خواب کی رسید نہیں ہوتی
- تحریر یاسر پیرزادہ
- اتوار 11 / اکتوبر / 2026
چوبیس سالہ لائبہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ تھی۔ بی ایس کے بعد آن لائن کام کرتی تھی۔ لڑکی قابل تھی اِس لیے یونیورسٹی نے اسے سعودی عرب میں مزید تعلیم کے لیے وظیفے کی پیشکش بھی کی تھی لیکن وہ پڑھنے کے لیے امریکہ جانا چاہتی تھی۔
اِس دوران لائبہ کا رابطہ ایسے شخص سے ہوا جو خود کو سپریم کورٹ کا ملازم بتاتا تھا اور جز وقتی ویزا کنسلٹنسی بھی کرتا تھا۔ اُس نے لائبہ کا جذبہ دیکھا اور امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے بہتّر لاکھ روپے مانگے۔ باپ کی اسلام آباد میں دودھ دہی کی دکان تھی اور ایک پلاٹ جو اُس نے گھر بنانے کی غرض سے خریدا ہوا تھا۔ بیٹی کے شوق کی خاطر باپ نے وہ پلاٹ بیچا اور پچاس لاکھ روپے ادا کر دیے، سب نقد۔ نام نہاد ویزا کنسلٹنٹ کائیاں آدمی تھا، اُس نے لائبہ کو یونیورسٹی میں داخلے کے کاغذات بھیجے اور بتایا کہ امریکی سفارت خانے میں ویزے کے لیے انٹرویو کی تاریخ مل گئی ہے۔ مگر جب بھی وہ تاریخ قریب آتی تو ایک رات پہلے فون کر کے بتاتا کہ تاریخ آگے چلی گئی ہے۔ اِس طرح دو تین مرتبہ ہوا۔
لائبہ کو شک گزرا، اُس نے کاغذات چیک کروائے تو وہ جعلی نکلے، اِس دوران وہ شخص ’بقیہ‘ بائیس لاکھ روپوں کا بھی مطالبہ کرتا رہا مگر لائبہ کو اندازہ ہو چکا تھا کہ اُس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ ایک دن وہ گھر سے نکلی اور پھر واپس نہیں آئی۔ اُس کی لاش ایک درخت سے لٹکی ہوئی ملی۔ لائبہ نے گلے میں دوپٹہ ڈال کر خودکشی کر لی تھی۔ آخری مرتبہ اُس نے اپنے بہنوئی سے بات کی اور کہا کہ ’میرے ساتھ ہونے والے فراڈ کے بارے میں میرے والد صاحب کو نہ بتانا ورنہ وہ مر جائیں گے‘۔
میں نے یہ خبر تین بار پڑھی۔ پہلی بار دکھ ہوا، دوسری بار غصہ آیا اور تیسری بار نظر ایک لفظ پر اٹک گئی۔ نقد۔ پچاس لاکھ روپے نقد۔ پوری خبر میں کسی بینک، کسی چیک، کسی معاہدے، کسی رسید کا ذکر نہیں۔ آج کل کسی اسٹور سے دس روپے ٹافیاں خریدیں تو وہ کمپیوٹر سے رسید نکال دیتا ہے مگر یہاں برسوں کی کمائی ہاتھ بدل گئی اور کاغذ کا کوئی ٹکڑا بیچ میں نہیں آیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ جو چیز خریدی جا رہی تھی، وہ داخلہ نہیں تھا، خواب تھا۔ اور خواب کی رسید نہیں ہوتی۔ لائبہ بیچاری کا کوئی قصور نہیں، چوبیس برس کی ایک ذہین لڑکی کا دنیا کی بہترین درس گاہوں کا خواب دیکھنا جرم نہیں، اِس عمر کے خواب ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ہمارے ہاں ’باہر‘ کوئی ایک جگہ نہیں، ایک سیڑھی ہے۔ سب سے اوپر امریکہ، پھر کینیڈا اور برطانیہ، پھر یورپ اور آسٹریلیا، اور خلیجی ممالک کہیں نیچے، جہاں ہمارے خیال میں صرف مزدوری کرنے جایا جاتا ہے۔
سعودی عرب کا وظیفہ ہمیں وظیفہ نہیں لگتا۔ اور یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں۔ یہ اس ملک کی کہانی ہے جہاں لوگ کمبوڈیا کا ویزہ لگانے کے بھی پیسے دیتے ہیں، جہاں نوجوان کشتیوں میں بیٹھ کر سمندر میں اتر جاتے ہیں اور مائیں ایجنٹ کو آخری قسط دینے کے بعد ٹی وی پر ڈوبنے والوں کی فہرست میں بیٹے کا نام ڈھونڈتی ہیں۔ جہاں رشتے کے اشتہار میں ’لڑکا باہر سیٹل ہے‘ لکھ دینا ہر عیب کا کفارہ ہے۔ ہم نے ملک چھوڑنے کو منصوبہ نہیں رہنے دیا، عقیدہ بنا لیا ہے۔ اور عقیدے میں دلیل نہیں چلتی، صرف نذرانہ چلتا ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ گولڈ میڈل لینے والے بچے بھی اپنا مستقبل باہر تلاش کرتے ہیں؟ قصور بچوں کا نہیں، ہم نے اپنے نوجوانوں کو ڈگری دی، تمغہ دیا، تقریب میں تالیاں بجوائیں، بس یہ بھروسا نہیں دیا کہ محنت کا پھل یہیں مل جائے گا۔ ہم نے اپنے معاشرے میں اِس قدر مایوسی اور نا امیدی پھیلا دی ہے کہ کوئی یہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں کہ یہاں کوئی مستقبل بھی سنوارا جا سکتا ہے۔
ہم آئے روز اپنے معاشرے کے بارے میں منفی خبریں پڑھتے اور پھیلاتے ہیں، شاید وہ درست بھی ہوتی ہوں گی، مگر یہ بھی ہمارا ہی معاشرہ ہے جس میں ایک باپ نے بیٹی کے لیے زندگی بھر کی جمع پونجی دے ڈالی اور ایک لمحے کے لیے نہیں سوچا۔ ہاں، دنیا میں باپ اپنی بیٹیوں سے محبت کرتے ہیں مگر ہم اِس معاملے میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ یقیناً یہاں بیٹی کے ہاتھوں سے کتاب چھیننے والے بھی ہیں اور غیرت کے نام پر وہ سب کرنے والے بھی جسے لکھتے ہوئے قلم ڈگمگا جاتا ہے۔ ایسے موقع پر ہمارے ہاں عموماً کہا جاتا ہے کہ لڑکی ذات ہے، اتنا پڑھ لیا بہت ہے، یہ پیسہ جہیز میں کام آئے گا۔ مگر اسی ملک میں وہ باپ بھی رہتا ہے جس نے بیٹی کی خواہش دیکھی اور وہ پلاٹ بیچ دیا جو اپنا گھر بنانے کے لیے خریدا تھا۔ دودھ دہی بیچنے والے ایک آدمی نے اپنا مکان بننے سے پہلے ہی ڈھا دیا تاکہ بیٹی کا مستقبل کھڑا ہو سکے۔ بیٹی سے ایسی محبت کرنے والا باپ یہیں پیدا ہوتا ہے۔
لائبہ نے سمجھا کہ اُس کے ساتھ ہونے والی دھوکہ دہی کی خبر باپ کی جان لے لے گی۔ کاش وہ یہ سمجھ سکتی کہ اُس کا باپ پلاٹ کا غم سہ لیتا، دکان کا، مکان کا، عمر بھر کی کمائی کا غم بھی سہ لیتا مگر وہ اپنی بیٹی کا غم نہیں جھیل سکتا تھا۔ جس آدمی نے مکان بنانے کے لیے پلاٹ خریدا تھا، اسے آخر میں بیٹی کے لیے دو گز زمین کا انتظام کرنا پڑا۔ اگر لائبہ خودکشی نہ کرتی تو شاید کسی کے کان پر جوں بھی نہ رینگتی، زیادہ سے زیادہ ایک سنگل کالمی خبر اخبار میں شائع ہوتی کہ ’نوسرباز نے طالبہ کو بیرونِ ملک داخلے کا جھانسا دے کر پچاس لاکھ ہتھیا لیے۔ پولیس نے پرچہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دیں۔ ‘ یہ خبر بھی میری خوش فہمی ہے۔ ورنہ یہاں آئے روز نہ جانے لوگوں پر کیا کیا قیامتیں گزر جاتی ہیں اور کسی کو خبر ہی نہیں ہوتی۔ خبر بننے کے لیے ضروری تھا کہ لائبہ گلے میں پھندا ڈال کر اپنی جان دیتی۔
یہاں سوال ہمارے تعلیمی نظام سے بھی ہے۔ جو یونیورسٹی گولڈ میڈل دے سکتی ہے ،وہ ایک کمرہ اور ایک آدمی کیوں نہیں دے سکتی جو طالب علموں کو بتائے کہ باہر داخلہ کیسے ہوتا ہے، وظیفہ کہاں سے ملتا ہے اور جعلی کاغذ کیسے پہچانا جاتا ہے۔ اسٹوڈنٹ افیئرز اور اسٹوڈنٹ کونسلنگ کے دفاتر جامعات میں موجود ہیں مگر کارکردگی اُن کی ویسی ہی ہے جیسی ملک کے دیگر محکموں کی۔ ہم بچوں کو مغل بادشاہوں کے سنِ وفات رٹواتے ہیں مگر یہ نہیں سکھاتے کہ اصلی اور نقلی خط میں فرق کیسے کیا جاتا ہے۔ دوسری بات والدین سے۔ بیٹی کے لیے پلاٹ بیچنا محبت ہے مگر وہ رقم ایک اجنبی کے ہاتھ پر رکھ دینا محبت نہیں، لاعلمی ہے۔ اور اس لاعلمی کے ذمے دار ہم سب ہیں۔ نقد لین دین، بغیر لکھت پڑھت کے کاروبار اور تحریری معاہدہ کرنے میں شرم ہی ہمیں لے ڈوبی ہے۔
تیسری بات نوجوانوں سے۔ دھوکا کھانا جرم نہیں، دھوکا دینا جرم ہے۔ شرم آپ کے حصے کی نہیں۔ ایسا کچھ ہو جائے تو گھر میں بتائیں، کسی دوست کو بتائیں، کسی استاد سے بات کریں۔ پلاٹ دوبارہ خریدا جا سکتا ہے۔ زندگی دوبارہ نہیں مل سکتی۔ لائبہ کا باپ دوبارہ پلاٹ خرید سکتا ہے مگر اپنی بیٹی کی شکل دوبارہ نہیں دیکھ سکتا۔ کاش لائبہ یہ جان سکتی!
(بشکریہ: ہم سب لاہور)