ثالث تلاش کر لیجیے
- تحریر مجیب الرحمن شامی
- اتوار 11 / اکتوبر / 2026
خیبرپختونخوا میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے زیر قیادت لانگ مارچ جاری ہے،اسے اسلام آباد پہنچنا تھا لیکن یہ اپنا راستہ اور تاریخیں بدلتا جا رہا ہے۔اپنے ہی صوبے کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک اُچھل کود ہورہی ہے۔
ہمارے اہلِ سیاست نے جہاں پولیٹکل سائنس اور جمہوریت کی کئی اصطلاحات کو من مرضی کے معانی پہنا دیئے ہیں وہیں لانگ مارچ کی بھی من مانی تاویلیں اور تشریحات کی جا رہی ہیں۔ چین کی ریڈ آرمی کا لانگ مارچ مشہور ترین اور عظیم ترین سمجھا جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں عوامی جمہوریہ چین وجود میں آیا، کیمونسٹ پارٹی مضبوط ہوئی، چیئرمین ماؤزے تنگ کی قیادت اُبھر کر سامنے آئی۔ یہ کم و بیش ایک سال جاری رہا۔ اس میں ریڈ آرمی کو شدید جانی نقصانات بھی اٹھانا پڑے لیکن بالآخر چیانگ کائی شیک کی حکومت گر گئی۔ہمارے سہیل آفریدی جس مارچ کو ’لانگ مارچ‘ قرار دے رہے ہیں، وہ ایک گشتی میلہ ہے، مختلف شہروں اور قصبوں سے ان کا یہ میلہ گزر رہا ہے۔ کہیں کم کہیں زیادہ لوگ اسے دیکھ کر تالیاں بجاتے اور نعرے لگا دیتے ہیں، اپنے کارکنوں کو تھکا دینے کے علاوہ ابھی تک اس نے کوئی اور کارنامہ سرانجام نہیں دیا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کا دعویٰ ہے کہ کسی بھی مقام پر چند سو افراد اکٹھے نہیں ہو پائے۔ اِس دعوے کو تسلیم نہ کیا جائے اور اسے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر قرار دے دیا جائے تو بھی اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کا کوئی اعلان نہیں ہو رہا۔ رانا ثنااللہ کا دعویٰ ہے کہ اسے اسلام آباد کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا جائے گا۔ محسن نقوی کے دستے اِس کے راستے میں دیوارِ چین بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ مارچ کے شرکا قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے۔ جہاں ان کے راستے میں وفاقی رکاوٹ کھڑی کی جائے گی ،وہ وہیں بیٹھ جائیں گے۔ قانون کو ہاتھ میں لیں گے نہ کسی دوسرے کو موقع دیں گے کہ وہ (جواباً) قانون کو ہاتھ میں لے۔اِس طرح بیٹھے بیٹھے ہزاروں افراد وفاقی حکومت کی جڑوں میں بیٹھ جائیں گے۔
وفاقی حکومت سر جوڑ کر بیٹھی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری بار بار تحریک انصاف کو سمجھا رہے ہیں کہ آصف علی زرداری چودہ سال جیل کاٹ کر دِکھا چکے ہیں۔عمران خان بھی کچھ عرصہ مزید جیل میں گزار لیں تو ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔جیل زرداری صاحب کا کچھ نہیں بگاڑ سکی تو عمران خان کا کیا بگاڑ لے گی۔وہ ماشا اللہ دوسری بار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر منتخب ہو چکے ہیں، ان کی فراست اور ذہانت کا سکہّ چل رہا ہے۔ انہیں سڑکوں پر گھسیٹنے کا دعویٰ کرنے والے بھی سیاست کے گر ان سے سیکھنے کے لئے بڑے اہتمام سے تشریف لاتے ہیں،اور اپنا سر صدرِ محترم کے سر سے جوڑ کر تحریک انصاف کا توڑ ڈھونڈنے کے منصوبے بناتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے خان صاحب کو دلاسہ دیا ہے کہ اگر وہ مزید کچھ عرصہ جیل میں گزار لیں تو صدارت یا وزارتِ عظمیٰ کے لئے ان کی ’کوالیفکیشن‘ میں اضافہ ہو جائے گا۔ ان کے سی وی میں دس سال یا آٹھ سال یا سات سال قید بھگتنے کا ذکر ہو گا تو ’پبلک سروس کمشن‘ کے ذریعے ان کی تقرری کا باقاعدہ اعلان آسان ہو جائے گا۔
عمران خان اِس نسخے کو آزمائیں یا اپنے نسخے کو ترجیح دیں، یہ ان کی مرضی ہے۔ ان کے گزشتہ چار سال تو بتا رہے ہیں وہ ’نو نقد‘ کے قائل ہیں، ’تیرہ ادھار‘ پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ آج کا حساب آج بے باق کرنا چاہتے ہیں۔ سو وزارتِ عظمیٰ سے فراغت کے بعد مسلسل جوہر دکھا رہے ہیں۔ یہ اور بات کہ منزل قریب آتی محسوس نہیں ہو رہی۔ راستہ لمبا اور پیچیدہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی بات اگر مان لی جائے یا میاں نواز شریف کے تجربے سے سبق حاصل کر لیا جائے تو پھر تحریک انصاف کے جملہ رہنماؤں اور کارکنوں کو ٹھنڈا پانی پینا پڑے گا۔ ہو سکتا ہے جب یہ سطور آپ کی نظر سے گزر رہی ہوں، خیبرپختونخوا میں کوئی وفاقی کارروائی کی جا چکی ہو۔گورنر فیصل کریم کنڈی کے ہاتھ میں کنڈا پکڑایا جا چکا ہو یا وزیراعلیٰ کے اختیارات سلب کرنے کے لئے کوئی اور اقدام کیا جا چکا ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ نہ کیا گیا ہو، صرف تیل دیکھئے اور تیل کی دھار دیکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہو۔ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے سے دور رہ کر جو بھی فیصلہ کریں گی، اس کے نتیجے میں الجھاؤ پیدا ہو گا۔تلخی بڑھے گی، پاکستان کی تاریخ میں کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ اپنی اپنی ضد پر اڑنے والے ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں۔معاملات ان کے ہاتھ سے یوں نکلے ہیں کہ وہ تالیاں بجانے کے بھی قابل نہیں رہے۔
یہ درست ہے کہ فی الوقت مارشل لاکا تو نفاذ کوئی آپشن نظر نہیں آتا،اس سے پیچیدگیاں بڑھیں گی اور پاکستانی ریاست ایسے گرداب میں پھنس جائے گی،جس سے نکلنا دشوار تر ہو گا لیکن آئین کے اندر جو کچھ لکھا ہوا ہے،اس کو تو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی ناپسندیدہ سہی،ان کے سیاسی مضمرات کی تفصیل خوفناک سہی لیکن اگر کوئی چارہ نہیں رہے گا تو پھر چارہ گر بے چارگی سے بیٹھے تو نہیں رہیں گے۔ تحریک آئین پاکستان اور تحریک انصاف کے سرد و گرم چشیدہ رہنما اپنے معاملات کا دوبارہ جائزہ لیں،وفاقی حکومت بھی اپنے گذشتہ اور آئندہ اقدامات پر ایک بار نہیں، سو بار غور کرے۔مولانا فضل الرحمن اور اُن کی طرح کے جو دوسرے اصحاب موجود ہیں جن کی بات سنی جا سکتی ہے،ان سے موثر رابطہ کیا جائے،مفتی تقی عثمانی، مولانا طارق جمیل،مفتی منیب الرحمن کے دروازوں پر بھی دستک دے دی جائے،فریقین اگر اپنی اپنی پیدا کردہ الجھنوں کو خود رفع کرنے کے قابل نہیں رہے تو پھر ثالثی کا سہارا لے لیں۔جن افراد کا اوپر نام لیا گیا ہے، ان کو یا اگر کوئی اور صاحبانِ وقار تلاش کیے جا سکتے ہیں تو ان کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ اپنا فیصلہ صادر کر دیں،راہِ عمل تجویز کر دیں۔اس طرح کسی کی اَنا مجروح نہیں ہو گی۔تصادم کا سانپ مر جائے گا اور فریقین کی لاٹھی بھی محفوظ رہے گی۔ وہ اسے کسی اور وقت کے لئے سنبھال کر رکھ سکتے ہیں۔
سینیٹ آف پاکستان
ممتاز محقق اور مصنف ڈاکٹر دلاور حسین نے پاکستان کے ایوانِ بالا، یعنی سینیٹ کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا اور اِسے باقاعدہ کتابی شکل دے کر بیرونِ ملک سے چھپوایا ہے۔اِس گراں قدر کتاب میں سینیٹ کی آئینی اہمیت اور حیثیت کے ساتھ ساتھ اُس کردار پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے،جو اس نے پاکستانی جمہوریت کے فروغ اور استحکام میں ادا کیا ہے۔سینیٹ صوبوں کا نمائندہ ادارہ ہے اور ہر صوبائی اسمبلی سے مساوی تعداد میں ارکان منتخب ہو کر اِس کا حصہ بنتے ہیں۔ اِس کا طریق انتخاب اور اختیارات میں اضافہ اہلِ علم اور اہلِ سیاست کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔پاکستانی جمہوریت کو مختلف ادوار میں جو چیلنج درپیش رہے ہیں اور آج کل بھی اس کی ادارہ جاتی ساخت جن مشکلوں سے گزر رہی ہے، ان میں سینیٹ کا کردار خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس ادارے کی معنویت اور صلاحیت کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔پاکستانی سیاست کے عاملوں اور طالب علموں کو اِس تحقیقی کاوش کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)