سرسید ڈے اور سر سید احمد خان
- تحریر فہیم اختر
- بدھ 14 / اکتوبر / 2026
17 اکتوبر آتا ہے تو دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے علی گڑھ سے وابستہ لوگ ایک بار پھر اپنے محسن، مصلح اور عظیم تعلیمی رہنما سر سید احمد خان کو یاد کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک شخصیت کی سالگرہ منانے کا دن نہیں بلکہ اس فکر کو یاد کرنے کا دن بھی ہے، جس نے ایک پوری قوم کو یہ احساس دلایا کہ اگر کسی معاشرے کو بدلنا ہے تو سب سے پہلے اس کے ہاتھ میں تعلیم کا چراغ دینا ہوگا۔
سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1817 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی زندگی ایسے دور میں شروع ہوئی جب مغلیہ سلطنت زوال پذیر تھی، برطانوی اقتدار مضبوط ہو رہا تھا اور ہندوستانی مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ نئے بدلتے ہوئے حالات سے ہم آہنگ ہونے میں مشکلات کا شکار تھا۔ سر سید نے بہت جلد محسوس کر لیا تھا کہ آنے والے زمانے میں محض ماضی کے فخر سے کام نہیں چلے گا؛ جدید علوم، سائنس، انگریزی زبان اور بدلتے ہوئے معاشرتی تقاضوں سے واقفیت بھی ضروری ہوگی۔سر سید کا کمال یہی تھا کہ انہوں نے صرف حالات پر ماتم نہیں کیا بلکہ ان حالات کو بدلنے کے لیے عملی جدوجہد شروع کی۔
1869-70 میں سر سید احمد خان انگلستان گئے۔ اس سفر نے ان کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ انہوں نے وہاں کے تعلیمی اداروں اور خصوصاً آکسفورڈ اور کیمبرج کے نظام کا مشاہدہ کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اپنی تاریخ کے مطابق، اسی سفر کے دوران سر سید نے ایک بڑے تعلیمی ادارے کا منصوبہ بنایا جسے انہوں نے“مسلم کیمبرج”کے تصور سے تعبیر کیا۔ انگلستان سے واپسی کے بعد انہوں نے اس مقصد کے لیے کمیٹی قائم کی اور 1870 میں تہذیب الاخلاق جاری کیا، جو ان کی سماجی، اخلاقی اور تعلیمی اصلاحی تحریک کا ایک اہم ذریعہ بنا۔ یہاں سر سید کی بصیرت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ کیمبرج کی صرف عمارتوں یا ظاہری شان سے متاثر نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے اس کے پیچھے موجود علم، تحقیق، سوال کرنے کی آزادی، علمی تربیت اور ادارہ سازی کی روایت کو دیکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا خواب محض ایک کالج قائم کرنا نہیں تھا بلکہ ایک ایسی نسل تیار کرنا تھا جو جدید دنیا کا مقابلہ علم کے ساتھ کر سکے۔سر سید نے شاید اس وقت یہ اندازہ کر لیا تھا کہ قوموں کی اصل طاقت صرف فوج، دولت یا اقتدار میں نہیں بلکہ علم پیدا کرنے والے اداروں میں ہوتی ہے۔آج کیمبرج دنیا کی عظیم علمی درس گاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کے موجودہ اعداد کے مطابق اس کے وابستگان میں 126 نوبیل انعام یافتہ افراد اور 47 سربراہانِ مملکت شامل رہے ہیں۔ کیمبرج سے وابستہ نمایاں ہندوستانیوں میں جواہر لعل نہرو، راجیو گاندھی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے نام بھی شامل ہیں۔
کیمبرج کا ذکر کرتے ہوئے میرے لیے یہ بات بھی باعثِ مسرت اور خوش قسمتی ہے کہ تقریباً دو برس قبل میری بیٹی زارا فہیم نے بھی کیمبرج یونیورسٹی سے اپنا ایم فل فرسٹ کلاس میں مکمل کیا۔ ایک باپ کی حیثیت سے میرے لیے اس سے بڑھ کر خوشی کی بات شاید ہی کوئی ہو کہ جس کیمبرج کی علمی فضا نے کبھی سر سید احمد خان کو متاثر کیا تھا اور جس کے تعلیمی نظام سے انہوں نے ہندوستان میں ایک عظیم ادارہ قائم کرنے کا خواب دیکھا، اسی کیمبرج میں میری بیٹی نے بھی اپنی علمی زندگی کا ایک اہم مرحلہ کامیابی کے ساتھ مکمل کیا۔ یوں میرے لیے کیمبرج صرف دنیا کی ایک عظیم درس گاہ کا نام نہیں بلکہ سر سید کے تعلیمی خواب اور میری اپنی زندگی کی ایک خوب صورت یاد، دونوں کو ایک ساتھ جوڑنے والا نام ہے۔
24 مئی 1875 کو علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم قائم کیا گیا۔ بعد میں یہی تعلیمی کوشش آگے بڑھ کر محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی شکل اختیار کر گئی، جسے آکسفورڈ اور کیمبرج کے تعلیمی نمونے سے متاثر ہو کر تشکیل دیا گیا تھا۔ 7 جنوری 1877 کو اس کالج کی بنیاد باقاعدہ طور پر رکھی گئی۔ بالآخر 1920 میں یہی ادارہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بن گیا۔ یہ سفر صرف ایک عمارت کی تعمیر کا سفر نہیں تھا۔ یہ ایک فکر کو ادارے میں تبدیل کرنے کا سفر تھا۔سر سید کو اس راستے میں سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک طرف قدامت پسند حلقوں کو جدید تعلیم اور انگریزی زبان کے بڑھتے ہوئے اثرات پر تحفظات تھے تو دوسری طرف ہندوستانی مسلمانوں کی عمومی معاشی اور تعلیمی حالت بھی ان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج تھی۔ لیکن سر سید نے مخالفت سے گھبرا کر اپنا راستہ نہیں بدلا۔ان کا خیال تھا کہ مسلمانوں کو جدید تعلیم سے دور رکھنا دراصل انہیں مستقبل سے دور رکھنا ہے۔
1857 کے واقعات سر سید کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئے۔ اس وقت وہ بجنور میں عدالتی منصب پر فائز تھے۔ بعد کے برسوں میں انہوں نے اسبابِ بغاوتِ ہند کے ذریعے 1857 کے واقعات کے اسباب پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ بغاوت کو صرف ہندوستانیوں، خصوصاً مسلمانوں کی انگریز دشمنی کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں؛ حکومتی نظام میں ہندوستانیوں کی مناسب نمائندگی نہ ہونا اور انتظامی پالیسیوں سمیت متعدد عوامل نے اس صورت حال کو پیدا کیا تھا۔سر سید کی کوشش یہ بھی تھی کہ ہندوستانی مسلمانوں اور برطانوی حکومت کے درمیان پیدا ہونے والی شدید خلیج کو کم کیا جائے۔ وہ سمجھتے تھے کہ جذباتی تصادم کے بجائے تعلیم، سیاسی شعور اور عملی حکمتِ عملی کے ذریعے مسلمانوں کو دوبارہ مضبوط کیا جا سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سر سید کی جدوجہد کو صرف ایک تعلیمی تحریک کہنا شاید اس تحریک کے دائرہ کار کو محدود کرنا ہوگا۔ یہ دراصل سماجی اصلاح، علمی بیداری، فکری تبدیلی اور تعلیمی ترقی کی تحریک تھی۔
لندن میں بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی الومنی ایسوسی ایشن یو کے عرصہ دراز سے سر سید ڈے کا اہتمام کرتی رہی ہے۔ تقریبات میں علی گڑھ کے سابق طلبہ کے ساتھ شہر کی علمی، ادبی اور سماجی شخصیات بھی شریک ہوتی ہیں۔ ثقافتی پروگرام بھی منعقد ہوتے ہیں اور بعض اوقات بیرونِ ملک سے بھی مہمان آتے ہیں۔لیکن ایک سوال مجھے ہمیشہ پریشان کرتا ہے۔کیا ایسی تقریبات میں صرف وہی لوگ نظر آنے چاہئیں جنہوں نے کئی دہائیاں پہلے علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی تھی؟لندن میں میری ملاقات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے وابستہ کئی ایسے نوجوان پیشہ ور افراد سے ہوئی ہے جو یا تو اس ایسوسی ایشن سے واقف نہیں، یا اس کی سرگرمیوں سے پوری طرح جڑے ہوئے نہیں ہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔سر سید کی تحریک اگر صرف ماضی کی یاد بن جائے تو شاید ہم سر سید کے اصل پیغام کے ساتھ انصاف نہیں کر سکیں گے،سر سید نوجوانوں کو اپنے ساتھ جوڑنے والے شخص تھے۔ انہوں نے ایک ایسی نسل پیدا کرنے کا خواب دیکھا تھا جو نئے زمانے کے سوالات کا جواب دے سکے۔ اس لیے سر سید ڈے کا اصل مقصد صرف سر سید کی تصویر پر پھول چڑھانا نہیں بلکہ ان کے تعلیمی فلسفے کو نئی نسل تک پہنچانا ہونا چاہیے۔اگر علی گڑھ کی انجمنوں اور ایسوسی ایشنوں میں نوجوان نسل کو زیادہ فعال کردار دیا جائے، جدید پیشوں سے وابستہ سابق طلبہ کو جوڑا جائے، طلبہ کے لیے علمی پروگرام منعقد کیے جائیں اور لندن میں موجود نئی نسل کو علی گڑھ کی تاریخ اور اس کے فکری ورثے سے روشناس کرایا جائے تو شاید سر سید کی روح کو زیادہ خوشی ہوگی۔
سر سید سے میرا تعلق صرف کتابوں اور تاریخ کے صفحات تک محدود نہیں۔ میری اپنی زندگی میں بھی علی گڑھ کا ایک چھوٹا سا مگر دلچسپ باب موجود ہے۔1985 میں جب میں نے ہائر سیکنڈری کا امتحان پاس کیا تو میرے گھر والوں نے مجھے علی گڑھ میں داخل کرانے کا فیصلہ کیا۔ میں اپنے بھائی کے ساتھ علی گڑھ گیا اور راس مسعود ہال میں قیام کیا۔لیکن شاید علی گڑھ کے مچھروں کو میرے وہاں رہنے کا فیصلہ پسند نہیں آیا۔چند ہی ہفتوں میں مچھروں نے ایسا استقبال کیا کہ مجھے ایک نہیں بلکہ تین مرتبہ ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا۔ آخرکار میں نے مچھروں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور علی گڑھ چھوڑ کر کلکتہ واپس آگیا۔گھر والوں کو یقیناً مایوسی ہوئی ہوگی، لیکن اس وقت میرے پاس ایک ہی فلسفہ تھا:جان ہے تو جہان ہے!آج جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ علی گڑھ میں میری تعلیم کا سفر اگرچہ چند ہفتوں میں ختم ہوگیا، لیکن علی گڑھ کی فکری محبت شاید وہیں سے میرے اندر داخل ہوگئی تھی۔
سر سید احمد خان 27 مارچ 1898 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن ان کا قائم کیا ہوا ادارہ آج بھی موجود ہے اور ان کا فکری اثر ہندوستان اور دنیا بھر میں محسوس کیا جاتا ہے۔ سر سید کی سب سے بڑی خوبی شاید یہ تھی کہ انہوں نے اپنے زمانے کی ضرورت کو پہچانا۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ اگر قوم کو آگے بڑھانا ہے تو اسے ماضی کے قصوں میں نہیں بلکہ مستقبل کی تیاری میں مصروف کرنا ہوگا۔آج ہمارے پاس پہلے سے کہیں زیادہ یونیورسٹیاں ہیں، جدید ٹیکنالوجی ہے، مصنوعی ذہانت ہے، دنیا بھر کی معلومات ہماری انگلیوں پر موجود ہیں؛ لیکن اس کے باوجود سر سید کا سوال آج بھی زندہ ہے:ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کیا بنا رہے ہیں؟سر سید نے ایک عمارت نہیں بنائی تھی، انہوں نے ایک فکری روایت قائم کی تھی۔انہوں نے یہ ثابت کیا کہ ایک فرد اگر خلوص، عزم اور واضح وژن کے ساتھ کام کرے تو وہ اپنے زمانے کی حدود سے کہیں آگے تک اثر پیدا کرسکتا ہے۔
آج سر سید جیسے لوگوں کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جو اپنی ذات، عہدے یا وقتی شہرت سے زیادہ آنے والی نسلوں کے بارے میں سوچیں؛ جو قوم کے نام پر صرف تقریریں نہ کریں بلکہ ادارے قائم کریں، جو نوجوانوں کو اپنے قریب لائیں،جو اختلاف سے گھبرانے کے بجائے دلیل اور علم کو اپنا راستہ بنائیں۔سر سید کی اصل میراث علی گڑھ کی عمارتیں نہیں، بلکہ تعلیم پر یقین، جدید علم سے رشتہ، اصلاحِ معاشرہ اور ادارہ سازی کا وہ تصور ہے جو آج بھی زندہ ہے۔اسی لیے 17 اکتوبر کو اگر ہم سر سید ڈے مناتے ہیں تو ہمیں خود سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ:کیا ہم سر سید کو صرف یاد کر رہے ہیں، یا ان کے خواب کو آگے بھی بڑھا رہے ہیں؟سر سید احمد خان کا نام شاید اسی لیے زندہ رہے گا کہ انہوں نے اپنے لیے نہیں، آنے والی نسلوں کے لیے ایک ادارہ اور ایک راستہ چھوڑا۔اور قومیں اپنے محسنوں کو صرف یاد نہیں کرتیں،ان کے چھوڑے ہوئے راستوں پر چل کر انہیں زندہ رکھتی ہیں۔