ہماری دیگ لذیذ کیوں نہیں ہے؟

مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہمارا حال ایک ایسے پرانے باورچی جیسا ہے جسے کھانا پکانا نہیں آتا۔ جب بھی ہانڈی خراب ہوتی ہے، وہ اپنی ناکامی ماننے کے بجائے کسی نئے مصالحے یا برتن پر ملبہ ڈال دیتا ہے۔

کبھی وہ بالکل پھیکا پکوان بنا کر سامنے رکھ دیتا ہے تو کبھی حد سے زیادہ تیکھا، کبھی کہتا ہے کہ اصل لذت کالی مرچ کی کڑاہی سے آئے گی تو کبھی دعویٰ کرتا ہے کہ پیکٹ والے تیار مصالحے سے ذائقہ بدلے گا۔ لیکن اصل مسئلہ مصالحوں کا نہیں بلکہ اس کی نیت اور توجہ کا ہے۔

 ہم بھی اپنے طرزِ حکمرانی میں ہر دس پندرہ برس بعد ایک نیا ’جادوئی مصالحہ‘ دریافت کرتے ہیں اور فرض کر لیتے ہیں کہ دراصل یہی وہ خرابی تھی جس کی وجہ سے ہماری ہانڈی میں لذت نہیں آئی۔ گزشتہ ایک سو بیس برس سے ہم اسی نا تجربہ کار باورچی کے نت نئے تجربات کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ہر ناکام تجربے کے بعد ہم دامن جھاڑ کر کھڑے ہوتے ہیں اور سینہ تان کر دعویٰ کرتے ہیں کہ منزلِ مقصود مل گئی، جبکہ حقیقت میں وہ مقصود منزل ہوتی ہے جو مقصود گھوڑے کو ملتی ہے۔ (جین زی کو یہ بات سمجھ نہیں آئے گی۔ )

ایک سو بیس سال پہلے ہمیں اچانک یہ خیال سوجھا کہ انگریز سرکار کے دربار میں مسلمانانِ ہند کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی لہٰذا اگر ہم اپنے لیے ایک الگ سیاسی جماعت بنا لیں تو انگریز بہادر فوراً سیدھا ہو جائے گا اور مسلمانوں کی قسمت کا ستارہ اوجِ ثریا پر چمکنے لگے گا۔ سیاسی جماعت بن گئی۔ چند سال بعد ہمیں لگا کہ نہیں، محض سیاسی جماعت بنانے سے بات نہیں بنے گی، اصل مسئلہ تو ہندو مسلم اتحاد کا ہے، اگر ہم کانگریس کے ساتھ مل کر انگریز کا مقابلہ کریں گے تو آزادی تھال میں سجی سجائی مل جائے گی، سو ہم نے لکھنؤ پیکٹ کر لیا۔ پھر نہرو رپورٹ آئی، چودہ نکات سامنے آئے اور اتحاد کا وہ خوبصورت خواب چکنا چور ہو گیا۔ پھر ہمیں الہام ہوا کہ نہیں، اصل نسخہ تو جداگانہ انتخاب کے حق میں پوشیدہ ہے۔ اگر مسلمانوں کو جداگانہ انتخاب کا حق مل جائے تو ہمارے تمام معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل حل ہو جائیں گے۔ جب یہ حق بھی مل گیا تو معلوم ہوا کہ دردِ سر تو جوں کا توں ہے۔

پھر خیال آیا کہ یہ چھوٹے موٹے حقوق اور آئینی ترامیم تو محض لالی پاپ ہیں، کیوں نہ ایک بالکل علیحدہ ملک ہی کا مطالبہ کر دیا جائے؟ سو ہم نے یہ جدوجہد شروع کر دی۔ مگر ابھی اس مطالبے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ 1946 میں کیبنٹ مشن پلان آ گیا۔ ہم نے سوچا کہ چلو، الگ ملک نہ سہی، ایک ملکی کنفیڈریشن ہی سہی، ہم یک دم علیحدہ ملک کے مطالبے سے تقریباً دستبردار ہو کر کیبنٹ مشن پلان قبول کرنے پر تیار ہو گئے۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، بات نہ بنی، اور ہم نے باؤنڈری کمیشن کے انگریز ریڈکلف کے ساتھ بیٹھ کر نقشے پر پنسل سے علیحدہ ملک کی لکیریں کھینچ ڈالیں۔

خواب کی تعبیر مل گئی۔ ایک پورا نیا ملک ہمارے ہاتھ آ گیا۔ تاریخ کا سب سے بڑا جغرافیائی اور سیاسی معجزہ رونما ہو گیا۔ اب ہمیں بتایا گیا کہ تمام سیاسی حساب کتاب صاف ہو چکے ہیں۔ 11 اگست 1947  کو قانون ساز اسمبلی میں بانیٔ پاکستان نے تاریخی تقریر فرمائی کہ اس ریاست میں اب نہ کوئی ہندو ہو گا، نہ مسلمان، کم از کم سیاسی حد تک، ہر کسی کو اپنے عقیدے کے مطابق مسجد، مندر یا گرجے میں جانے کی مکمل آزادی ہوگی اور ریاست کا کسی کے ذاتی مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہو گا۔ یہ بالکل دل کو لگی، لیکن اگر یہی نسخۂ کیمیا تھا تو پھر ’ہندو اور مسلم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے‘  کا نعرہ لگا کر اتنی بڑی ہجرت اور خون خرابہ کیوں کیا گیا؟ خیر، ہم نے سوچا ماضی کے قصّے ہیں، آگے چلتے ہیں۔

ابھی ملک کو بنے دو سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ ہمارے نابغوں کو خیال آیا کہ مسائل بہت گمبھیر ہیں، اتنی سادی بات اور لبرل اصولوں سے کام نہیں چلے گا۔ ملک میں اتنے فرقے، اتنی بولیاں اور اتنے تضادات ہیں کہ جب تک ان کو ایک مذہبی دھاگے میں نہ پرویا جائے، یہ شیرازہ بکھر جائے گا۔ لہٰذا قراردادِ مقاصد پیش کر دی گئی اور ہمیں بتایا گیا کہ اصل حاکمیت تو اللّٰہ تعالیٰ کی ہے اور اُس کے منتخب نمائندے محض اُس کے تفویض کردہ اختیار کو امانت کے طور پر استعمال کریں گے۔ قراردادِ مقاصد پاس ہو گئی لیکن مسائل پھر بھی حل نہ ہوئے۔ اِس کے بعد آئین ساز اسمبلی کا تماشا شروع ہوا، سیاسی چپقلش عروج پر پہنچی، وزرائے اعظم یوں بدلنے لگے جیسے ڈرامے کے کردار۔ بالآخر 1956  میں پہلا آئین بنا لیکن دو سال بھی نہ چل سکا اور 1958 میں مارشل لا ہی مسائل کا حل سمجھا گیا۔

پھر ایک نیا نسخہ پیش کیا گیا جس کا نام ’بنیادی جمہوریتیں‘ رکھا گیا۔ مارشل لا ایڈمنسٹریٹر صاحب نے اسّی ہزار بی ڈی ممبران کا ایک نظام بنایا اور فرمایا کہ اصل جمہوریت نچلی سطح پر آ گئی ہے، اب تمام مسئلے حل ہو جائیں گے۔ اسی دوران مشرقی پاکستان کی آبادی کا وزن کم کرنے کے لیے ایک اور شاندار شاہکار ایجاد کیا گیا جس کا نام تھا ’ون یونٹ‘ تھا۔ مغربی پاکستان کے تمام صوبوں کو ایک ہی کڑھائی میں ڈال کر بھون دیا گیا تاکہ مشرقی پاکستان کی اکثریت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اِس دوران یکایک کسی کو خیال آیا کہ 1956  کا آئین ٹھیک نہیں بنا تھا سو ایک نیا آئین بنا کر دیکھتے ہیں، لہذا 1962  میں صدارتی آئین نافذ کر دیا گیا۔ لیکن نہ ون یونٹ چلمن کی لاج رکھ سکا، نہ بنیادی جمہوریتیں ملک کو بچا سکیں اور نہ ہی 1962  کا آئین قوم کو متحد رکھ سکا۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ اور بالآخر ملک ٹوٹ گیا۔

سقوطِ ڈھاکہ کے بعد جو باقی ماندہ پاکستان بچا وہاں ہم نے 1973  کا متفقہ آئین بنایا۔ سب نے دستخط کیے اور جشن منایا گیا کہ لو جی اب تو تمام مسائل کا حل نکل آیا ہے۔ وفاقی پارلیمانی نظام قائم ہو گیا لیکن چار سال بعد ہی ایک صاحب اسلامائزیشن کا نیا نسخہ لے کر نازل ہو گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ 1973  کا آئین کیا ہے؟ محض کاغذ کا ٹکڑا جسے جب چاہوں پھاڑ کر پھینک دوں۔ انہوں نے حدود قوانین، مجلسِ شوریٰ، غیر جماعتی انتخابات اور زکٰوۃ و عشر کا نظام نافذ کیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ اب پاکستان واقعی سچا اسلامی ملک بنے گا جس کے بعد تمام برائیاں ختم ہو جائیں گی۔ فاسٹ فارورڈ کرتے ہیں۔ ہم نے صدارتی نظام چلا کر دیکھ لیا، پارلیمانی نظام کے ذائقے چکھ لیے، مخلوط (mix breed) جمہوریت آزما لی، مارشل لاؤں کی سختیاں برداشت کر لیں، ون یونٹ بنا کر دیکھ لیا، صوبائی خودمختاری دے کر دیکھ لی، بنیادی جمہوریتوں کے بی ڈی ممبران دیکھ لیے، مشرف کے ناظمین دیکھ لیے، ٹیکنو کریٹ حکومتوں کی باتیں سن لیں، نگران حکومتوں کے لمبے طویل تجربے سہ لیے، اور مذہب سے لے کر لبرل ازم تک کا ہر نعرہ اور مصالحہ لگا کر دیکھ لیا لیکن ریاست کی دیگ کا ذائقہ پھر بھی نہ بن سکا۔

اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ ہم اُس گھر کے افراد کی طرح ہیں جو ہر بار باورچی کے بدلتے مصالحوں پر آس لگا لیتے ہیں مگر ہانڈی پھر بھی بدذائقہ ہی رہتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ نئے نظام یا نعرے آزمائے نہیں گئے یا حالات میں تھوڑی بہت تبدیلی نہیں آئی، لوگوں کی زندگیوں میں بدلاؤ ضرور آیا، مگر جو ’مثالی دیگ‘ جو ہم تیار کرنا چاہتے تھے وہ کبھی نہ بن سکی۔ اِس کی وجہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس ایک اچھا نظام یا کچن چلانے کی صلاحیت نہیں تھی۔  دنیا کے دوسرے ممالک یہی نظام چلا کر ترقی کر چکے ہیں، کہیں صدارتی نظام کامیابی سے چل رہا ہے تو کہیں پارلیمانی جمہوریت سے کام بن رہا ہے، اور تو اور آمریت اور کمیونسٹ طرزِ حکمرانی بھی ڈیلیور کر رہے ہیں۔

اصل مسئلہ نظام، آئین یا نعروں کے ان ’مصالحوں‘ میں ہے ہی نہیں، اصل مسئلہ نیتوں کا فتور ہے۔ اب یہ کیسے حل ہو گا، اِس کا ذکر پھر کسی وقت!

(بشکریہ: ہم سب لاہور)