خیبر پختون خوا کے سابق وزیراعلیٰ حراست میں ہیں: عطا تارڑ

  • سوموار 12 / اکتوبر / 2026

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو خدشۂ نقصِ امن کے تحت تحویل میں لینے کی تصدیق کی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کابینہ کے دیگر ارکان کے خلاف قانونی کارروائی سے متعلق فیصلہ گورنر خیبر پختونخوا کی نگرانی میں قائم ایڈوائزری کونسل کرے گی۔

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا دیگر وزرا کو بھی اسی بنیاد پر تحویل میں لیا گیا ہے یا نہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق ضابطہ فوجداری کی دفعہ 3 ایم پی او کے تحت حکومت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی شخص کو تحویل میں لے سکتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں پاکستان کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ سہیل آفریدی پر نو مئی کے واقعات میں فرد جرم عائد کی جائے گی یا نہیں، اس کا فیصلہ بھی ایڈوائزری کونسل کرے گی۔

عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ سہیل آفریدی کی سربراہی میں صوبائی حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ پاور شیئرنگ کے فارمولے پر عمل پیرا تھی۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف عوام سڑکوں پر نہیں نکلے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اس اقدام کی حمایت کر رہے ہیں۔

اس موقع پر پاکستانی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے صحافیوں کو بتایا کہ ملک میں پہلی بار ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی بلکہ ماضی میں مختلف حالات میں آٹھ مرتبہ ایسا کیا جا چکا ہے۔ ان کے بقول گورنر راج میں تین مرتبہ دو، دو ماہ کی توسیع کی جا سکتی ہے، جبکہ مزید توسیع کا طریقہ کار بھی آئین میں موجود ہے۔ اگر پاکستان تحریک انصاف وفاقی حکومت کے فیصلے کو سپریم کورٹ یا آئینی عدالت میں چیلنج کرتی ہے تو حکومت اپنے اقدام کا دفاع کرے گی۔

وزیر قانون کے مطابق خیبر پختونخوا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے اربوں روپے فراہم کیے گئے لیکن یہ رقم مؤثر انداز میں استعمال نہیں کی گئی۔ اعظم نذیر تارڑ نے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدت پسندی کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وزیراعلیٰ امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے سرگرم ہیں جبکہ ان کے بقول سہیل آفریدی شدت پسند حملوں میں ہلاک ہونے والے پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں میں بھی شرکت نہیں کرتے تھے۔

اس دوران لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے خیبر پختونخوا میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کو عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک بیان میں بار کے صدر بابر مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ بار غیر قانونی اقدام کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں درخواست دائر کر رہی ہے۔ منگل کو کراچی بار میں وکلا ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہوگا جہاں آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی صدارت میں پشاور میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ شدت پسندی اور انتہا پسندی کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، ترقیاتی منصوبوں کی قربانی دی جا سکتی ہے لیکن سکیورٹی پر سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انہوں نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی ہے کہ پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی تمام جائز ضروریات پوری کی جائیں کیونکہ شدت پسندی کے خلاف جنگ میں یہی ادارے پہلی دفاعی صف میں کھڑے ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ ماضی میں مختلف اداروں کے درمیان مطلوبہ ہم آہنگی موجود نہیں تھی تاہم اب تمام اداروں کو ایک سمت میں کام کرنا ہو گا اور اس ہم آہنگی کے ’نتائج بھی نظر آئیں گے۔‘

صوبائی ایپیکس کمیٹی اجلاس سے خطاب میں فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ حکومت محض نمائشی اقدامات کے بجائے نتائج دکھانا چاہتی ہے اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری عوام کو عملی طور پر نظر آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام امن اور خوشحالی چاہتے ہیں، صوبے کے پاس وسائل موجود ہیں اور امن کے قیام سے سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔