آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں تجارتی جہازوں پر حالیہ دنوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی (یو کے ایم ٹی او) کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق پانچ اکتوبر سے 11 اکتوبر کے درمیان 12 جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ ایک ہفتے کے دوران رپورٹ ہونے والے حملوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس سے قبل والے ہفتے میں 10 جہازوں نے حملوں کی اطلاع دی تھی۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق گزشتہ اتوار کو ایک ہی روز میں چھ جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔ جبکہ 12 اکتوبر کے بعد سے اب تک چار مزید حملوں کی اطلاعات موصول ہو چکی ہیں۔ حملوں میں اضافے کے ساتھ ہی آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں گزشتہ ماہ دیکھی جانے والی بحالی کی رفتار بھی سست پڑ گئی ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز پر زیادہ کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کے تحت جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے جبکہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے سے گزرنے والے اُن ٹینکروں کی تعداد بڑھا دی ہے جنہیں وہ ایرانی حملوں سے بچاتے ہوئے اپنی نگرانی میں یہ آبی گزرگاہ عبور کروا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران آبنائے ہرمز سے نسبتاً دور سمندری علاقوں میں بھی جہازوں پر حملوں میں اضافہ کر رہا ہے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ، سینٹ کام، نے کہا ہے کہ حملوں کے باوجود ’آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری آمد و رفت جاری ہے اور امریکی افواج اور علاقائی شراکت داروں کی مربوط حفاظت کے تحت جہازوں کی نقل و حرکت برقرار ہے۔‘
دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق رواں ہفتے کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا ہے اور جمعہ کو برینٹ کروڈ کی قیمت 105.42 ڈالر فی بیرل ہے۔
دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’جوہری ہتھیار استعمال نہیں کریں گے‘۔ انہوں نے نیوزمیکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ ایران میں امریکی زمینی فوجیں بھیجنے کے امکان پر بھی غور نہیں کر رہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’میں جوہری ہتھیار استعمال نہیں کروں گا۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’مدر آف آل بمبز‘ کے نام سے معروف بم، جس کے بارے میں سی این این نے رپورٹ کیا تھا کہ ممکنہ حملوں میں اس پر غور کیا جا سکتا ہے، ایک انتہائی طاقتور لیکن غیر جوہری ہتھیار ہے۔ ٹرمپ کے بقول ’یہ صرف ایک بہت بڑا بم ہے، لیکن یہ جوہری نہیں ہے۔‘
انہوں نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں کہا کہ امریکہ جوہری تخفیفِ اسلحہ کے حوالے سے روس اور چین کے ساتھ بھی بات چیت کر رہا ہے۔