یہ اضطراب سا کیوں ہے؟

ہر گزرتے دن دنیاکے بیشتر ممالک کسی نہ کسی بے چینی اور انتشار کا شکار ہو رہے ہیں۔ روس یوکرائن جنگ، ایران امریکہ جنگ، اسرائیل کی مسلسلسل جارحیت، یمن کے حوثیوں کی اپنی حکومت اور اب سعودی عرب سے جنگ جیسے بڑے بڑے محاذوں نے دنیا کے سکون کو تہہ و بالا کیا ہوا ہے۔

ان جنگوں سے متاثرہ ملکوں کے علاوہ بھی کہیں سے راوی کو ڈھونڈے سے چین نہیں مل پا رہا ۔ ملک در ملک ایک بے چینی اور اضطراب ہے،۔شکلیں الگ الگ ہیں مگر بے چینی اور اضطراب کے مظاہرے اب سڑکوں پر ہیں ۔ ہمارے ہاں پی ٹی آئی کا مارچ اور ایمرجنسی کا ممکنہ" ڈبل مارچ" بھی ایسے ہی اضطراب کی ایک شکل ہے ۔

گزشتہ کچھ سالوں کے دوران یورپ کو جنت نظیر جانتے ہوئے ہزاروں نوجوان غیر قانونی ذرائع اختیار کرکے ، اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہوئے یورپ جانے کی کوششوں میں رہے ۔ بے شمار حادثات اور سینکڑوں اموات ہوئیں۔ پوچھا جاتا تو جواب ملتا کہ زندگی تو ہے بس یورپ کی ہے! ستم ظریفی دیکھئے کہ "جنت نظیر" یورپ اب خود بے چینی کا شکار ہے۔ فرانس میں دو تین ہفتے قبل سٹوڈنٹس نے شدید مظاہرے کیے۔ مطالبات سکولوں میں ٹیچرز کی کمی، فیسوں اور ناکافی سہولیات پر مبنی تھے۔ دنیا بھر کو جمہوریت سمجھانے والے فرانس نے اپنے ہاں طلبہ کے ان مظاہروں کو شدت سے کچلنے کی کوشش کی ۔ نتیجہ وہی نکلا جو تشدد کے جواب کا نکلتا ہے۔ مظاہرے تیزی سے پھیلتے چلے گئے۔ ہزاروں گرفتاریاں ہوئیں لیکن مظاہرے نہ رکے ۔مظاہرے پڑوسی ملک بیلجیئم میں بھی پھیل گئے ۔ وہاں طلبہ کے ساتھ ساتھ لیبر یونینز بھی مظاہروں میں شریک ہوئیں۔ لیبر یونینز ناراض تھیں کہ ان کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔

یورپ کے ملک سپین میں پچھلے کئی ہفتوں سے مسلسل مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ یہ ہے کہ ہاؤسنگ کی شدید قلت ہے اور کرایوں میں بڑی تیزی سے ہوش ربا اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس سے خلق خدا کا اب گزارا ممکن نہیں ۔ مظاہرین کے مطالبات کے سامنے جھکتے ہوئے حکومت نے پانچ سال تک کرایے منجمد کرنے اور بہ زور گھروں سے بے دخلی کے مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا لیکن پارلیمنٹ نے انہیں ماننے سے انکار کردیا۔

بے چینی اور اضطراب کے یہ مظاہر یورپ کے کئی دیگر ملکوں میں بھی خبروں کا موضوع رہے ہیں۔ چند ماہ قبل مشرقی یورپ کے ایک ملک میں یونیورسٹی کی فیسوں میں اضافے کے خلاف طویل مظاہرے ہوئے۔ برطانیہ میں ہاؤسنگ کی قلت اور مہنگائی کے خلاف بھی اس طرح کی لہر کسی نہ کسی صورت نظر آتی رہتی ہے۔ یورپ میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران انتہائی بائیں بازو اور انتہائی دائیں بازو کے دھڑوں کی تیزی سے مقبولیت کے پیچھے بھی یہی سیاسی اور معاشی بے چینی ہے۔ لہذا یہ بحث اب شدت سے ہو رہی ہے کہ آخر اس بے چینی کی وجہ کیا ہے؟

حکومتیں بظاہر بے بس نظر آتی ہیں جبکہ عوام کے مسائل حل ہونے کی بجائے ان کی زندگی وقت کے ساتھ ساتھ مزید مشکل ہو رہی ہے۔ ایک طرف اے آئی جیسی ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا کی کایا پلٹ اور آسانیوں کی نوید ہے تو دوسری طرف موجودہ سیاسی، معاشی اور انتظامی ڈھانچہ لوگوں کی زندگی میں آسانیوں کا باعث نہیں بن رہا۔ جس کی وجہ سے لوگوں میں جمہوریت اور اس کے اداروں سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔

بھارت کے الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹرز لسٹوں میں یک طرفہ نظر ثانی اور ان فہرستوں کی تشکیل نو سے لگ بھگ 13 کروڑ ووٹرز لسٹوں سے غائب کر دیے گئے ۔ یوں ملک بھر میں پائے جانے والی بے چینی ایک بار پھر مظاہروں کی شکل اختیار کر گئی ۔ نئی دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی کے مظاہرے کو دلی سرکار نے حسب معمول تشدد اور پولیس گردی کے ذریعے روکنے اور دبانے کی کوشش کی، جس کا نتیجہ الٹ نکلا ۔ پولیس کی پکڑ دھکڑ بھی جاری ہے اور مظاہرے بھی شدت سے جاری ہیں ۔دیکھیے اس بار بھی مظاہرین چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ لینے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر مظاہرین کا اضطراب اور انتشار کوئی اور شکل اختیار کرتا ہے۔

بظاہر ان تمام واقعات کے محرکات اور وجوہات مختلف ہیں لیکن اگر ان بکھرے ہوئے واقعات کو ایک عالمی سیاسی و اقتصادی تناظر میں دیکھا جائے کہ اضطراب اور بے چینی بے وجہ نہیں ۔ حکومتوں سے وابستہ عوامی توقعات پوری نہیں ہو رہیں۔ سیاسی اشرافیہ عوامی امنگوں سے بے نیاز ہوتی نظر آ رہی ہے۔ زبانی جمع خرچ بہت ہے لیکن عملاً بہتری کی بجائے ابتری پاؤں پسار رہی ہے۔ بڑھتی ہوئی عالمی سماجی اور معاشی بے چینی کے بارے میں بہت سے سماجی اور معاشی ماہرین کا خیال ہے جدید حکمرانی کے نظام میں اسٹرکچرل خلل آ چکا ہے۔ اس خلل کی اصل بنیاد ریاست کا وہ معاشی فلسفہ ہے جسے نیو لبرل اکانومسٹس اور انتہائی دائیں بازو کے سیاست دانوں نے گزشتہ 40/45 سالوں سے میڈیا، اکیڈیمیا اور ورلڈ آرڈر کے زریعے مسلط کیا۔ مارکیٹ اکانومی اور بڑی کارپوریشنز کے سرمائے اور بیانئے نے جمہوریت اور عوامی بہبود کو دھیرے دھیرے اپنے زیر اثر کرلیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پبلک گڈ یعنی حکومتوں نے "عوامی بھلائی" کے کاموں کو فنانشلائزیشن (Financialisation) کے بل بوتے پر آزاد منڈی اور بے رحم سرمائے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

معروف برطانوی ماہرِ معاشیات ماریانا مازُوکاٹو (Mariana Mazzucato) کے بقول جدید ریاستوں نے اپنے اصل جمہوری کردار یعنی ’عوامی فلاح و بہبود‘ سے منہ موڑ لیا ہے اور خود کو صرف مارکیٹ اکانومی کی سہولت کاری کے ایک ثانوی ادارے کی صورت دے ڈالی ہے۔ مازُوکاٹو کے مطابق جب تعلیم، صحت اور رہائش جیسی انسان کی بنیادی ضروریات کو "عوامی فلاح" کے بجائے صرف منافع بخش اثاثہ بنا دیا جاتا ہے تو ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان قائم قدرتی تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ جب ریاست بنیادی سہولیات کی فراہمی کے اپنے بنیادی آئینی اور اخلاقی فریضے کی بجائے طاقت ور اشرافیہ کی سہولت کار بن جائے، تو عام ادمی کا ریاستی نظام سے الگ تھلگ اور بیزار ہو جانا ایک لازمی امر ہے۔

وطن عزیز میں بھی مہنگائی، بے روزگاری ،کرپشن، سیاسی عدم استحکام اور حالیہ دہشت گردی کی لہر سے عوام بے سکون اور بے چین ہیں۔ اس بے چینی کا پٹرول ڈیزل پر وقتی سبسڈی اور چند شعبوں میں وقتی ریلیف مکمل، مداوا نہیں۔ حکومت اور سیاسی اشرافیہ کو اپنے اپنے مفادات کے حصار اور خود پرستی کے خول سے باہر نکلنا ہو گا۔ ورنہ یہ بے چینی اور اضطراب کسی بھی وقت کسی بھی شکل میں ظاہر ہو سکتا ہے کہ یہ بے اضطراب بے وجہ نہیں ہے۔