پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

قومی سیاست میں اس وقت سب سے دلچسپ رویہ پیپلز پارٹی کا ہے۔ اسے اصرار ہے کہ وہ دریا سے تو گزرے گی لیکن اس کے کپڑوں کو خشک سمجھا جائے۔ معلوم نہیں یہ سادہ بہت ہے یا ہوشیار بہت ہے۔

تاہم دونوں صورتوں میں اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اقتدار کے امکانات سے پوری طرح لطف اندوز ہونے کے بعد اگر وہ یہ چاہے کہ اسے شیخ ابو بن ادھم کی طرح درویشِ خدا مست سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے تو یہ ممکن نہیں ہے۔ جب کبھی اہلِ سیاست سے محفل جمتی ہے تو میں نے دیکھا ہے پیپلز پارٹی کے ہمارے دوست چادر جھاڑ کر الگ ہو جاتے ہیں کہ بھائی، اقتدار کا سوال تو مسلم لیگ ن سے کیا جائے۔ ہم تو وہ درویش ہیں جو صرف ساحل پہ کھڑے لہریں گن رہے ہیں، ہم کیا جانیں اقتدار کیا ہوتا ہے۔ ذو معنی مسکراہٹ کے ساتھ یہ ہمیں سمجھاتے ہیں کہ دیکھیے صاحب، اقتدار سے جڑی ذمہ داریوں کا سوال ہم سے تو بنتا ہی نہیں، ہم کون سا حکومت میں ہیں، حکومت تو مسلم لیگ ن کی ہے۔

یہ اقوالِ زریں سن کر اور یہ بے ادائیاں دیکھ کر آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ یہ رویہ لکھنؤ کے اس درویش جیسا ہے جو میلوں ٹھیلوں میں جا کر خوب جی بہلاتا تھا۔ اور جب باہر آتا تو درویش کی چادر اوڑھ کر ایک پوٹلی کندھے سے لٹکا لیتا کہ میں مسکین دریوش تو تارک الدنیا ہوں، مجھے کیا پتا میلوں ٹھیلوں میں کیا کچھ ہوتا ہے۔ آج سے پہلے تک پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ مؤقف شاید کسی درجے میں قبول کیا جا سکتا ہو لیکن کے پی میں گورنر راج کے بعد تو اسے بالکل قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس وقت کے پی میں گورنر کا منصب پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ گورنر صرف اپنی روایتی آئینی ذمہ داریوں تک محدود نہیں ہے بلکہ صوبے کی انتظامی ذمہ داریاں بھی اب اسی کے پاس ہیں۔ جو اختیارات کبھی وزیر اعلیٰ کے پاس ہوا کرتے تھے، وہ اب گورنر کے پاس ہیں۔ اس لیے اب کے پی میں پیپلز پارٹی گڈ گورننس سے جڑے تمام سوالات کی مخاطب بھی ہے اور طرزِ حکومت کی اچھائیوں یا برائیوں کی برابر کی ذمہ دار بھی ہے۔

اب یہ نہیں ہو سکتا کہ کے پی میں گورننس کا سوال اٹھے اور پیپلز پارٹی دامن جھاڑ کر یہ کہہ دے کہ ہم تو اقتدار کا حصہ نہیں ہیں۔ کے پی میں یہ اقتدار کا نہ صرف حصہ ہے بلکہ اقتدار کی ٹیم کی قیادت بھی اسی کے گورنر کے پاس ہے۔ یہی صورتِ حال سندھ میں بھی ہے۔ سندھ میں ایک طویل عرصے سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ ابھی تک اس حقیقت کو عوامی سطح پر نہیں سمجھا جا سکا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد طرزِ حکومت کے بہت سارے سوالات کا مخاطب اب صوبائی حکومتیں ہیں۔ صوبائی حکومتیں این ایف سی میں اپنا حصہ لیتی ہیں اور بہت سارے امور میں اب سوال انہی سے ہونا چاہیے۔

ہمارے ہاں جب بھی حکومتوں سے سوال ہوتا ہے تو وفاقی حکومتوں سے ہی ہوتا ہے۔ یہ بالکل ہونا چاہیے لیکن اس میں یہ نزاکت ملحوظِ خاطر رکھی جانی چاہیے کہ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے اجرا کے بعد ہر سوال کا مخاطب وفاقی حکومت نہیں ہے۔ وفاقی حکومت بہت سارے سوالات کی مخاطب ہو سکتی ہے، ہونی چاہیے اور بہت سارے بنیادی فیصلے اسی نے کرنے ہیں اور اس کا بوجھ بھی اسی پر ہی آئے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ صوبائی حکومتیں بالکل ہی بری الذمہ ہو جائیں۔

اس وقت صدرِ پاکستان کا منصب پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ چاروں صوبوں میں گورنر پیپلز پارٹی کے ہیں۔ سندھ میں بلا شرکت غیرے پیپلز پارٹی حکومت کر رہی ہے۔ بلوچستان میں وزیرِ اعلیٰ کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے۔ کے پی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے گورنر اب انتظامی سربراہ کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں، تو اب یہ نہیں ہو سکتا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس طرزِ حکومت کی اچھائیوں اور برائیوں کی ذمہ دار نہ ہو۔ اب اگر کچھ اچھا ہوتا ہے تو بلا شبہ اس میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کا کریڈٹ ہوگا۔ لیکن کچھ غلط ہوتا ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی اس کی ذمہ داری سے اپنا دامن نہیں بچا سکتی۔

 جس طرح یہ سوال اٹھتا ہے کہ کے پی میں اب تک این ایف سی کی مد میں ساڑھے 6 ہزار ارب سے زیادہ کی رقم مل چکی ہے تو وہ کہاں خرچ ہوئی؟ اسی طرح سندھ کے حوالے سے بھی یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ یہاں بھی 17 ہزار ارب سے زیادہ کی رقم کہاں خرچ ہوئی، انفراسٹرکچر میں کتنی بہتری ہوئی، کارکردگی کیا رہی؟ پیپلز پارٹی اگر آئینی موشگافیوں کا سہارا لے کر یہ کہے کہ وہ تو حکومت کا حصہ نہیں ہے تو یہ دلائل کمزور ہیں۔ یہ نظام اس کی تائید سے کھڑا ہے۔ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے کہ زرداری صاحب صرف صدر ہیں، اس لیے وہ حکومت کا حصہ نہیں ہیں اور برائے وزنِ بیت کبھی کبھی پیپلز پارٹی حکومت پر تنقید کے دو چار رسمی سے جملے ادا کرکے سرخرو ہو جائے۔

معاملہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اس نظام کا ایک بنیادی کردار ہے اور یہ نظام کامیاب ہوتا ہے تو اس میں پیپلز پارٹی کو اس کے حصے کے مطابق کریڈٹ بھی جائے گا۔ اور اگر یہ نظام ڈیلیور نہیں کر پاتا تو پاکستان پیپلز پارٹی اس میں برابر کی ذمہ دار ہوگی۔

(بشکریہ: وی نیوز)