جب طاقتور پھسلنے لگیں

سعودیہ میں جو کچھ ہو رہا ہے دلچسپ تو ہے ہی، سبق آموز بھی ہے۔ ولی عہد اور تھے محمد بن نائف۔ اور یہ اپنے سے اس عہدے پہ نہیں آئے تھے بلکہ خاندان کا فیصلہ تھا کہ ولی عہد کس کو ہونا چاہیے۔ محمدبن نائف سب سے موزوں قرار پائے اور اُنہیں اس رتبے پر بٹھا یا گیا۔

سالہا سال سے وزیرداخلہ تھے،امورِ سلطنت اچھی طرح جانتے تھے۔ واشنگٹن کے بھی پسندیدہ شخص تھے۔ لیکن بادشاہت بدلی تو ولی عہد ی کے معاملے پر بھی متبادل خیالات جنم لینے لگے۔ ہوا کیا دنیا جانتی ہے۔ رات گئے محمد بن نائف کو شاہی پیغام ملا کہ کسی بیٹھک میں اُن کی موجودگی ضروری ہے۔ یہ جون 2017 کا واقعہ ہے۔ شہزادہ نائف اپنے محل سے آئے۔ آتے ہی اُن کے محافظوں کو غیر مسلح کر دیا گیا۔ فون لے لیے گئے اور ماحول کچھ ایسا بنا کہ کچھ دیر بعد شہزادہ نائف اپنے تمام عہدوں سے دستبردار ہوگئے۔ ٹی وی پر فوٹیج آئی جس میں دیکھا گیا کہ شہزادہ محمد،  شہزادہ نائف کے ہاتھ پر بوسہ دے رہے ہیں۔ یہ فوٹیج دنیا کو دکھائی گئی۔ لیکن پیچھے اس فوٹیج کے ایک بہت بڑاواقعہ ہو چکا تھا۔ شہزادہ نائف کی جگہ شہزادہ محمد نئے ولی عہد مقرر ہوئے۔ 2017سے لے کر آج تک وہ ولی عہد تو ہیں ہی لیکن بادشاہت کے اصل فرمانروا بھی ہیں۔ شاہ سلمان کی عمر وہ نہیں رہی کہ روزمرہ کے معاملات باریکی سے دیکھ سکیں۔

اوپر بیان کیے گئے واقعہ سے دو سال پہلے جنوری 2015 میں جب سلمان بن عبدالعزیز سعودیہ کے بادشاہ بنے تو فورا ًہی پرنس محمد کو وزیر دفاع بنایا گیا۔ دو ماہ بعد یعنی مارچ 2015 میں سعودی عرب اور یو اے ای نے یمن میں انصاراللہ جنہیں دنیا حوثی کے نام سے جانتی ہے، پر مشترکہ حملہ کر دیا۔صدر امریکہ تب باراک اوباما تھے۔ اس حملے میں امریکہ کی پوری معاونت تھی۔ سعودیہ نے حملے میں فضائی قوت اور مالی وسائل مہیا کیے اور یو اے ای کی طرف سے زمین پر فوجی دستے بھیجے گئے۔ انصاراللہ پر وحشیانہ بمباری کا آغاز ہوا جوکہ عرصہ دراز تک جاری رہی۔ یمن کا فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کیا گیا جس میں امریکی بحری وسائل پوری طرح سے استعمال ہوئے۔ بمباری تو حوثی سہتے رہے لیکن محاصرے سے کھانے پینے کی اشیا اور دوائیوں کی آمد بُری طرح متاثر ہوئی۔ یمن جوکہ پہلے ہی بہت غریب تھا اُس کی آفتوں میں اضافہ ہوتا گیا۔ عالمی تخمینوں کے مطابق بندش اور قحط کی وجہ سے تقریباً تین ساڑھے تین لاکھ اموات ہوئیں۔ جب یہ صورتحال پیدا ہو رہی تھی تینوں حملہ آور ممالک،سعودی عرب، یو اے ای اور امریکہ کے رویوں میں کوئی نرمی نہیں آئی۔یمن کے عوام پر یہ تمام مظالم ڈھائے جانے کے باوجود حوثیوں کی فوجی قوت نہیں ٹوٹی۔ نہ اُن کے عزم میں کوئی فرق آیا۔ عرصہ سات سال پر محیط فوجی کارروائیوں کے بعد تھکاوٹ کی کچھ ایسی صورت بنی کہ سعودی عرب اور حوثیوں میں 2022 میں جنگ بندی کا معاہدہ ہو گیا۔ معاہدے کے باوجود سعودیہ نے فضائی اور سمندری محاصرہ جاری رکھا۔

شہزادہ محمد کی عمر 29سال تھی جب وہ وزیردفاع بنے۔ عالمی مبصرین کے مطابق یمن پر حملہ ایک طریقے سے ایک کوشش تھی دنیا کو باور کرانے کی کہ وہ بڑی ملٹری سوجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ حملہ کرتے وقت سعودیہ اور یو اے ای دونوں میں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ حوثیوں نے کیا مزاحمت کرنی ہے،  اُن کی شکست یقینی ہے اور جنگ کچھ ہی عرصے میں ختم ہو جائے گی۔ ختم کیا ہونا تھی، سات سال چلتی رہی ۔ سعودی عرب کے بے پناہ وسائل جنگ میں صرف ہوئے اور سب کو نظر آ رہا تھا کہ سعودی عرب کسی دلدل میں پھنس گیا ہے۔یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے امریکہ اور اسرائیل نے سمجھا کہ ایران پر ایسا سخت فضائی حملہ ہوگا کہ ایران اُس کی تاب نہ لا سکے گا۔ ایرانی انقلاب پسپا ہو جائے گا اور ایرانی قیادت امن اور رحم کی بھیک مانگ رہی ہوگی۔ جیسا ہم دیکھ رہے ہیں نتیجہ اُلٹا نکلا۔ حملہ 28فروری کو ہوا اور ایران پر چڑھائی چند ہفتوں کی بات سمجھی جا رہی تھی۔ وہ چند ہفتے آج آٹھویں مہینے میں بدل چکے ہیں اور ابھی تک جنگ کے اختتام کا کوئی منظر آنکھوں کے سامنے نہیں۔ ایران کے گھٹنے کیا ٹِکنے تھے امریکہ کو راہ ِ فرار نہیں مل رہی۔ امریکہ اس جنگ سے نکلے تب ہی جب ایران ہار مانے اور ہاتھ جوڑے۔ایسا ہو نہیں رہا اور جنگ کے اثرات پوری دنیا پر پھیل چکے ہیں۔لبِ لباب اس داستان کا یہ نکلا کہ سعودیوں کے اندازے انصاراللہ کے بارے میں غلط ثابت ہوئے اور امریکہ اسرائیل کے اندازے ایران کے بارے میں تباہ کن حد تک غلط ثابت ہوئے۔

امریکہ دنیا کی طاقتور ترین طاقت ہے۔ ویتنام اور عراق جیسے بلنڈر بھی کرے تو نقصان سہہ سکتا ہے۔ ایران پر حملہ حماقت تھی، اس کی قیمت چکا رہا ہے۔ سعودیہ کا المیہ زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ جو پھر انصاراللہ سے جنگ چھڑ چکی ہے اس کے شعلے سعودی شہروں تک پہنچ رہے ہیں۔ ریاض ایئرپورٹ کا میزائلوں کی زد میں آنا کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ ایئرپورٹ پر دو تین حملے ہو چکے ہیں اور ایک میں تو بھاری جانی نقصان ہوا۔ ایئرپورٹ بند، فلائٹیں معطل ایک بحران کی کیفیت کا پیدا ہونا۔ وہ سارا تصور جو بنا ہوا تھا کہ یہاں بڑا استحکام ہے اور اس میں کوئی خلل نہیں پڑ سکتا وہ سب ہوا میں اُڑ گیا۔ جب ایران جنگ کے شروع میں ایرانی ڈرون اور میزائل یو اے ای کی طرف چھوڑے گئے تو یواے ای کا دفاعی نظام ایک حد تک مؤثر ثابت ہوا۔ میزائل اور ڈرون نے تباہی مچائی بھی لیکن بہت سے میزائل اور ڈرون گرائے بھی گئے۔ سعودیہ پر تو انصارا للہ میزائل گرائے جا رہا ہے اور لگتا ہے کہ دفاعی نظام اگر ہے بھی تو بہت ناقص قسم کا ۔ ریاض ایئرپورٹ کے علاوہ دمام کے ہوائی اڈے پر میزائل اٹیک ہوئے ہیں۔ مشرق مغرب تیل پائپ لائن کئی مقامات سے اُڑا دی گئی ہے۔ پمپنگ سٹیشن حملوں کی زد میں آئے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی ریفائنری اُس پر میزائل گِرے ہیں۔ سعودی عرب کا سارا دارومدار تیل پر ہے اور تیل کی پیداوار اور ترسیل بُری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ جنگ ناگزیر نہ تھی۔ سعودیہ اور انصار اللہ کے درمیان 2022سے جنگ بندی چل رہی تھی۔ سعودیہ کے اولین مفاد میں تھا کہ جنگ بندی قائم رہے لیکن ایک نسبتاًمعمولی واقعہ کی وجہ سے سعودی ایئرفورس نے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے پر حملہ کر دیا۔ اس بنا پر کہ ایک ایرانی جہاز انصاراللہ کے حکومتی عہدیداروں کو لے کر بغیر سعودی اجازت کے تہران سے صنعا آ رہا ہے۔ سعودی فیصلہ سازوں کو کچھ تو سوچنا چاہیے تھا کہ کیا عوامل دا ؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ ایرانی جہاز کی اڑان سے سعودی اَنا کو کوئی ٹھیس پہنچی بھی تھی تو تحمل سے کام لینا چاہیے تھا۔ لیکن نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اور حملہ کر دیا۔ انصار اللہ شاید اسی موقع کے انتظار میں تھے۔ رن وے پر حملہ ہوتا گیا اور اُنہوں نے اپنا زمینی حملہ شروع کر دیا۔ سعودیہ کے پاس لڑاکا جہازوں کی کمی نہیں ۔ اچھا دوست کوئی ہے تو سمجھانے کی کوشش کرے نہیں تو نقصان بہت زیادہ ہو سکتا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)