ایمرجنسی نہ لگنے کی اب کوئی گنجائش نہیں بچی: محسن نقوی
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں جاری لانگ مارچ کے تناظر میں ہفتے کو اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا۔
ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں طے پایا کہ 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلائے جائیں گے۔ ملاقات میں وزیراعظم کی معاونت نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء الّلہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ نے کی۔ سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے صدر مملکت کی معاونت کی۔
ایوان صدر میں یہ اجلاس ایک ایسے موقعے پر ہوا جب اسلام آباد کی جانب بڑھنے والے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ کرنے کی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ زرداری اور شہباز شریف کے درمیان ملاقات کے بعد پاکستانی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ وفاق نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کی اتوار کو وفاقی کابینہ سے منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ سے منظوری کے بعد گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ایک لڑکی کی مبینہ خودکشی پر ان کے والد سے تعزیت کے بعد میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ کے پی میں ایمرجنسی نہ لگنے کی اب کوئی گنجائش نہیں بچی۔ انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود مولانا فضل الرحمان اور بیرسٹر گوہر علی خان سے پتہ کریں کہ میں نے کتنی کوششیں کیں کہ معاملہ حل ہو جائے۔ ’میں نے آخری حد تک کوشش کی لیکن اب میرے پاس کچھ نہیں۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈی پنڈنٹ اردو کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے حوالے سے کابینہ اور پارلیمان سے منظوری لی جائے گی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جیو نیوز سے گفتگو میں کسی فیصلے کی تصدیق تو نہیں کی البتہ کہا کہ اس حوالے سے مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف درجوں پر مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔’میں ایک بار پھر کہتا ہوں کہ مشاورت جاری ہے اور یہ آخری راستہ ہے۔ اس سے پہلے کے تمام راستے، مثلاً مذاکرات اور پس پردہ بات چیت، ہم سب آزما چکے ہیں۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ اگر کوئی دوسرا راستہ باقی نہ رہا تو اس آخری قدم پر تمام پہلوؤں سے غور کیا جائے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ حالات اسی آخری آپشن کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے گورنر ہاؤس نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن برقرار رکھنے اور ترقی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔ بیان کے مطابق صوبےکے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں امور کشمیر و گلگت بلتستان کے وفاقی وزیر امیر مقام سے ملاقات کی۔ ملاقات میں احتجاجی مارچ، صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورت حال اور دیگر سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام ’دہشت گردی‘ اور مبینہ طور پر انتشار کی پشت پناہی اور اسے فروغ دینے والے سیاسی گروہ سے تنگ آ چکے ہیں۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کے ہزاروں حامیوں کے ہمراہ دارالحکومت کی جانب احتجاجی مارچ کی قیادت کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت پر عمران خان کی اپنے وکلا اور اہل خانہ تک رسائی محدود کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے، تاہم حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ پی ٹی آئی ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ وفاقی حکومت کوئی پالیسی مسلط کرنے کے بجائے اتفاق رائے سے دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی تیار کرے۔ سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کے ساتواں روز چارسدہ سے روانگی سے پہلے شرکا سے خطاب میں کہا کہ 11 تاریخ کو ملک بھر سے لوگ صوابی کی طرف روانہ ہوں گے جہاں 13 تاریخ کو وہ آگے کا لائحہ عمل دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ’گورنر راج کی دھمکیاں دینے والے سن لیں اب بات کرسی اور اقتدار سے آگے نکل چکی ہے۔ میں اپنے قائد اور پختونوں کی زندگی کے لیے یہ کرسی کیا جان بھی قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے مگر اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ’ہم نے 80 ہزار جانیں دے کر جس امن کو بحال کیا اسے بند کمروں کے فیصلوں کی نذر کر دیا گیا۔‘
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آج پی ٹی آئی کی حکومت کو صوبے میں ’طرز حکمرانی کے فقدان‘ پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں ن الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت 700 ارب روپے دیے گئے۔’آپ نے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو اپ گریڈ نہیں کیا، فرانزک لیبارٹریاں قائم نہیں کیں اور سیف سٹی کیمرے نصب نہیں کیے حالانکہ یہ ضم شدہ اضلاع اور خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کے داخلی اور خارجی راستوں پر نصب کیے جانے چاہییں۔‘
وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی یہ رقم احتجاجی مظاہرے منظم کرنے پر خرچ کر رہی ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے تنقید کرتے ہوئے کہا ’آپ صوبے میں دہشت گردی کے معاملے پر بات کرنے کے لیے آدھا گھنٹہ بھی نہیں نکالتے لیکن بدامنی اور توڑ پھوڑ پھیلانے کے لیے چھ چھ گھنٹے کے اجلاس منعقد کرتے ہیں۔‘
ادھر خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان شفیع جان نے ایکس پر ایک بیان میں بتایا کہ سہیل آفریدی کی زیرِ صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پارٹی کی سینیئر قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال، پارٹی کے مجوزہ لانگ مارچ اور دیگر اہم سیاسی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی حالات کے تناظر میں آئندہ حکمتِ عملی اور تنظیمی امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔