نئی دہلی میں حکومت مخالف احتجاج، ہزاروں گرفتار
بھارت میں انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف ہزاروں مظاہرین نے نئی دہلی میں احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ یہ احتجاج ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے دوران مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے خلاف کیا گیا۔
حفاظتی انتظامات کی وجہ سے حکام اور مظاہرین کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے اقلیتیں، بالخصوص مسلمان، غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم انتخابی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کا مقصد ووٹر فہرستوں سے دوہرے اندراجات، وفات پا جانے والے افراد کے نام اور جعلی اندراجات ختم کرنا تھا۔
حالیہ دنوں میں اپوزیشن جماعتوں اور نوجوانوں کی قیادت میں سرگرم احتجاجی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کے حامیوں نے سڑکوں پر نکل کر سخت سکیورٹی پابندیوں کو چیلنج کیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کا عمل روکا جائے اور چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوں۔
ناقدین کے مطابق انتخابی فہرستوں میں اتنے بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں اور ناقدین کا الزام ہے کہ مودی حکومت نے ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں جمہوری آزادیوں کو محدود کیا ہے۔ ان کے مطابق صحافیوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور سیاسی مخالفین پر دباؤ بڑھایا گیا ہے تاہم حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
حکام نے مسلسل تیسرے روز وسطی دہلی میں ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے۔ سڑکوں پر بھاری دھاتی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور کئی اہم میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے۔ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ لوگوں کو دہلی پہنچنے سے روکا جا رہا ہے۔ دہلی کو ایک قلعے میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور ہر طرف پولیس موجود ہے ۔
احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی بھی عوامی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہفتے کے اختتام پر ہونے والے افراتفری کے شکار مظاہروں کے دوران منتظمین سمیت ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں سے بیشتر کو بعد میں رہا کر دیا گیا، جن میں تحریک کے تین سرکردہ رہنما بھی شامل ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں نے حکام پر الزام لگایا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کرکے اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔