خیبر پختون خوا میں وفاق کی حکمرانی

صدر  مملکت آصف علی زرداری نے وزیر اعظم کے مشورے پر خیبر پختون خوا میں آئین کی شقات 232 اور 234 کے تحت بالترتیب ایمرجنسی نافذ کرنے اور صوبے کے معاملات براہ راست وفاق کی نگرانی میں دینے کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ اس سے پہلے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صوبے میں دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کے عدم تعاون  کی بنیاد پر ہنگامی انتظامات کا فیصلہ کیا تھا۔

ایمرجنسی کے تحت وفاقی حکومت اپنے نمائیندوں کے ذریعے صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے براہ راست اقدامات کرسکتی ہے۔ جبکہ گورنر خیبر پختون خوا کی سفارش پر آئینی شق 234 کے تحت صوبائی حکومت کو  آئین کے مطابق فرائض انجام نہ دینے کی وجہ سے معطل کرکے  صوبے کے معاملات وفاق کے سپرد کیے گئے ہیں۔  وفاقی حکومت کافی مدت سے ان انتہائی اقدامات کے اشارے دے رہی تھی اور متعدد وزرا اپنے بیانات میں  صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے صوبے میں ایمرجنسی  کے بارے میں متنبہ کرتے رہے تھے۔

صوبائی حکومت یا پاکستان تحریک انصاف کے لیے  اتوار کو دوپہر کے بعد جاری ہونے والا  صدارتی حکم نامہ غیر متوقع نہیں تھا۔ خبروں کے مطابق گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف نے  جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں  اس فیصلے سے آگاہ کردیا تھا اور اتمام حجت کے لیے انہیں کہا گیا تھا کہ  تحریک انصاف کو غیر مشروط تعاون  پر آمادہ کیا جائے ۔  آج   صبح  اس مقصد کے لیے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران نائب وزیر اعظم  و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے  ٹیلی فون پر مولانا فضل الرحمان سے بات کی اور انہیں حکومت کے اقدام سے باقاعدہ  آگاہ کیا۔ قیاس ہے کہ اس بات چیت میں مولانا سے دریافت کیا گیا ہوگا کہ کیا تحریک انصاف غیر مشروط  تعاون پر آمادہ ہے یا نہیں۔

صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی  اور پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کی گرفتاریوں کی خبریں سامنے آئی ہیں ۔  البتہ  اس انتہائی آئینی اقدام کے بعد دیکھنا ہوگا کہ وفاقی حکومت کس حکمت عملی کے تحت صوبے کے معاملات درست کرپاتی ہے۔ حکومت کا بنیادی اعتراض دہشت گردی میں اضافہ اور صوبائی حکومت کی لاتعلقی سے متعلق تھا۔ ہفتہ عشرہ پہلے تحریک انصاف اور حکومتی پارٹیوں کے درمیان دو روز تک بات چیت میں بھی یہی موضوع سر فہرست تھا۔ وفاقی حکومت  طاقت کے زور پر صوبے سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف سخت عسکری کارروائی کی مکمل اور غیر مشروط  کارورائی کی حمایت چاہتی تھی۔ تحریک انصاف کے متعدد لیڈر اس   کے بدلے عمران خان کے لیے رعایات لینے کے حامی تھے لیکن وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے آخری لمحوں میں طے پانے والے معاہدے کو ماننے سے انکار کردیا۔  سہیل آفریدی اس کی بنیادی وجہ دہشت گردی کے خلاف عسکری کارروائی کی مخالفت بتاتے رہے ہیں لیکن درحقیقت انہیں اس بات پر اعتراض تھا کہ وفاقی حکومت معاہدہ میں دہشت گردی کے سوال پر صوبائی حکومت سے مراعات حاصل کرنے کے باوجود عمران خان سے ملاقاتوں، ان کے علاج  یاان کی بہنوں کی رہائی کا کوئی وعدہ کرنے پر آمادہ نہیں تھی۔ اسی لیے یہ تعطل بریک ڈاؤن تک پہنچا اور اب صوبائی حکومت کو ناکارہ بنا کر صوبے میں تحریک انصاف کا اقتدار ختم کردیا گیا ہے۔

صدارتی حکم نامہ خیبر پختون خوا میں سہیل آفریدی کی قیادت میں لانگ مارچ  کی تیاریوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ یہ لانگ مارچ 4 مارچ کو لکی مروت سے شروع ہؤا تھا لیکن صوبے میں گھومنے کے باوجود تحریک انصاف اتنے لوگ اکٹھا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی کہ وہ اسلام آبا دکی طرف روانہ ہوسکے۔ لانگ مارچ سے عوام  کی عمومی عدم دلچسپی  نے وفاقی حکومت کو سخت اقدام کرنے کا حوصلہ دیا۔ اگر سہیل آفریدی اور تحریک انصاف لانگ مارچ کے لیے کثیر تعداد میں  لوگ جمع  کرنے  میں کامیاب ہوجاتے تو شاید وفاق کو عوامی  دباؤ کے پیش نظر صوبے کی حکومت کے  خلاف اقدام کا حوصلہ نہ ہوتا۔  البتہ یہی اندازہ کیا گیا کہ لانگ مارچ کے نام پر جمع ہونے والے چند ہزار لوگوں کو آسانی سے منتشر کرکے امن و امان بحال کیا جاسکے گا۔

وفاقی حکومت عمران خان سے ملاقاتوں کے معاملہ پر قابل ذکر رعایت دے کر اس انتہائی صورت حال سے بچنے کا راستہ نکال سکتی تھی لیکن بدقسمتی سے اقتدار پر قابض لوگوں نے یہ آسان اور مفاہمانہ راستہ اختیار کرنے  کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کے برعکس  اٹک اور اسلام آباد میں تحریک انصاف کا لانگ مارچ روکنے کے لئے خزانے کے کروڑوں روپے صرف کیے جاتے رہے۔  اور دوسری طرف بات چیت کی بجائے اس بات پر نگاہ رکھی گئی کہ سہیل آفریدی کتنے لوگوں کو سڑکوں پر نکال پاتے ہیں۔  یہ حکمت عملی منفی سیاسی رویہ اور غیر جمہوری طریقے کی آئینہ دار ہے۔ وفاقی حکومت کو زیب نہیں دیتا تھا کہ  خیبر پختون خوا کی حکومت کو اپنے لیڈر سے ملاقاتوں اور طبی سہولتوں کے لیے انتہائی اقدام پر مجبور کرے۔  حکومت اگر عمران خان کے لیے چند رعائتیں دے دیتی تو ایک ایسی صورت حال سے بچا جاسکتا  تھا جو اب سیاسی افتراق اور  تصادم کی طرف لےجاسکتی  ہے۔ اس کی بجائے تحریک انصاف کی اسٹریٹ پاور کو جانچنے کی کوشش ہوتی رہی اور اس پارٹی کی عوامی  مقبولیت کے پہلو کو نظر انداز کردیا گیا۔ یہ  حکمت عملی  بعد میں حکومت اور موجودہ حکمران پارٹیوں کے گلے کا کانٹابن سکتی ہے۔

دوسری طرف  سہیل آفریدی  نے عمران خان  سے ملاقات کا  معاملہ حل کرانے کے لیے دہشت گردی کی سنگین صورت حال کو ’بارگیننگ کارڈ‘ کے طور پر استعمال کیا۔ عمران خان کو قانونی طور سے چند سہولتیں حاصل ہونی چاہئیں۔ اس حوالے سے حکومت کا رویہ ناقابل قبول ہے لیکن کسی صوبائی حکومت کو بھی دہشت گردی جیسے سنگین معاملہ کو  سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اگر تحریک انصاف کی یہ بات مان بھی لی جائے کہ وفاقی حکومت ناجائز اور فارم  47 کی  وجہ سے قائم ہوئی ہے تو بھی  اس حکومت کی مخالفت میں کسی پارٹی  یا سیاسی حکومت کو  فوج کے خلاف محاذ آرائی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ رویہ ملک کی معروضی حرکیات کے  بھی خلاف ہے۔  سہیل آفریدی نے لانگ  مارچ کے دوران اپنا لب و لہجہ سخت کیا اور یوں ظاہر کرنے کی کوشش کی جیسے ملک کی فوج  دہشت گردی کے نام پر خیبر پختون خوا کے پرامن شہریوں کو ہلاک کررہی  ہے اور سہیل آفریدی اس کے راستے کی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ یہ رویہ اس قوم پرستی کے بھی  برعکس تھا جس کا اعلان سہیل آفریدی کے علاوہ تحریک انصاف کے لیڈر  کرتے رہے ہیں۔  البتہ بدقسمتی سے تحریک انصاف کی قیادت کمزور اور باہمی انتشار کا شکار ہے اور وہ کسی متفقہ فیصلہ پر پہنچنے  کے قابل دکھائی نہیں دیتی۔  لیکن نعرے لگانے اور  نکتہ چینی کرنے میں سب ہم زبان ہوجاتے ہیں۔

کسی صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد وفاقی حکومت کو اگرچہ مختصر مدت کے لئے من مانی  اور اپنی صوابدید کے مطابق  فیصلے کرنے کا اختیار حاصل ہوجاتا ہے لیکن  کسی آئینی انتظام میں یہ صورت حال غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رہ سکتی۔ اس لیے حکومت کے پاس  اس مختصر مدت میں مؤثر طریقے سے دہشت گردی کے خطرے کو  ختم کرنے  کا منصوبہ ہونا چاہئے۔ اگر چند ماہ  بعد بھی خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے حالات میں تبدیلی واقع نہیں ہوتی تو تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف وفاقی حکومت کا مقدمہ جھوٹا  یا کمزور ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ  یہ ہنگامی مدت گزرنے کے بعد  صوبے کی منتخب جماعت تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی اتفاق  رائے کی کوئی  واضح حکمت عملی بھی  موجود ہونی چاہئے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے  سوشل میڈیا پر ایک بیان میں ہم صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی  شدید مذمت کی ہے اسے یکسر مسترد کیا ہے۔ بیرسٹر گوہر کو تحریک انصاف  کے   اعتدال پسند  عناصر  میں شامل کیا جاتا ہے۔ انہیں مذمت  کے بعد اب مستقبل کی سیاسی حکمت عملی میں انتہاپسندی ترک کرکے وفاقی حکومت کے ساتھ  سیاسی بنیاد پر معاملات طے کرانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ تاکہ چند ماہ بعد خیبر پختون خوا  اسمبلی اور حکومت بحال ہوسکے۔اور پارٹی لیڈروں کو بھی غیر ضروری قانونی مشکلات سے بچایا جاسکے۔