الٹے ہور زمانے آئے
- تحریر سہیل وڑائچ
- سوموار 12 / اکتوبر / 2026
بلّھے شاہ کا دور سیاست و معیشت کے بحران کا تھا اقتدار کے عروج و زوال، امن و امان کی بہتری و خرابی اور سماجی توڑ پھوڑ کو انہوں نے بہت ہی مہارت اور خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ایمرجنسی کا دور دورہ ہواتو بلّھے شاہ یاد آئے انہوں نے کہا تو اپنے زمانے کے بارے میں تھا مگر یہ 3 صدیوں پہلے کا نہیں آج کے حالات پر منطبق کلام لگتا ہے۔
الٹے ہور زمانے آئے، کاں ککڑنوں مارن لگے، چڑیاں جرّے کھائے، الٹے ہور زمانے آئے، سچیاں نوں پئے ملدے دھکے، جھوٹے کول بہائے، الٹے ہور زمانے آئے، بلھیّا حکم حضوروں آیا، تِس نوں کون ہٹائے، الٹے ہور زمانے آئے۔
بلّھے شاہ کہتے ہیں ’ایسے زمانے آگئے ہیں کہ کوے مرغوں کو چڑیاں بازوں کو زیر کرنے لگی ہیں، سچ بولنے والوں کو دھکے کھانے پڑ رہے ہیں، جھوٹ بولنے والے اہلِ اقتدار کے پاس بیٹھے ہیں، یہ زمانے مکمل طور پر بدل گئے ہیں اور بلّھے شاہ جب ’اوپر‘ سے حکم آ جائے تو اسے کون ٹال سکتا ہے۔ بالکل الٹا زمانے آگیا ہے‘۔ بلھے شاہ کے اشعار کو غور سے پڑھ لیں اور سمجھ لیں تو ایمرجنسی کے نفاذ کی پوری کہانی سمجھ آ جاتی ہے۔ ہائبرڈ حکومت میں سیاست اور مقتدرہ کا جو باہمی اشتراک چل رہا ہے، اس میں پہلے نون نے ایمرجنسی کو کئی دن ٹالا پھر پیپلز پارٹی میدان میں آئی اور اس نے اپنے تئیں اس کو ٹالنے یا ملتوی کرنے کی کوشش کی ۔ مگر ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، بلّھے شاہ کے بقول حکم حضوروں آیا یعنی حکم آسمان سے آیا تھا، اس لئے اس پر عملدرآمد تو ہونا ہی تھا۔
اب دیکھنا یہ ہو گا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے بیک وقت نفاذ کے کیا سیاسی انتظامی اور سماجی اثرات ہوں گے؟ سیاسی حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ تحریک انصاف بطور سیاسی جماعت ملکی نظام سے پوری طرح نکل چکی ہے۔ پختونخوا کی حکومت تقریباََ 13 سال تک تحریک انصاف کے پاس رہی ہے، نگران حکومت کے ماسوا تحریک انصاف کا پختونخوا میں اتنی لمبی حکمرانی خود ایک نیا ریکارڈ ہے۔ اس دوران پرویز خٹک، محمود خان، علی امین گنڈا پور اور سہیل آفریدی نے یکے بعد دیگرے وزرائے اعلیٰ کے فرائض انجام دیے۔
پرویز خٹک نے اپنے دور میں سیاست اور ترقیاتی کاموں کے ذریعے سے تحریک انصاف کو مضبوط سیاسی پلیٹ فارم بنا دیا، محمود خان کا حال پنجاب کے بزدار سے تھوڑا بہتر تھا مگر اس دور میں چل چلاؤ ہی رہا کوئی بڑا کارنامہ یا کام سر انجام نہ دیا جا سکا۔ 2024 کے الیکشن کے بعد علی امین گنڈا پور کو عمران خان نے وزیرِ اعلیٰ نامزد کر دیا، گنڈا پور سیاسی جادو گر ثابت ہوئے۔ وہ ایک طرف اپنی بین سے تحریکِ انصاف کے اندر موجود ناگوں اور ناگنوں کو بہلاتے رہتے تھے، دوسری طرف طاقتوروں کے اندر موجود اژدھوں کو مدھر دھروں سے قائل رکھ لیتے تھے۔ مگر ان کی جادوگری بھی زیادہ نہ چل سکی۔
جوگی کی جس بین سے انہوں نے ناگوں اور ناگنوں کو رام کر رکھا تھا۔ وہ ایک ناگن کے شور اور غصّے کی نذر ہو گئی۔ پھر سہیل آفریدی آئے، قیدی 804 کی خواہش تھی کہ خیبرپختونخوا کا وزیرِ اعلیٰ نہ جادو گر ہو نہ بین بجائے بلکہ وُہ خود اژدھا بن کر تحریکِ انصاف کی مخالف حکومت اور مقتدرہ پر حملہ آور ہو۔ آفریدی نے پہلے جادو کی بین بجائی مگر دباؤ اتنا تھا کہ اس نے جلد ہی بین توڑی، اژدھا بن گیا۔ اسے علم تھا کہ اژدھے جلد ہی شکار ہو سکتے ہیں مگر اسے قتل عمد کے بجائے سیاسی شہادت بہتر لگتی تھی۔ بس اس نے اسی کا انتخاب کیا اور اب وہ ایمر جنسی کا شکار ہو کر بھی سیاست میں پہلے سے بڑا ہو گیا ہے۔ بطور وزیرِ اعلیٰ اس کے پاؤں سے وفاقی حکومت اور مقتدرہ ادارے زمین تو پہلے ہی نکال چکے تھے اور وہ کچھ بھی ڈیلیور کرنے کے قابل نہیں رہا تھا اس لئے اسے سیاسی شہادت ہی چاہئے تھی جو مل گئی۔
پختونخوا کی حکومت ملک بھر میں تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی محفوظ پناہ گاہ بھی تھا اور وہاں بیٹھا وزیراعلیٰ بہرحال ان کی معاشی اور سیاسی ڈھال بھی تھی۔ وزیرِاعلیٰ چونکہ نظامِ اقتدار کا حصہ ہوتا ہے اس لئے ہر اجلاس میں تحریکِ انصاف کے مسائل اور اس کا مؤقف بھی موجود ہوتا تھا۔ سسٹم کے اندر موجودگی بہت اہم ہوتی ہے، 13سال بعد سسٹم سے مکمل ناک آؤٹ تحریکِ انصاف کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ دوسری طرف منتخب حکومت کی معطلی اور گورنر راج کا نفاذ و ایمرجنسی کا اعلان ایک بہت بڑے بحران کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ پختونخوا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریکِ انصاف ہے۔ وہ حکومت میں تھی تو بہرحال طالبان کے خلاف لڑائی میں ایک سیاسی مینڈیٹ موجود تھا۔ تحریکِ انصاف کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ ذمے داری سے فارغ ہو گئے تو اب کھلے عام طالبان اور جنگجوؤں کی حمایت کریں گے اور آپریشن کی زبانی مخالفت کو بڑھائیں گے۔ آپریشن کی سیاسی ولدیت اب صوبائی نہیں بلکہ وفاقی ہو گی۔
آپریشن کے حوالے سے مقتدرہ کے ساتھ جس طرح اے این پی کھڑی ہوئی تھی، تحریکِ انصاف تو کبھی کھڑی نہیں ہوئی۔ اے این پی کے تقریباً ہر لیڈر پر طالبان نے قاتلانہ حملے کئے۔ تحریک انصاف کے وزیرِ اعلیٰ، وزیر اور ارکان اسمبلی اپنے کمزور اور نرم مؤقف کی وجہ سے طالبان کا اس طرح سے کبھی بھی نشانہ نہیں بنے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد تو ان پر حکومتی حدود و قیود ختم ہو جائیں گی اور وہ طالبان کی کھلے عام زبانی حمایت کریں گے اور آپریشن کی سرِعام مخالفت کریں گے۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ملکی سیاسی صورتِحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ تحریکِ انصاف سے مفاہمت، مصالحت یا مل کر ریاست کو چلانے کی کوشش تو مکمل ناکام ہو چکی۔ بظاہر ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے میں مقتدرہ نون اور پیپلز پارٹی سب ایک ہی صفحے پر آ گئیں اور اس مشکل ترین سیاسی اقدام کو باہمی صلاح مشورے سے انجام دیا۔
گو تحریکِ انصاف اور پختونخوا کے معاملے پر تینوں اکٹھے نظر آئے مگر ان کے باہمی ظاہری اتفاق کے باوجود قالین کے نیچے ان کے آپس کے اختلافات چھپے ہوئے ہیں۔ نئے صوبوں کا معاملہ سب سے اہم ایشو ہے۔ صدر زرداری کی نہایت اعلیٰ سطح پر کچھ ملاقاتوں کی خبر ہے، ان ملاقاتوں میں نئے صوبے اور ان کی کئی متبادل تجاویز پر بات ہوئی ہے۔ بلاول بھٹو کے زوردار مخالفانہ بیانات کے باوجود صدر زرداری ہر روز نظام کے کسی نہ کسی اہم ترین فرد سے ملاقات کر رہے ہیں۔ گو ابھی تک ان اختلافات کے تصفیے کا کوئی فارمولا سامنے نہیں آیا۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ اس معاملے پر مسلسل مذاکرات جاری ہیں۔ مذاکرات کا ماحول تلخ نہیں بلکہ دوستانہ ہے تاہم دونوں فریقوں کے مؤقف میں ابھی تک بہت بعد یا فرق ہے۔
سیاسی حالات کی دگرگونی کیلئے بلّھے شاہ سے رجوع کیا تھا تو بلّھےشاہ نے ’حکم حضوروں آیا‘ کہہ کر اس کا جواز دیا تھا، کوئی کچھ بھی کہے یہ نارمل سیاسی عمل اور سیاسی دور نہیں۔ ایمرجنسی اور گورنر راج، غیر معمولی بحرانی حالات کی علامت ہوتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ بحران بالآخر مذاکرات سے ہی حل ہوں گے اور مذاکرات کو کامیاب کرنے کی کنجی لچک ہے۔ ایمرجنسی کا نفاذ لچک کی ناکامی اور ضد و انا کی کامیابی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)