جمہوریت کا جنازہ

خیبر پختون خوا میں گورنر  فیصل کریم کنڈی کی قیادت میں  11 رکنی مشاورتی بورڈ نے حکومتی انتظام سنبھال کر کام شروع کردیا ہے۔ معاملات پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے  بڑے پیمانے پر  اعلیٰ سرکاری افسروں کے تبادلے بھی کیے گئے ہیں۔ اس دوران وزیراعظم شہباز شریف سمیت تمام وزرا اور سرکاری ترجمان  کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج لگانے کے حق میں دلائل لاکر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے  ہیں کہ  قومی سلامتی کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ایک اجلاس کے دوران بنفس نفیس تحریک انصاف کے خلاف وفاقی حکومت کا مقدمہ پیش کیا۔ حالانکہ  ایک منتخب صوبائی حکومت  ختم کرکے اس کے اہم  لیڈروں کو قید کرنے کےبعد وضاحتوں سے زیادہ عملی کارروائی اور نتائج دکھانے کی ضرورت ہے۔ ابھی تک اس حوالے سے کوئی ٹھوس منصوبہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ناقدین  بجا طور سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جب بلوچستان میں ایک ’وفادار اور مکمل تعاون‘ کرنے والے وزیر اعلیٰ کے باوجود دہشت گردی  ختم نہیں ہوئی اور عام شہریوں کی زندگی محفوظ نہیں ہے تو خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے حوالے سے حالات  خراب ہونے کی ساری ذمہ داری تحریک انصاف اور اس کی صوبائی حکومت پر کیسے عائد کی جاسکتی ہے؟

ان مباحث میں آئین و قانون کا حوالہ  زور شور سے دیا جاتا  ہے۔ یا اس بات پر اصرار ہے کہ   صوبائی حکومت ختم کرنے کے باوجود تحریک انصاف کوئی قابل ذکر احتجاج منظم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔  گویا اگر کوئی پارٹی سڑکوں پر لوگ جمع کرنے میں کامیاب نہ ہوسکےتو وفاقی حکومت اور اسٹبلشمنٹ اس کے ساتھ کچھ بھی کرنے کا حق حاصل کرلیتے ہیں؟ اس سوال کا جواب تاحال دستیاب نہیں ہے لیکن وزیر اعظم سے لے کر وزیر قانون تک جب تواتر سے یہ  اصرار کررہے ہوں کہ تمام کارروائی قانون و آئین  کے مطابق ہوئی ہے تو  اس سے یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہونا چاہئے کہ جمہوریت کش اقدام کے بعد بھی شہباز شریف کی حکومت خود کو ’جمہوری‘ قرار دینے پر  مصر ہے۔ حالانکہ اس کی عوامی قبولیت یا جمہوری حیثیت کا پول اگر فارم 47 کے اسکینڈل کے بعد نہیں کھلا تھا تو میڈیا، اظہار رائے ، سیاسی کارکنوں کے بعد اب ایک منتخب صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی کرنے سے اس کا جمہوریت کش چہرہ مزید عیاں ہوچکا ہے۔  اس وقت حکومت کی طرف سے پاکستان میں قومی سلامتی کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جو بھی دعوے کیے جارہے ہیں، وہ درحقیقت ملک سے جمہوری روایت  کو جڑ سے اکھاڑ دینے کی کوشش کے مترادف ہیں۔  اسے کوئی بھی نام دیا جائے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی بھی اس  عمل میں شہباز شریف حکومت کی مکمل  ہم خیال  بنی ہوئی ہے۔ اس طرح  کسی طرف سے  بھی ملک میں  جمہوری انتظام اور بنیادی حقوق کے حق میں آواز   اٹھنے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

وزیر اعظم نے اسلام آباد میں ایک اجلاس کے دوران تحریک انصاف اور خیبر پختون خوا کے   بارے میں اپنا مقدمہ ان الفاظ میں پیش کیا’پی ٹی آئی کی حکومت میں دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں لایا گیا۔ پی ٹی آئی حکومت کے طرزِ عمل سے پاکستان کی ترقی اور معیشت کو خطرات لاحق تھے۔ پی ٹی آئی حکومت نے نہ ہی دہشت گردی کے خلاف کوئی بھرپور کارروائی کی اور نہ ہی کھل کر ایسے واقعات کی مذمت کی‘۔ شہباز شریف کے یہ الزامات  اس سے پہلے تحریک انصاف کے خلاف سیاسی مہم جوئی کے تمام ہتھکنڈوں  کا تسلسل ہیں۔ وہ یہ بتانے میں ناکام رہے  ہیں کہ سیاسی حکومت کے سربراہ کے طور پر وہ کیوں ایک بڑی سیاسی پارٹی کے ساتھ معاملات طے کرنے میں ناکام رہے اور انہوں نے تحریک انصاف کو کون سیاسی رعایت دی تھی جس کے بعد یہ پارٹی حکومت پر اعتبار کرکے اس کے ساتھ تعاون پر آمادہ  ہوتی؟  اور اب اگر تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ختم کرنے کے بعد چند دنوں نہیں  تو ہفتوں میں ہی سہی، حکومت اگر دہشت گردی میں نمایاں کمی میں ناکام رہتی ہے تو اس کے تمام تر نعروں  کا پول کھل جائے گا۔

گو کہ اس کا آغاز آج ہی سے ہوچکا ہے جب وزیر  اعظم نے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی نگرانی میں خیبر پختون خوا  میں معاملات کی نگرانی کے لیے  ایک 11 رکنی’ سپر کمیٹی ‘بنانے کا اعلان کیا ہے۔  یہ کمیٹی متعدد وفاقی وزرا کے علاوہ دیگر ہم خیال  سیاسی پارٹیوں کے نمائیندوں پر مشتمل ہوگی۔ اس کا کام بنیادی طور پر ’  خیبر پختون خوا میں حکمرانی اور امن و امان سے متعلق امور کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کرنا ہوگا۔  کمیٹی وزیر اعظم کو رپورٹ پیش کرے گی۔ اور خیبر پختون خوا میں قائم ہونے والے نئے انتظامی سیٹ اپ کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے گی۔ نئی کمیٹی   ذمہ داریاں ادا کرنے اور سکیورٹی سے متعلق معاملات میں  صوبائی کمیٹی کومعاونت فراہم کرے گا‘۔  سرکاری ذرائع نے نام  ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روزنامہ ڈان کو بتایا ہے  کہ ’کمیٹی غیر رسمی طور سے قائم کی گئی ہے  اور اس کا کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا گیا ‘۔   صوبائی گورنر وفاقی حکومت ہی کا نمائیندہ ہوتا ہے ۔   گورنر راج کے بعد ان کی معاونت کے لیے قائم ہونے والی کمیٹی کا تقرر بھی وفاقی حکومت نے کیا ہے۔ البتہ خیبر پختون خوا میں چونکہ پیپلز پارٹی کا گورنر ہے، اس لیے  اسحاق ڈار کی نگرانی میں قائم ہونے والی غیر رسمی مگر  ’سپر کمیٹی ‘درحقیقت پیپلز پارٹی کی سیاسی نگرانی کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس اقدام سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وزیر اعظم    پارٹی  سیاسی مفاد  کی حفاظت کررہے ہیں یا قومی سلامتی   اور جمہوریت کے لیے فکرمند ہیں۔

ملک میں تمام تر مشکلات اور پریشانی کے باوجود یہی چلن  مشاہدہ  موجودہے۔ اس میں تمام  نمایاں ناموں کو شامل  کیا جاسکتا ہے خواہ وہ اپنا شمار حکمرانوں میں کریں یا اپوزیشن میں۔ حقیقت یہی رہے گی کہ ملک  میں ہر سیاسی گروہ جمہوریت کی بجائے گروہی و انفرادی مفادات کے تحفظ  کے لیے کام کرتا ہے۔  یہ سب عناصر  اقتدار کے لیے ایک دوسرے کی داڑھی نوچتے  ہوئے صرف اسٹبلشمنٹ کی تابعداری پر متفق ہوتے ہیں۔ اور جمہویت کا جنازہ اٹھانے میں شامل  ہونے کو سعادت سمجھتے ہیں۔