسخ العقیدہ مذہبی لیڈروں کے ہاتھوں میں ہے جو پوری دنیا کو اپنی ایک مخصوص مذہبی عینک سے دیکھتے ہیں۔ انقلاب کے بعد سے ولایت فقیہ کوشاں ہے کہ دیگر مسلم ممالک بالخصوص جہاں جہاں شیعہ کمیونٹی موجود ہے وہاں اپنا اثر و رسوخ بڑھاتے ہوئے زیادہ سے زیادہ اثر انداز ہوا جائے۔
اسرائیل اور امریکا کی مخالفت اور فلسطینی شدت پسندوں کی حمایت میں بھی اصل مدعا سادہ لوح عام سنی مسلمانوں کی ہمدردی و حمایت کا حصول ہے، جبکہ اصل مقصد ان عرب حکومتوں کو اکھاڑنا رہا ہے جو اپنی سلامتی و تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ کئی دہائیوں سے بندھے ہوئے ہیں۔ بنیادی ٹارگٹ سعودی حکمران رہے ہیں۔ اس تناظر میں حوثیوں اور سعودیوں کی موجودہ لڑائی محض دو فریقوں کی کشمکش نہیں، ایران اور سعودی عرب کی ایسی علاقائی سیاسی اور مذہبی رقابت ہے جس میں ایک دوسرے کی معیشت و تجارت کو برباد کرنا بھی شامل ہے۔ ایرانی ولایت فقیہ پوری طرح حوثیوں کے پیچھے کھڑی ہے۔ یمن میں زیدی شیعوں کی اگرچہ اپنی بھی ایک طویل تاریخ ہے جو اپنے اقتدار کی راہ میں سعودی عرب کو سب سے بڑی رکاوٹ خیال کرتے ہیں۔
2014 میں یمن کی خانہ جنگی کے دوران حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ مارچ 2015 میں سعودی عرب نے عرب اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی جس کی درخواست خود یمنی صدر نے کی۔ اس طویل جنگ کے باوجود حوثی شمالی یمن کے بڑے حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔ 2022 میں ایک مرتبہ پھر یہ آگ بھڑکی، سعودی عرب ہرگز نہیں چاہتا کہ اس کی جنوبی سرحد پر ایک مسلح شدت پسند قوت میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اس کے شہروں، ایئرپورٹس اور آئل تنصیبات پر تلوار بن کر لٹک رہی ہو ۔ اور جب چاہے میزائل و بارود پھینکنا شروع کر د ے۔ باب المندب سٹریٹ، ریڈ سی کو خلیج عدن سے ملاتی ہے جس کے ذریعے بحری جہاز نہرسوئز سے یورپ و ایشیا کے درمیان تجارت کرتے ہیں جس پر عسکری دباؤ عالمی تجارت، آئل کی ترسیل اور جہازرانی کو متاثر کرتا ہے۔
سعودی عرب کو اس وقت سب سے بڑا ایشو اپنی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ اپنے شہروں اور شہریوں کی سلامتی اور اپنی معیشت کو بچانا ہے۔ آئل ریفائنریزکے ساتھ آئل ٹینکروں اور سپلائی لائنوں پر حملوں کو روکناہے۔ سعودی عرب کے پاس اگرچہ جدید فضائی قوت، وسیع معاشی وسائل اور اتحادیوں کی صورت میں زمینی فورسز بھی موجود ہیں لیکن حوثیوں نے برسوں کی جنگی صورتحال میں ایرانیوں کے تعاون سے اپنی عسکری صلاحیتیں نہ صرف برقرار رکھی ہیں بلکہ یہاں کا محفوظ پہاڑی سلسلہ، الجھی ہوئی جغرافیائی صورتحال، مقامی جنگی تجربہ کسی بھی بڑے سعودی آپریشن میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
خوشحالی اگر سلامتی کی خواہاں ہوتی ہے تو بھوک ننگ میں لوگ لڑنے مرنے کے لیے آمادہ رہتے ہیں، جو متشدد تنظیموں کا ایندھن بنتے ہیں۔ اب ایشو یہ ہے کہ موجودہ الجھی ہوئی صورتحال کا حل کیا ہے؟ ایک حل تو یہ ہے کہ امریکا، یو این اور عالمی طاقتیں بیچ میں کوئی رول ادا کرتے ہوئے فریقین میں کوئی قابل عمل معاہدہ کروا دیں جس کی ہر دو فریقین پاسداری کریں، لیکن اس کا امکان بہت کم ہے۔ کیونکہ جب تک ایران اور سعودی عرب بلکہ بشمول امریکا واسرائیل امن کی کوئی بڑی یا وسیع ترصورت پیدا نہیں ہوتی، ایرانی پراکسی شیعہ حوثی امن پر کیسے آمادہ ہو سکتی ہے؟ دوسری صورت یہ ہے کہ سعودی عرب اپنے اتحادیوں کی معاونت سے یمنی آئینی و قانونی حکومت کو اس قدر توانا کر دے کہ وہ اپنے باغیوں کی طاقت کو کچل کر رکھ دے۔ مگر مسئلہ پھر بھی یہ ہے کہ یمن کے اندرونی پہاڑی خطوں میں اس مزاحمتی تحریک کا کلی خاتمہ کیسے ہو سکتا ہے؟ بالآخر بوٹ اتارتے ہوئے سخت خونریزی کرنی پڑے گی جس کا رسک کوئی بھی نہیں لینا چاہتا۔
لہذا جس قدر ہو سکے حوثی عسکری طاقت کی کمر ٹوٹنے کے بعد جب مزاحمتی قوت گرے گی تبھی کسی امن معاہدے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ایرانی ولایت فقیہ کمزور ہو کر گرتی ہے تو پھر حوثیوں میں بھی دم خم نہیں رہے گا۔ اس سے بھی بڑی سچائی یہ ہے کہ پورے خطے میں امن و سلامتی کیلیے ایران اور سعودی عرب میں سے ایک کو زیر یا سر نگوں ہونا پڑے گا۔ ابھی یہ بھی فیصلہ ہونا ہے کہ عصر حاضر میں اصل طاقت مضبوط عسکریت ہے یا مضبوط معیشت؟
’ڈالر نہ ہو تو عصا ہے کار بے بنیاد‘