ریاض ائرپورٹ 17 اکتوبر تک بند رہےگا

  • منگل 13 / اکتوبر / 2026

یمنی گروہ انصار اللہ کے مسلسل حملوں کے بعد سعودی دارالحکومت ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو کم از کم 17 اکتوبر تک بند رکھا جائے گا۔ گزشتہ ہفتے شاہ خالد ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک جبکہ 300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

اِن حملوں میں ہفتہ کی شب ہونے والا ایک حملہ بھی شامل ہے، جس میں 13 افراد مارے گئے تھے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے اس حملے کو گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی سرزمین پر ہونے والا ’مہلک ترین حملہ‘ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے علاقائی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے کہ حوثی گروہ کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو اِس کے فضائی دفاعی نظام کیوں نہ روک سکے۔ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حوثی گروہ نے پہلے متعدد ڈرونز کا استعمال کیا، جس کے بعد کروز میزائل اور بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام سے بچتے ہوئے ایئرپورٹ کی عمارت کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوئے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا بھی ہے کہ فضائی دفاعی نظام حملوں کے بارے میں پیشگی انتباہ فراہم کرنے میں کیوں ناکام رہا۔ حملوں کی وجہ سے متعدد ایرلائنز نے ریاض کے لیے پروازیں منسوخ کردی ہیں۔

امریکی سفارتخانے نے امریکی حکومت کے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ سعودی عرب کے کسی بھی ایئرپورٹ کے استعمال سے پہلے سفارتخانے کی منظوری حاصل کریں۔ جبکہ امریکی شہریوں کو مملکت کے ہوائی اڈوں کے ذریعے سفر کی صورت میں ’انتہائی احتیاط‘ برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حالیہ حملے میں ایک امریکی شہری بھی مارا گیا تھا۔

سعودی حکام نے گزشتہ دنوں ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی جاری کی ہے، جس میں مسافروں کو، جن میں بعض احرام پہنے ہوئے تھے، دھماکے سے قبل ایئرپورٹ کے اندر دیکھا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں دھماکا ہوتا ہے اور جلتا ہوا ملبہ عمارت کے اندر گرتا دکھائی دیتا ہے۔

اس دوران یمن کے حوثی گروپ کے ایک عہدے دار نے پیر کے روز امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ  سعودی عرب کے حملوں میں شامل ہوا تو اسے ’فوری اور سخت جواب‘ جواب دیا جائے گا۔