سیاست کے انداز بدلے گئے
- تحریر نسیم شاہد
- جمعہ 16 / اکتوبر / 2026
لڑکپن کی یادوں میں ایک یاد یہ بھی ہے کہ ہم سیاسی رہنماؤں کے بہت دیوانے ہوا کرتے تھے،ملتان کینٹ کے صدر بازار میں رہائش تھی اور اُس سے کچھ ہی فاصلے پر کھر ہاؤس ہوتا تھا۔ آج یہ ویران پڑا ہے، اس کھر ہاؤس میں سیاست کی بڑی گہما گہمی ہوتی تھی۔
غلام مصطفےٰ کھر پیپلزپارٹی میں تھے تو یہ جگہ گویا پیپلزپارٹی کی سرگرمیوں کا مرکز تھی، سونے پہ سہاگہ گھر کے تقریباً سامنے ہی گٹ فٹ ٹیلر نام کی دکان تھی۔ یہ دکان کم اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز زیادہ تھی۔پیپلزپارٹی کینٹ کا دفتر ہونے کی وجہ سے زیادہ وقت وہیں گزرتا تھا۔پھر ایک دن یہ شور مچا کہ ذوالفقار علی بھٹو کھر ہاؤس آ رہے ہیں۔ ہم نوجوان دوستوں نے بھی صبح سویرے وہاں ڈیرے ڈال دیئے۔اچھی بات یہ تھی پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر اندر جانے کی کھلی اجازت تھی۔آج جیسی ہٹو بچو بھی نہیں تھی اور اُس دن خاصا میلہ سا لگا ہوا تھا۔
اِس سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو پرانا شجاع آباد روڈ پر نواب صادق حسین قریشی جو بعد میں وزیراعلیٰ بھی بنے،کے وائٹ ہاؤس میں رہنماؤں اور کارکنوں سے ملتے تھے۔ اُس زمانے میں ایک چھوٹے سے سیاسی رہنما کی بھی بہت عزت ہوتی تھی،کارکن بھی اُسے رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ یہ صحیح معنوں میں سیاست کا عروج تھا۔ کرپشن کی کہانیاں بہت کم سننے کو ملتی تھیں، عام سیاسی رہنما لوگوں کی خدمت کر کے جو عزت ملتی تھی، اُس پر خوش ہوتے تھے۔ کسی تھانے میں کوئی پارٹی عہدیدار چلا جاتا تو اس کی بے عزتی نہیں شنوائی ہوتی تھی۔ افسر بھی اُن کی بات سنتے تھے، آج کل کی طرح نہیں کہ ارکان اسمبلی دہائی دے رہے ہیں کہ افسر اُن کی بات نہیں سنتے، اُلٹا بدزبانی کرتے ہیں۔ اس ضمن میں تحاریک استحقاق بھی پیش ہو رہی ہیں اور وہاں بھی پولیس اور انتظامی افسروں کی گردن نیچے نہیں آ رہی۔ سیاست اِس حال تک کیسے پہنچی،یہ کہانی سب کے سامنے ہے۔
سیاست پر انتظامیہ کا غلبہ نہ صرف سیاستدانوں کے لئے باعث ہزیمت ہے بلکہ عوام بھی گویا بے آسرا ہو گئے ہیں اور انتظامی و پولیس افسروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ مجھے نصف صدی پہلے کا وہ واقعہ یاد ہے جب تھانہ کینٹ ملتان کی پولیس نے دو سیاسی کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پیپلزپارٹی کینٹ کے ایک رہنما خورشید خان تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے کارکن اکٹھے کر کے تھانے کے سامنے دھرنا دے دیا۔ آدھا گھنٹہ نہیں گزرا ہو گا کہ ملتان کے ایس ایس پی، پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر اور ڈپٹی کمشنر موقع پر پہنچ گئے، بات گورنر ہاؤس لاہور تک پہنچ گئی جہاں غلام مصطفےٰ کھر بیٹھے تھے۔ سیاسی کارکنوں پر تشدد گویا ایک بہت بڑا واقعہ تھا۔ موقع پر تفتیش ہوئی، قصور پولیس والوں کا نکلا، کارکنوں کی رہائی ہوئی اور پولیس والے معطل کر دیئے گئے۔ اس واقعہ کا بہت دِنوں تک چرچا رہا اور پیپلزپارٹی کے کارکن پھولے نہ سمائے پھرتے تھے۔
آج کے نہیں پچھلے کئی دہائیوں کے حالات کو دیکھیں تو آپ کو فرق صاف نظر آئے گا۔اب بس کارکن ہی رہ گئے ہیں ماریں کھانے اور جیل جانے کیلئے۔رفتہ رفتہ حالات کا پانسہ یوں بھی پلٹا کہ سیاسی رہنماؤں نے ریاست کی طاقت کو سیاست سمجھ لیا،حالانکہ سیاست عوام سے ہوتی ہے،عوام کے لئے ہوتی ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ پارٹیوں کے رہنما اور ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ سے یہ شکایت کرتے ہیں کہ ضلع یا ڈویژن کا افسر انہیں ملاقات کا وقت نہیں دیتا۔ پھر اُس خبر کو ایسے پھیلاتے ہیں جیسے سیاست کا انحصار اُسی پر ہو،جس رکن اسمبلی کے ساتھ پانچ دس کارکن نظر نہ آئیں، وہ صرف یہ چاہتا ہے ڈی سی او، ڈی پی او اُسے صبح و شام سلام کر کے، ڈیرے پر حاضری دے۔
میں نے خود ایک رکن اسمبلی کی بے بسی چند روز پہلے دیکھی۔ ایک غریب آدم اپنی فیملی کے ساتھ اُس کے ڈیرے پر بیٹھا ہوا تھا۔مجھے ایک دوست کے ساتھ کسی تقریب میں جانا تھا۔ اُس نے کہا رکن اسمبلی سے ایک کام ہے راستے سے ہو لیتے ہیں۔ وہ غریب فیملی اُسے بتا رہی تھی ہم آپ کے ووٹرز ہیں ایک بدمعاش نے ہمارے گھر پر قبضہ کر لیا ہے اور دو بیٹوں کو بھی تشدد کر کے پولیس کے حوالے کیا ہے۔اب پولیس والے ہمارے خلاف ہی پرچہ دے رہے ہیں۔ ایسی بات اگر دو دہائی پہلے کسی رکن اسمبلی کے سامنے ہوتی،رکن اسمبلی کو تو چھوڑیں ایک عام پارٹی عہدیدار کے علم میں بھی آتی تو وہ اُٹھ کر اُن کے ساتھ ہو لیتا۔ مگر میں نے خود یہ جملہ سنا، بابا افسر میرا واقف نہیں، تم کوئی اچھا وکیل کر کے عدالت میں کیس کر دو۔ میں یہ سن کہ حیران رہ گیا۔ ایک غریب آدم جس کی حالت بتا رہی ہے کہ دو وقت کی روٹی مشکل سے پکتی ہو گی،اُسے یہ مشورہ دینا کہ اچھا وکیل کر لو پرلے درجے کی سفاکی ہے۔ ساتھ ہی فرمایا مجھے ایک کھانے پر جانا ہے اس لئے تم خود ڈی پی او کے پاس چلے جاؤ،وہ تمہاری بات سنے گا۔ ساتھ ہی میں نے اپنے دوست کے کان میں کہا یہاں سے چلو، مجھے تو اُبکائی آنے لگی ہے۔
سیاست ایک چین کے سہارے کام کرتی ہے یہ اوپر لگایا گیا پودا نہیں ہے۔ عوام،سیاسی کارکن، پارٹی عہدیدار اور رکن اسمبلی،اس چین کے اجزا ہیں۔جب تک ارکان اسمبلی عوام،کارکنوں اور پارٹی عہدیداروں کی دسترس میں ہوتے تھے، سیاست کی زنجیر مضبوط تھی۔ اب صرف بات رکن اسمبلی تک رہ گئی ہے۔ اس کے اپنے ذاتی کام اور مفادات ہی اتنے ہوتے ہیں کہ وہ بار بار عوام کے لئے کام کر کے اپنی سفارشیں ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ اپوزیشن کے ارکان اسمبلی تو ویسے ہی گواچی گاں بن جاتے ہیں مگر حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی اور بڑے عہدیداروں کو سیاسی یتیمی کا لبادہ اوڑھے دیکھ کر حیرانی ہوتی ہے۔مجھے ایک بیورو کریٹ نے بتایا آج کل سیاسی نمائندوں کی خواہشیں بھی عجیب و غریب ہیں۔ کبھی فون کریں گے کھانے کا وقت تو دیں،کبھی کہیں گے میں کل آپ کے آفس آنا چاہتا ہوں،ایک دو تصویریں بنوا لیجئے یا پھر کوئی اپنا ذاتی کام لے آئیں گے۔ اپنے حلقے کے مسائل پر شاذو نادر ہی بات کریں گے۔ اب آپ ہی بتایئے اگر ہم بھی عوام کے مسائل بارے نہ سوچیں، ترقیاتی کام نہ کرائیں تو نظام کیسے چلے۔
اب ان کی خواہش یہ بھی ہوتی ہے کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع ہوا ہے، تو اُس کی افتتاحی تختی پر اُن کا نام بھی آئے۔ نام نہ آئے تو موقع ملتے ہی شکایت کر دیتے ہیں، واقعی زمانہ بدل گیا ہے۔سیاست کے انداز بھی بدل گئے ہیں اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر ایک عوامی نمائندہ عوام سے لاتعلق کیسے ہو سکتا ہے، یہ ایک لاجواب کر دینے والی بات ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)