کیا پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے کچھ سیکھ پائے گی؟
- تحریر آصف محمود
- اتوار 11 / اکتوبر / 2026
پی ٹی آئی نے لانگ مارچ سے پہلے مولانا فضل الرحمان سے مشاورت تک گوارا نہیں کی اور اب جب اپنے مس ایڈ ونچر میں ناکام ہو کر بند گلی میں پھنس چکی ہے تو اسے مولانا کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔
ڈوبتے لہجے اب آواز دے رہے ہیں کہ ملک محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، مولانا اپنا کردار ادا کریں۔ ان سے کوئی پوچھے کہ اگر ملک محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا تو کابینہ سمیت لانگ مارچ کے ٹرک پر چڑھنے کی کیا ضرورت تھی۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ اگر مولانا سے پہلے مشاورت کرلی جاتی تو کیا وہ تحریک انصاف کو اس بند گلی میں داخل ہونے سے روک کر اس کی عزت اور بھرم کو بچا نہ لیتے۔ تحریک انصاف کو اگر اس مرحلے پر مولانا یاد آ ہی گئے ہیں تو اسے مولانا کی سیاست پر ایک نظر ڈال لینی چاہیے۔ مولانا کا موقف تحریک انصاف سے زیادہ سخت ہے لیکن آج تک وہ اپنے کارکنان کو لے کر بند گلی میں داخل نہیں ہوئے ۔ کبھی انہوں نے تصادم کی نوبت نہیں آنے دی۔
تحریک انصاف تو اس نظام کی ساری آلائشیں اور ساری قباحتیں گلے سے لگا کر تبدیلی لانا چاہتی ہے، مولانا تو جمہوریت ہی کے کچھ زیادہ قائل نہیں ہیں۔ وہ اسلامی نظام لانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود وہ جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور اس کا معتبر نام ہیں۔ مولانا یہ بات سمجھتے ہیں کہ جمہوریت میدان جنگ نہیں ہوتا۔ یہ ا قتدار پر قبضے کا نہیں پاور شیئرنگ کا نام ہے۔ چنانچہ وہ اپنے ووٹ بینک کے تناسب سے اقتدار میں پاور شیئرنگ بھی کر لیتے ہیں اور اس سے ان کی نظریاتی سیاست کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ وجہ وہی ہے: وہ جانتے ہیں کہ سیاست امکانات کا نام ہے۔
تحریک انصاف کی انسانی تاریخ تو بانوے کے ورلڈ کپ سے شروع ہوتی ہے جب کہ مولانا تو برصغیر کی صدیوں کی سیاسی وراثت کے امین ہیں۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے مثالیت پسندی پر کبھی اصرار نہیں کیا۔ مولانا کو معلوم ہے کہ جمہوریت دوسروں کی نفی کا نام نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ چلنے کا نام ہے۔ سیاست میں آیا ہی اس لیے جاتا ہے کہ اپنے اہداف کے حصول کی کوشش کی جائے مگر تصادم کے بغیر۔ دوسروں کو حریف سمجھا جائے مگر دشمن نہیں۔ اپنی بات کہی جائے مگر بات بگڑنے نہ دی جائے۔ وہ زمانے گزر گئے جب اقتدار کی لڑائی میں کوئی ایک گروہ اٹھتا تھا اور دوسرے کو کچل کر اقتدار پر قبضہ کر لیتا تھا۔ دنیا نے اس قتل و غارت سے بچنے کے لیے سیاست کا راستہ اختیار کیا، سیاست دستیاب امکانات کی تلاش کا نام ہے۔ یہ مرنے اور مار دینے کا میدان نہیں ہے۔ یہ عملیت پسندی کا نام ہے۔ یہ دوسروں کے ساتھ چلنے کا نام ہے یہ انہیں کچل دینے کا نام نہیں ہے۔ سیاست نرگسیت یا کلٹ نہیں ہوتی، یہ بقائے باہمی کا تصور ہے۔
دارالحکومتوں کی طرف لشکر کشی کرنے کے نتائج سے تنگ آ کر ہی دنیا سیاست اور جمہوریت کی طرٖ ف مائل ہوئی تھی۔ کبھی ایک شہزادہ اپنا لشکر لے کر تخت پر قبضہ کرنے آتا تھا اور کبھی دوسرا شہزادہ اپنے لاؤ لشکر سمیت یلغار کر دیتا تھا۔ اسی فتنے سے بچنے کے لیے عثمانیوں نے شہزادوں کے قتل کا راستہ نکالا اور کہا کہ شہزادوں میں سے جو تخت پر بیٹھ جائے وہ باقی شہزادوں کو قتل کرا دے تاکہ تخت و تاج کی کسی ممکنہ جنگ میں ریاست اور اس کے شہریوں کا نقصان نہ ہو اور افراتفری نہ پھیلے۔ یہی احساس معاشروں کو جمہوریت کی موجودہ شکل تک لے آیا کہ اقتدار کی جنگ کو قتل و غارت سے بچا کر سیاست کے دائرے میں لایا جائے۔ سیاست اور جمہوریت اصل میں تخت کے حصول کے لیے ہونے والی قتل و غارت کا متبادل ہے۔
جمہوری اور سیاسی عمل میں کتنے ہی مسائل کیوں نہ ہوں، ان کا حل سیاست میں ہی ہے۔ تحریک انصاف یہ بات مولانا سے پوچھ بھی سکتی ہے، سمجھ بھی سکتی ہے۔ بصورت دیگر اسے یہ بات حالات اور واقعات سمجھا دیں گے (اور اس بار تو آثار ہیں کہ اچھی طرح سمجھا دیں گے)۔ لیکن اس میں نقصان بہت ہوگا۔ معاشرے کا بھی، سیاست کا بھی اور خود تحریک انصاف کا بھی۔
(بشکریہ: وی نیوز)