ہم اور ہماری مسلسل حماقتیں
- تحریر خالد مسعود خان
- ہفتہ 10 / اکتوبر / 2026
گندم کی گزشتہ فصل کے بارے میں زراعت کے طالب علم اس قلمکار نے جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ من و عن پورے ہوئے۔ اس عاجز نے یہ بات اپنے کالموں میں بارہا دہرائی کہ گندم سے جب تک کاشتکار کو چار پیسے نہیں بچیں گے، گندم کی کاشت میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہیں آئے گی۔
اس کیلئے جو سب سے پہلی اور ضروری چیز ہے وہ یہ ہے کہ حکومت گندم کی خریداری کی سپورٹ پرائس کا اعلان گندم کی کاشت شروع ہونے سے پہلے کر دے۔ تاکہ حکومت کی اعلان کردہ قیمتِ خرید کو مدنظر رکھتے ہوئے کاشتکار نہ صرف یہ کہ گندم کاشت کرنے کا ارداہ کرے بلکہ زیادہ سے زیادہ رقبے میں گندم اُگائے۔ قیمت اچھی ہونے کی صورت میں کاشتکار اپنی پیداوار بڑھانے کیلئے ممکنہ حد تک زرعی مداخل استعمال کرے گا۔ زرعی مداخل کے بھرپور استعمال سے جہاں گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ گندم کے کاشتکار کی خوشحالی کا باعث بنے گا ،وہیں ملک گندم کی پیداوار میں خودکفیل ہوگا۔ غلط اور احمقانہ حکومتی پالیسیوں کے باعث ملکی ضرورت سے کم گندم پیدا ہونے کی صورت میں گندم کی درآمد پر صرف ہونے والا زرِ مبادلہ اس ملک کی معاشی صورتحال کے مدنظر ایک اضافی معاشی بوجھ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ گزشتہ کئی سال سے یہی ہو رہا ہے کہ کبھی حکومت بروقت گندم کی امدادی قیمت کا اعلان نہیں کرتی اور کبھی کاشتکار سے گندم نہیں خریدتی۔
گزشتہ سے پیوستہ سیزن میں گندم کی فصل مارکیٹ میں آئی تو حکومت نے خریداری سے ہاتھ کھینچ لیا، نتیجہ یہ نکلا کہ آڑھتی،بیوپاری، فلور ملز مالکان اور ذخیرہ اندوزوں نے لوٹ کے مال کی طرح سستے داموں گندم خرید لی اور کاشتکار کا معاشی بیڑا غرق ہو گیا۔ گزشتہ فصل کی آمد پر سرکار نے خود تو خریداری سے جان چھڑوا لی تاہم اپنی طرف سے بارہ تیرہ نامزد کردہ پرائیویٹ کمپنیوں کو گندم کی خرید کے حقوق تقویض کر دیے۔ اس سارے گورکھ دھندے میں اصل مسئلہ یہ تھا کہ حکومت کی اعلان کردہ گندم کی قیمت ایسی تھی کہ اس قیمت میں کاشتکار کی لاگت بھی پوری نہیں ہوتی تھی لہٰذا اس بار آڑھتیوں،بیوپاریوں، ذخیرہ اندوزوں، مل مالکان اور سرمایہ کاروں نے سرکاری اعلان کردہ ریٹ سے نسبتاً بہتر ریٹ پر کاشتکار سے گندم خرید لی اور اسے ذخیرہ کر لیا۔ اب یہ گندم خریدنے والے آڑھتی، بیوپاری، ملز مالکان اور ذخیرہ اندوز خدائی خدمتگار تو تھے نہیں کہ اپنی خرید کردہ گندم پر مناسب منافع لے کر اسے مارکیٹ میں فروخت کر دیتے۔ ان کی ذخیرہ اندوزی کے طفیل مارکیٹ میں گندم کی کمی واقع ہوئی۔
اکنامکس کا قاعدہ ہے کہ مارکیٹ میں کسی چیز کی قیمت کے تعین میں طلب اور رسد میں توازن یا عدم توازن بنیادی کردار سرانجام دیتا ہے۔ سو گندم کے معاملے میں یہ قاعدہ اپنی پوری شدومد کے ساتھ بروئے کار آیا۔ ملز مالکان، آڑھتیوں، بیوپاریوں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے گندم کی ذخیرہ اندوزی کا یہ نتیجہ نکلا کہ مارکیٹ میں مصنوعی قلت کی صورت پیدا ہو گئی اور گندم کی قیمت دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں روپے فی چالیس کلو گرام اوپر چلی گئی۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے جہاں حکومت نے ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کا اعلان کیا وہیں اس نقطہ نظر کو مزید تقویت ملی کہ گندم ملک کی ضرورت سے کم ہے لہٰذا ذخیرہ اندوزوں نے گندم کی رسد کے سلسلے میں مزید ہاتھ کھینچ لیا۔
اب صورتحال یہ ہے کہ گندم کی مارکیٹ میں قیمت 5300 سے 5500 روپے فی چالیس کلو گرام کے درمیان ہے۔ اگر اُس وقت حکومت 4500 روپے فی چالیس کلوگرام کے حساب سے کاشتکار سے براہِ راست گندم خرید لیتی اور فلور ملز کو حسبِ سابق سرکاری گندم کی پسائی کے کوٹے کے مطابق گندم فراہم کرتی رہتی تو گیہوں کی قیمت کسی حد تک کنٹرول میں رہتی ۔نتیجتاً عوام کو مناسب قیمت میں آٹا ملتا رہتا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ 3500 روپے فی چالیس کلو گرام پر خرید کردہ گندم ذخیرہ اندوزی کے طفیل 5500 روپے فی چالیس کلو گرام کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے۔ یعنی سرمایہ کاروں،ذخیرہ اندوزوں، آڑھتیوں اور ملز مالکان کو فی چالیس کلو گرام دو ہزار روپے بچ رہے ہیں۔ کیا شاندار سرمایہ کاری ہے کہ چند ماہ میں ان کو اپنی بنیادی انویسٹمنٹ پر 60 فیصد منافع ہو رہا ہے۔
آج اکتوبر کا پہلا عشرہ گزر گیا ہے اور گندم کی کاشت میں اب بہت کم وقت رہ گیا ہے۔ یوں سمجھیں کہ حکومت کے پاس گندم کے کاشتکار کو گندم کی بھرپور کاشت پر مائل کرنے کیلئے بہت کم وقت بچا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اس سال گنے کے کاشتکار کے ساتھ جو ہوئی ہے وہ کسی دشمن کے ساتھ بھی نہ ہو۔ کرشنگ سیزن ختم ہوئے کم و بیش چھ ماہ ہو چکے ہیں۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ بہت سے کاشتکاروں کو ابھی تک ان کے گنے کی رقم وصول نہیں ہوئی۔ شوگر ملز کے پاس اس کا ایک ہی جواب ہے کہ چینی ملکی پیداوار سے بہت زیادہ ہو گئی ہے اور ان کی چینی گوداموں میں پڑی ہے اور فروخت نہ ہونے کی وجہ سے وصولی نہیں ہو رہی۔ ایسی صورتحال میں وہ کاشتکار کو ادائیگی کرنے سے قاصر ہیں۔ شوگر ملز مالکان کی اسمبلیوں میں اچھی خاصی نمائندگی ہے اور وہ اپنے حقوق کا بہر حال کسی نہ کسی طرح نہ صرف تحفظ کر لیتے ہیں بلکہ چینی ملکی ضرورت سے کم ہو یا زیادہ، وہ بہرحال اپنی چینی میں سے سونے کی چڑیا برآمد کر لیتے ہیں، گھاٹے میں صرف کاشتکار رہتا ہے۔ خیر پچھلے دو تین سیزن گنے کے کاشتکار کو اپنی فصل کی اچھی قیمت ملتی رہی تھی اور کپاس، مکئی اور دیگر فصلوں میں نقصان کے بعد بہت سے کاشتکار گنے کی کاشت کی طرف منتقل ہو گئے تھے۔ اس سال جبکہ ان کی گنے کی رقم ابھی تک پھنسی ہوئی ہے۔بہت سے کاشتکار شاید اس سال گنا کاشت نہ کریں۔ یہ نہایت مناسب وقت ہے کہ حکومت گندم کی پُرکشش قسم کی قیمت کا اعلان کرے اور گندم کے کاشتکار کو سرکار کی طرف سے خریداری کی یقین دہانی کرائے۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر حکومت اپنی سابقہ پالیسیوں سے رجوع کرتے ہوئے اگلے چند روز میں گندم سے متعلق جامع پالیسی جس میں قیمت اور خریداری کے پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہو، اعلان کر دے تو آئندہ سال ملک کو گندم درآمد نہیں کرنا پڑے گی۔
ایک زمانہ تھا کہ حکومت نے گنے کی کاشت کیلئے زون مخصوص کیے ہوئے تھے پھر یہ زوننگ آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔ گنا ان علاقوں میں بھی کاشت ہونے لگ گیا جو گنے کی کاشت کیلئے مناسب ہی نہیں تھے۔ اس کے بعد موسمیاتی تبدیلیاں اونٹ کی کمر پر آخری تنکا ثابت ہوئیں اور نتیجہ یہ نکلا کہ بالائی پنجاب کی ساری شوگر ملز تقریباً بند ہو چکی ہیں یا بند ہونے کے قریب ہیں۔ ان ملوں نے اپنا کاروبار وہاں سے اٹھا کر جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب میں منتقل کر دیا ہے۔ بالائی پنجاب میں گنے سے چینی کی ریکوری آٹھ،ساڑھے آٹھ، حد نو فیصد تک ہے، جنوبی پنجاب میں یہ ریکوری دس فیصد یا اس سے زائد جبکہ سندھ میں یہ ریکوری گیارہ فیصد سے بھی اوپر ہے۔ بالائی پنجاب میں گنے کی کرشنگ اب منافع بخش یا سودمند نہیں رہی۔ اوپر سے چینی کی پیداوار ملکی ضرورت سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے جبکہ ملکی آبادی میں شوگر کے مریضوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہو چکی ہے۔
گورے کی حکومت میں سو خرابیاں ہوں گی مگر اس کا وضع کردہ نظام حکومت سراسر ریاست کو مدنظر کر بنایا گیا تھا جبکہ ہمارا نظام حکومت حکمرانوں، مقتدرہ اور اشرافیہ کو مدنظر رکھ کر بنایا اور چلایا جا رہا ہے۔ اپنی غلطی سے سبق حاصل کیا جائے تو یہ دانائی ہے اور اگر اس پر اصرار کیا جائے تو یہ حماقت کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ اور ہم مسلسل حماقتیں کر رہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)