بابا غلمان شاہ، عمر 95 سال

بابا غلمان شاہ، عمر 95سال، میرا لنگوٹیا دوست! آپ حیران تو ہوئے ہوں گے مگر میرے دوستوں میں ہر عمر اور ہر مکتب فکر کے لوگ شامل ہیں۔ دیندار بھی، لا دین بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے ہم خیال بھی اور ایرے غیرے نتھو خیرے بھی۔

بابا غلمان شاہ بھی انہی میں سے ایک تھا۔ ہم سب ایک دوسرے کے مرتبے یا عمر کو خاطر میں لائے بغیر جناب آپ کی بجائے ’تم‘ کہہ کر مخاطب ہوتے ہیں ۔ گپ شپ کے دوران کبھی سنجیدہ نہیں ہوتے ۔ ایک دوسرے پر جملے کستے رہتے ہیں اور کوئی اس کا برا نہیں مانتا۔ اگر ہماری محفل میں کوئی چھوئی موئی سا شخص غلطی سے شامل ہو جائے تو چند دنوں بعد وہ خود ہمیں چھوڑ جاتا ہے یا ہم اسے منہ لگانا بند کر دیتے ہیں۔

با با غلمان شاہ دوستوں کی محفل کی جان تھا۔ آتے ہی کوئی شرلی چھوڑ دیتا اور پھر سب اس کے مصرعے پر گرہیں لگانے میں لگ جاتے ۔ ایک دن آتے ہی کہنے لگا  ’تم میں سے جنت میں کون کون جانا چاہتا ہے؟‘، ہم سب نے ہاں میں جواب دیا۔ غلمان شاہ بولا ’وہاں حور و غلمان تمہیں ملیں گے؟‘، ہم سب نے کہا  ’ان شا اللہ ‘ ۔ اس پر غلمان نے اپنی لمبی سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ’تم سب کیلئے فی الحال یہ غلمان شاہ حاضر ہے۔ باقی رہیں حوریں، وہ تو جنت میں ہوتی ہیں اور جیسی تمہاری کرتوتیں ہیں تم میں کوئی ایک بھی جنت میں جانے والا نہیں‘۔ اس پر غلمان شاہ کو کافی ٹھاپیں پڑیں۔

غلمان شاہ کے پوتوں اور پوتیوں کی شادیاں بھی ہو چکی ہیں اور آگے ان کی اولادیں بھی ہیں۔ غلمان شاہ دوستوں کو مخاطب کر کے کہتا رہتا تھا کہ تم لوگ مجھے کچھ سمجھتے ہی نہیں، حالانکہ میں اگر الیکشن لڑوں تو صرف میرے گھر کے ووٹ مخالف کو ہرانے کیلئے کافی ہیں۔ ایک دن میں نے اسے کہا یار غلمان تم ایک دفعہ الیکشن میں کھڑے ہوکر اپنی یہ خواہش پوری کر ہی لو ۔ بولا، تم لوگ مجھے ووٹ دو گے؟۔ میں نے جواب دیا ’ کیوں نہیں مگر کتنے پیسے دو گے؟‘ اس نے کہا ’ جتنے مانگو گے‘۔ اس پر ہم سب حیران ہوئے کہ جانتے تھے بابے کا گزارہ صرف پنشن پر ہے اور اس کی طوالت عمر دیکھ کر اس کا محکمہ کئی بارسوچ چکا ہے کہ پنشن صرف ستر سال کی عمر تک ملنی چاہیے۔ مگر غلمان شاہ نے ہمیں زیادہ دیر تک حیران رکھنے کی بجائے پریشانی میں مبتلا کرنا زیادہ بہتر سمجھا اور کہا میں کسی تگڑے مخالف امیدوار کے حق میں بیٹھ جاؤں گا اور اس کیلئے منہ مانگی قیمت وصول کروں گا۔

میں نے غصے سے بابا غلمان شاہ کی طرف دیکھا اور کہا تمہیں اس ضمیر فروشی پر شرم محسوس نہیں ہوگی؟ بولا کیسی شرم؟ خود تم نے ایک بار لکھا تھا کہ ’ضمیر انسان کو گناہ سے نہیں روکتا، صرف گناہ کا مزا کرکرا کرتا ہے‘۔ میں نے جواب دیا ’اگر تمہارے یہ عزائم ہیں تو لڑو الیکشن ، ہم تمہارے حلقے میں یہ اعلان کریں گے کہ لوگو ا سے ووٹ نہ دینا، اور جو اس کے ساتھ سودا بازی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، وہ بھی یہ غلطی نہ کرے کیونکہ اس کی عمر 95 سال ہے اور یہ بونس پر جی رہا ہے۔ پتہ نہیں کب اللہ کو پیارا ہو جائے  اور یوں یہ کسی کے کام نہ آسکے‘۔ اس پر غلمان شاہ ناراض ہو گیا۔ اس کی ناراضی کی واحد وجہ اس کی عمر اور اس کی فوتیدگی کا بیان تھا۔ کہنے لگا ’ میں اٹھ کر جا رہا ہوں اور آئندہ کبھی تم لوگوں کی محفل میں نہیں آؤں گا۔ یہ محفل اس لیے منفرد تھی کہ اس میں امیر غریب مشہور، گمنام اور چھوٹے بڑے سب برابر تھےمگر تم نے آج اس اصول کو توڑا اور اس کے ساتھ میری اس بات کو سنجیدگی سے لیا کہ میں الیکشن میں کھڑا ہوں گا اور پھر مخالف امید وار سے سودا بازی کروں گا۔ مجھے افسوس ہے کہ اس غیر سنجیدہ محفل کے دوستوں نے میرے کردار سے واقفیت کے باوجود مجھے گھٹیا لوگوں کی صف میں کھڑا کر دیا‘ ۔

 بس اس کے بعد ہم نے بابا غلمان کو منانے کیلئے کیا کچھ نہیں کیا ۔ جب اس کی ناراضی رفع نہ ہوئی تو ایک دوست نے آگے بڑھ کر غلمان شاہ کی بغل میں گدگدیاں شروع کر دیں جس پر بابا غلمان دُہرا تہرا ہو کر ہنسنے لگا اور یوں بات آئی گئی ہوئی ۔ غلمان شاہ ایک بڑے مرتبے کا بیورو کریٹ تھا مگر اس وقت بھی اس کا رویہ ہر کسی کےساتھ دوستانہ ہوتا تھا۔ ہر سائل کے ساتھ فری ہو جاتا تھا۔ ہر ایک کا تفصیلی دکھ سننے میں لگا رہتا اور مظلوموں کی داد رسی کرتا۔ اسے بیوروکریٹ کے کوٹے میں پلاٹ کی آفر بھی ہوئی مگراس نے ٹھکرادی۔ میں نے گزشتہ روز غلمان شاہ سے پوچھا ’یار! اپنی طویل العمری کا راز توبتاؤ ؟‘ اس پر وہ ہنسا اور بولا طویل العمری ؟ آریو کریزی؟ میں تو ابھی صرف 95برس کا ہوں، میں نے کہا یار بات کو مذاق میں نہ ٹالو ، آج اپنی لمبی عمر کا راز بتا ہی دو ۔ یہ سن کر اس نے بھر پور قہقہہ لگایا اور بولا ’میں آدم کی اولاد ہوں اور تم نے بھی سنا ہوگا کہ ماضی میں آدم زادوں کی عمریں اتنی طویل ہوتی تھیں کہ میری موجودہ عمر کے لوگ بچوں میں شمار ہوتے تھے۔ لہٰذا تمہیں ابھی کئی سو سال مجھے بھگتنا پڑے گا‘۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے ایک بار پھربھر پور قہقہہ لگایا۔

اس پر مجھے غصہ آگیا کیونکہ اگر کوئی مذاق کو کچی لسی کی طرح پھیلاتا جائے تووہ مذاق نہیں رہتا۔ لہٰذا میں نے اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا ’ بندے دا پتر بن اور مجھے بتاؤکہ تم کن اصولوں پر عمل کرتے رہے، جس کی وجہ سے اس عمر تک پہنچے؟‘ مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور میں نے دیکھا کہ اس کی گردن ایک طرف کو لڑھک گئی تھی ۔ یہ آدم زاد صرف 95 برس کی عمر میں ہم سے جدا ہو گیا تھا۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)