نہلے پر دہلا نہ ماریں
- تحریر نسیم شاہد
- سوموار 12 / اکتوبر / 2026
کیا پاکستان کوئی انوکھا ملک ہے کہ جس کے حالات 79 برسوں میں نارمل ہونے کا نام نہیں لے رہے۔گھوم پھر کے بات پھر اِس نکتے پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں سے پہلے بھی گزر چکے ہوتے ہیں۔ یہ کئی دہائیوں بعد ہم پھر گورنر راج اور ایمرجنسی کی باتیں سن رہے ہیں۔کولہو کے بیل نے بھی اتنے چکر نہیں کاٹے ہوں گے جتنے ہم کاٹ چکے ہیں۔
کیا آگے بڑھنا ہماری قوم کا نصب نہیں ہے، کیا مضبوط اور مستحکم پاکستان ہمارا مقدر نہیں بن سکتا۔ارے بھائی، یہ ایٹمی ملک ہے چوں چوں کا مربہ تو نہیں کہ جس کی کوئی کل سیدھی ہی نظر نہ آتی ہو۔دنیا کے ممالک نے آزادی حاصل کی تو پھر اپنے وجود کو مستحکم اور معیشت کو خوشحال کرنے پر توجہ دی۔کہاں سے کہاں نکل گئے ایک غلطی ہوئی تو پھر اسے دہرایا نہیں۔یہ اعزاز صرف ہمیں حاصل ہے کہ ہم نے غلطیاں نہ صرف دہرائیں بلکہ اُن سے سبق بھی نہیں سیکھا۔ اب ہم ایک اور تجربہ کرنے جا رہے ہیں، حالانکہ اس تجربے کی بظاہر کوئی ضرورت دکھائی نہیں دے رہی۔ صرف اَنا سے نکل کر چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے مگر آسان راستوں کی بجائے مشکل راستوں کو اپنا کر ہم منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں یہ کوئی دانشمندی نہیں۔ دو فریق ہوں تو حتیٰ الامکان مل بیٹھ کے راہ نکالتے ہیں۔ یہاں تو صرف دو چار گھنٹوں کی مذاکراتی بیٹھک ہوئی اور اُس کے بعد بساط لپیٹ دی گئی۔اس سے حالات سنبھل جائیں گے یا مزید خراب ہوں گے،اس کا حتمی جواب شاید کسی کے پاس نہ ہو۔
بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں وہاں گورنمنٹ کی رٹ کتنی ہے،اِس حوالے سے خبریں آتی رہتی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں بھی جب عوامی نمائندگی کی بساط لپیٹ دی جائے گی تو حالات نارمل کیسے ہوں گے؟ راستہ خطرناک ہے اور دشوار گزار بھی، صرف سیاسی بصیرت اور دونوں طرف سے قومی سوچ اپنانے کا عزم ہی اس صورت حال سے نکال سکتا ہے۔ گزشتہ چار برسوں سے ایک بحرانی کیفیت ہے، ابھی اسے اور کتنا طول دینا ہے یہ ہمارے لیڈران کرام ہی جانتے ہیں اس اہم موقع پر نواز شریف ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔بظاہر وہ اپنا طبی معائنہ کرانے گئے ہیں لیکن یہ بات ہضم نہیں ہوئی کہ وہ طبی معائنہ انہی دِنوں میں کیوں کرانے گئے جب ملک میں بڑے اہم فیصلے ہو رہے ہیں۔ آصف علی زرداری ایوانِ صدر میں موجود ہیں مگر لگتا ہے عہدے کی ذمہ داری اُن کی سیاسی سوچ پر حاوی آ گئی ہے۔ حیرت تو اس پر بھی ہے کہ اپوزیشن سے مذاکرات وزیراعظم شہباز شریف نے کیوں نہیں کئے۔کیا یہ غیر اہم معاملہ ہے، کیا اِس سے بھی بڑا کوئی معاملہ ہو سکتا ہے کہ ملک کے ایک صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کی ضرورت پیش آ گئی ہے۔
مجھ جیسے پاکستانیوں کے لئے جو اِس ملک کے سیاسی مدو جذر سے کھلی آنکھوں کے ساتھ گزر چکے ہیں،ایک ایک لمحے کے شناور ہیں۔ یہ صورتحال اگرچہ نئی نہیں ہے۔ ہماری نسل نے تو سقوطِ ڈھاکہ بھی اپنی نظروں کے سامنے ہوتے دیکھا ہے۔ گورنر راج کی تکنیک بھی کئی بار استعمال ہوتے دیکھی اور اس کے منفی اثرات بھی سامنے آتے دیکھے۔اِس وقت اپوزیشن کچھ بکھری ہوئی ہے کچھ لوگ لچک دکھانا چاہتے ہیں مگر ماحول ایسا ہے کہ اُن کی بات نہیں سنی جا رہی۔دوسری طرف حکومتی حلقوں کا بھی یہی حال ہے۔ وزرا کے انفرادی بیانات سامنے آتے رہے ہیں،کوئی مذاکرات کی پیشکش کرتا ہے اور کوئی دھمکی آمیز بیان دیتا ہے،حالانکہ اس ضمن میں ایک سنجیدہ موقف اختیار کر کے قوم کے سامنے لانا چاہئے تاکہ معلوم ہو سکے حکومت حالات کو سدھارنے کے لئے کس حد تک سنجیدہ ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اس موقف کی کھلی تائید نہیں کی جا سکتی کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن اُن کی لاش سے گزر کر ہی ہو سکتا ہے۔یہ ایسا معاملہ نہیں ہے جسے سیاست کی نذر کیا جا سکے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گرد قبائلی علاقوں میں موجود ہیں۔ وہ گاہے بہ گاہے کارروائیاں بھی کرتے ہیں اور اُس میں ہمارے فوجی جوان اور افسر شہید بھی ہو رہے ہیں یہ تو نہیں ہو سکتا کہ انہیں کھلی چھوٹ دے دی جائے یا اُن کے خلاف آپریشن ہی نہ کیا جائے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ وفاقی و صوبائی حکومت کے درمیان اس موضوع پر ایک سنجیدہ رابطہ ہو۔صوبائی حکومت کو بتایا جائے کہ یہ آپریشن کتنا ضروری ہے اور اس میں صوبائی انتظامیہ کی شمولیت کتنی اہمیت رکھتی ہے مگر یہاں تو ایسا ماحول بنا ہوا ہے کہ جیسے دو ملکوں میں کسی ایشو پر اختلافات جاری ہیں۔
یہ بڑی خطرناک بات ہے اب اگر گورنر راج یا ایمرجنسی لگا کر آپریشن شروع کر دیا جاتا ہے تو اس کے اپنے منفی اثرات ہوں گے ۔اس لئے اس حوالے سے قومی سوچ اپنانے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کے حوالے سے کچھ فیصلے کر بھی لئے ہیں اور اب پارلیمنٹ سے اُن کی منظوری لینے کا مرحلہ ہے تاہم اس کے باوجود گزارش یہی کی جا سکتی ہے کہ آخر وقت تک مسئلے کا ایسا حل نکالنے کی کوشش کی جائے جو ملک کو مزید کسی انتشار میں ڈالنے کی بجائے اتحاد و یکجہتی اور اَمن و سلامتی کی طرف گامزن کر دے۔
جناب مجیب الرحمن شامی نے اپنے کل کے کالم ’ثالث تلاش کر لیجئے‘میں حالات کا بڑا گہرا تجزیہ کیا ہے۔ واقعی اِس وقت ایک ثالث کی ضرورت ہے، جس پر دونوں فریقوں کا اعتماد ہو اور جو دونوں کو ایک میز پر لا بٹھائے۔ ایک زمانہ تھا کہ سیاست میں ایسے رہنما ہوا کرتے تھے جو اختلافات کی خلیج پاٹ کر اپوزیشن اور حکومت کو ایک جگہ بیٹھنے پر مجبور کر دیتے تھے۔اب بدقسمتی سے ایسی کوئی شخصیت نظر نہیں آتی اس لئے انہوں نے ثالثی کے لئے مفتی تقی عثمانی، مولانا طارق جمیل اور مفتی منیب الرحمن کی طرف رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کا بھی نام لیا ہے تاہم ماضی قریب و بعید میں انہوں نے بعض مواقع پر فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی بجائے سیاسی مصلحتوں سے کام لیا،اِس لئے اُن کی ثالثی میرے نزدیک معتبر نہیں رہی ۔تاہم اِس سوچ کو آگے بڑھنا چاہئے کہ مسائل کا حل سیاسی مذاکرات اور بردباری سے نکالنا ہے۔
طاقت کے ذریعے ماضی میں کوئی مسئلہ حل ہوا ہے اور نہ مستقبل میں ہو سکتا ہے۔ وقت بڑی تیزی سے گذر رہا ہے۔اِس سے پہلے کہ د یر ہو جائے بڑے اور جرأت مندانہ فیصلوں کے ذریعے حکومت اور اپوزیشن ملک کو بحران سے نکالیں یہ اُن کی قومی ذمہ داری ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)