ملک کو ’بچہ جمہورا ‘کے حوالے کرنے والےفیصل واوڈا کون ہیں؟
- تحریر سید مجاہد علی
- بدھ 14 / اکتوبر / 2026
آزاد حیثیت میں سینیٹر منتخب ہونے والے فیصل واوڈا نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک زوردار پریس کانفرنس منعقد کی اور اعلان کیا کہ اب ملک میں ’جمہوری نہیں، بچہ جمہورا‘ کی حکومت چلے گی۔ جو کام کرے گا، اسے موقع ملے گا اور جو ناکام ہوجائے گا ، اسے تبدیل کردیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے اس اتھارٹی سے یہ اعلان کیا گویا اس ملک میں نہ کوئی حکومت ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ کام کررہا ہے بلکہ مشکوک ماضی کا حامل ایک سینیٹر اب فیصلہ ساز بن کر ملک کی تقدیر کے فیصلے کرنے کا فرمان جاری کررہا ہے۔ ان کی یہ پریس کانفرنس خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر رول کے پس منظر میں منعقد ہوئی تھی۔ انہوں نے بار بار صحافیوں کو باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ بہت باریک بات کررہے ہیں، انہیں ان کی بات سمجھنی چاہئے۔ سینیٹر واوڈا کی پریس کانفرنس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ ہم نے اپنی اگلی نسلوں کو جواب دینا ہے ، اس لیے کسی بھی عذر پر ایسے عناصر کو قبول نہیں کیا جاسکتا جو ملکی سلامتی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
فیصل واوڈا خود 2022 تک تحریک انصاف سے وابستہ اور عمران خان کے قریبی ساتھی رہے ہیں تاہم ان کی پریس کانفرنس بنیادی طور پر یہ اعلان کرنے کے لیے منعقد کی گئی تھی کہ خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہونے کے بعد درحقیقت یہ پارٹی اب ختم ہوچکی ہے اور کسی کو اس پارٹی کے ساتھ امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نہ صرف تحریک انصاف بلکہ سب سیاسی پارٹیوں سے مایوس ہوچکے ہیں۔ اب تو وہی عوام کو بھائے گا جو کام کرکے دکھائے گا اور لوگوں کو سہولتیں فراہم کرے گا۔ اسی لیے انہوں نے کہا کہ خیبر پختون خوا میں گورنر فیصل کریم کنڈی کی قیادت میں قائم ہونے والے نئے ٹیکنوکریٹ انتظام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کے پاس کارکردگی دکھانے کے لیے 120 ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حکومت کے کام کا تیس دن اورساٹھ دن بعد بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اگر یہ لوگ کام کرنے اور نتائج دکھانے میں کامیاب نہ ہوئے تو انہیں تبدیل کردیا جائے گا۔ البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ یہ اعلان کسی ’حیثیت‘ میں کررہے ہیں اور اگر یہ انتظام بھی ناکام ہؤا تو نئے لوگ لانے کی ذمہ داری کون سنبھالے گا۔ ان کی باتوں اور ان میں ظاہر کی جانے والی تمکنت سے تو یہی لگتا تھا کہ جیسے وہ خود ہی اس ملک کے ’حاکم اعلیٰ‘ ہیں اور وہی گورنر کنڈی کا ’امتحان ‘ لیں گے اور ناکامی کی صورت میں ان سے اختیارات چھین لیں گے۔
تاہم یہ بھی واضح ہے کہ پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے ووٹوں سے آزاد حیثیت میں سینیٹر بننے والے فیصل واوڈا کی یہ سیاسی حیثیت نہیں ہے کہ وہ کسی صوبائی حکومت یا ملکی عمومی انتظام کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کرسکیں۔ اسی لیے عام طور سے یہ سوال کیا جارہا ہے اور قیاس آرائی ہورہی ہے کہ وہ درحقیقت ملکی مقتدرہ کے نمائیندے ہیں اور اسٹبلشمنٹ کی طرف سے کسی خاص ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اس پریس کانفرنس کے ذریعے پیغام رسانی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اس قسم کا کام ماضی میں بھی اسٹبلشمنٹ کے چہیتے سیاست دان کرتے رہے ہیں اور میڈیا میں ان بیانات کو قابل اعتبار پیش گوئیاں بنا کر پیش کرنے کی روایت بھی موجود رہی ہے۔ فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس بھی اسی پرانے طریقہ کی نقل معلوم ہوتی ہے ۔ کراچی کا ایک تاجر پہلے عمران خان کی نظرکرم کی وجہ سے وزارت کے منصب تک پہنچا اور ان سے راستے علیحدہ کرنے کے بعد اسٹبشلمنٹ کی خواہش پر بعض سیاسی پارٹیوں کی مدد سے سینیٹر بنا۔ اب کافی مدت تک خاموش رہنے کے بعد انہوں نے ’بچہ جمہورا‘ کی حکومت اور نظام کو ’ری بوٹ‘ کرنے جیسی اصطلاحات کے ذریعے یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی ہے کہ حقیقی فیصلے نہ پارلیمنٹ کرے گی اور نہ ہی عوام کے ووٹوں کی کوئی حیثیت ہے بلکہ اب ملک کے وسیع تر مفاد میں وہی فیصلہ ہوگا جو عوام کو سہولت دے سکے۔
ایک عام سے سینیٹر کی طرف سے ایسے بڑے دعوؤں کے بعد یہ ضروری تھا کہ اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں موجود صحافی ان سے ’شناخت‘ کرانے کا مطالبہ کرتے اور پوچھتے کہ وہ کس حیثیت میں کسی رنگ ماسٹر کی طرح سیاست دانوں کو نچانے کی باتیں کرسکتے ہیں۔ یہ کام تو ملک کا وزیر اعظم بھی نہیں کرتا جو آئینی لحاظ سے چیف ایگزیکٹو ہے اور جس کی پارٹی کو قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے۔ ا س کی بجائے صحافیوں نے البتہ یہ دریافت کرنے کی کوشش ضرور کی کہ معاملات تو پورے ملک ہی میں خراب ہیں، عوام کی حالت دگرگوں ہوچکی ہے تو صرف ایک صوبے میں حکومت کی تبدیلی سے کیا مقصد حاصل ہوگا۔ نہ صرف پریس کانفرنس میں فیصل واوڈا کو کسی طاقت ور دیومالائی شخصیت کے طور پر قبول کرنے کا رویہ دیکھنے میں آیا بلکہ ملک کے بیشتر ٹاک شوز نے بعد میں ان سے براہ راست بات چیت کے ذریعے ’اندر کی خبریں‘ حاصل کرنے کااپنا سا جتن بھی کیا۔ ایسے میں فیصل واوڈا جیسا کوئی بھی شخص خود کو ضرور ناخد اسمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہوگا۔
بدقسمتی سے ملک میں نہ صرف سیاسی لیڈروں اور پارٹیوں نے اسٹبلشمنٹ کو ایک آئینی نظام میں حتمی فیصلے کرنے کا اختیار سونپ رکھا ہے بلکہ ملک کے بیشتر صحافی رپورٹنگ کرتے ہوئے اور تجزیہ نگار سیاسی تبصرہ نگاری میں اس اصول کو طے شدہ قرار دینے میں مضائقہ نہیں سمجھتے کہ ملک میں جمہوریت کے نام پر آمریت موجود ہے جسے احتیاطاً ’ہائبرڈ نظام‘ کا نام دیا گیا ہے۔ البتہ اس نام میں پھر یہ تاثر قائم رہتا ہے کہ ملک کی منتخب حکومت نے گوناں گوں اور مشکل حالات سے نمٹنے کے لیے عسکری قیادت کو ساتھ لے کر چلنے کا طریقہ اختیار کیا ہؤا ہے۔ اصل اختیار عوام کے نمائیندوں ہی کے پاس ہے لیکن فیصلے کرتے ہوئے فوج کا نقطہ نظر جاننے اور اسے ماننے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اگرچہ یہ نظریہ بھی سراسر سراب ہے لیکن فیصل واوڈا جس بے رحمانہ طریقے سے ملک میں کسی غیر مرئی سپر پاور کا حوالہ دیتے ہوئے کارکردگی کا مطالبہ کررہے ہیں، اس سے تو یہ تاثر عام ہوگا کہ اسٹبلشمنٹ اور اس کے کرتا دھرتا اب اپنی مرضی سے لائے ہوئے وزیر اعظم پر بھی اعتبار نہیں کرتے بلکہ اپنے نمائیندوں کے ذریعے ملکی انتظام کے بارے میں اعلان کرکے ملک کے لوگوں اور رائے سازی کرنے والوں کو ہراساں اور خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔
فیصل واوڈا کسی صورت آرمی چیف یا فوج کے نمائیندے نہیں ہیں لیکن اگر ایسے لوگوں کو یوں پریس کانفرنسوں میں بلند بانگ دعوے کرنے کی اجازت دی جائے گی اور انہیں لگام نہیں ڈالی جائے گی تو یہ تاثر عام ہوگا کہ ملک میں غیرعلانیہ مارشل لا نافذ کردیا گیا ہے۔ اب صرف فوج کی طرف سے جاری ہونے والے احکامات پر ہی عمل ہوگا اور وہی حکمرانی کا حق حاصل کرے گا جو ’کارکردگی‘ کے طے شدہ معیار پر پورا اترے گا ۔ دو تین دہائی پہلے تک اس قسم کی پیغام رسانی شاید کوئی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہو لیکن سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں خبریں تیزی سے گردش کرتی ہیں اور تمام تر سرکاری کنٹرول کے باوجود خود مختارانہ رائے بننے کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔ اس لیے اب فیصل واوڈا جیسے پیامبر حالات کو موافق بنانے کی بجائے انہیں خراب کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔
فیصل واوڈا نے سسٹم ری بوٹ کرنے، ملکی معاملات میں بوٹ یعنی فوج کی غیر مشروط سیاسی حمایت کرنے اور کارکردگی نہ دکھانے والوں کو گھر جانے کے جو پیغامات دئے ہیں، وہ ملکی فوج کی شہرت، وقار اور نیک نامی پر داغ لگانے کے مترادف ہیں۔ اس پر مستزاد ملک کا ایک سینیٹر جو اپنے تمام تر رابطوں کے باوجود ایک آئینی و جمہوری طریقے سے سینیٹر بنا تھا، اب ملک میں جمہوری حکومتوں کی بجائے چنیدہ ’بچہ جمہورا‘ کو اختیارات دینے کا اعلان کرکے پورے آئینی نظام کی توہین کا مرتکب ہؤا ہے۔
حکومت یا آئی ایس پی آر صرف یہ کہنے پر اکتفا نہ کرے کہ فیصل واوڈا کی باتیں ان کے اپنے خیالات ہیں بلکہ ایسے عناصر کو معاشرے کے سر پر مسلط ہونے کی اجازت بھی نہ دی جائے۔ ورنہ ایسے دعوؤں سے پیدا ہونے والا غبار پہلے سے موجود غلط فہمیوں اور مشکلات میں اضافہ کا سبب بنے گا۔