قومی اسمبلی، سینیٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد منظور، کرلی، اپوزیشن کا واک آؤٹ

  • بدھ 14 / اکتوبر / 2026

قومی اسمبلی  اور سینیٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کی کثرت رائے سے منظور کی گئی۔ اس موقع پر اپوزیشن نےکے پی ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی اور نعرے لگائے۔

قرارداد پر بحث میں حکومت اور اپوزیشن اراکین نے 4گھنٹے سے زائد بحث کی ۔بعد ازاں اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا ۔

دوسری جانب  سینیٹ کے اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد منظور کر لی گئی، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے قرارداد ایوان میں پیش کی۔ قرارداد کی منظوری کے بعد اپوزیشن نے ایوانِ بالا سے واک آؤٹ کر دیا۔

ایوان میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق قرارداد پیش کیے جانے اور اس کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن کے واک آؤٹ کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں کسی بھی منتخب حکومت کو اس طرح برخاست نہیں کیا جاتا۔ آرٹیکل 58 ٹو بی کو دوبارہ زندہ کر دیا گیا ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور آئیندہ بھی کرتے رہیں گے۔

پالیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ’ایمرجنسی لگانے کے اس عمل سے جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کو نقصان ہو گا۔ اس عمل سے دہشت گردی کے خلاف آپ کا بیانیہ نظر انداز ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر حالات کی بنیاد پر ایمرجنسی لگانی ہے تو پھر کچے کے علاقے میں بھی ایمرجنسی لگا دیں۔‘

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کے اقدامات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ جمہوریت کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔ آپ نے پنجاب میں ساری سیٹیں لی تھیں اور خیبرپختونخوا میں بھی ہمارے سارے اختیار محدود کر دیے گئے اب یہ تو صرف رسمی کارروائی رہ گئی تھی ۔ ماضی میں سندھ اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی پر پیپلز پارٹی کے تحفظات رہے ہیں۔ لیکن اب وہ اس یک طرفہ کارروائی کی حمایت کررہی ہے۔