جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ میں سب ہم پیالہ ہیں!

وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ  خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر رول کی مخالفت کرنے والے ایک لیڈر اس انتظام میں حصہ نہ ملنے پر ناراض ہیں۔ ان کا یہ بھی یہ دعویٰ تھا کہ  یہ سیاست دان خیبر پختون خوا کی گورنر شپ حاصل کرنے میں  ناکام ہونے  پر بھی خفا ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہی لیڈر طویل عرصہ تک اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں اور ہوائی  جہاز کی ٹکٹیں بھی اسٹبلشمنٹ سے حاصل کرتے رہے ہیں۔

محسن نقوی نے   یہ ’پول‘ کھولتے ہوئے  کسی لیڈر کا نام نہیں لیا لیکن    اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر ناراض ہونے والے لیڈر کی جو نشانیاں انہوں نے بتائی ہیں، وہ سب جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان میں پائی جاتی ہیں۔ مولانا نے گزشتہ روز ہی ملتان میں خطاب کرتے ہوئے خیبر پختون خوا اور قبائیلی علاقوں کے معاملہ پر سخت تنقید کی تھی اور  کہا تھا کہ اگر دہشت گردی ہی گورنر راج لگانے کی اصل وجہ ہوتی تو   یہ انتظام پہلے بلوچستان میں کیا جاتا لیکن آپ نے خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی اور گورنر رول اس لیے لگایا ہے کیوں کہ وہاں کا وزیر اعلیٰ پسند  نہیں تھا۔ 

مولانا فضل الرحمان کی ان تند و تیز  باتوں کی بنیاد  کوئی  سیاسی اصول یا جمہوریت پسندی نہیں ہے اور نہ ہی انہیں تحریک انصاف کو دیوار کے ساتھ لگانے کے معاملہ میں کوئی پریشانی ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ ایمرجنسی اور گورنر رول کا فیصلہ ہونے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف  سے ملاقات نہ کرتے۔ یا وہ تنقید جو اس فیصلہ  کا اعلان ہونے کے فوری بعد شروع کی گئی  ہے، اس کا اہتمام اس وقت کیا جاتا جب حکومت کھلم کھلا یہ اعلان کررہی تھی کہ  خیبر پختون خوا میں  ایمرجنسی کے بغیر مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ البتہ اس اعلان کے بعد مولانا کی ناراضی درحقیقت خیبر پختون خوا میں اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کی حکمت  عملی ہے۔   خیبر پختون خوا ہی  مولانا فضل الرحمان کی سیاست کا گڑھ ہے اور وہ وہیں سے  سیٹیں جیت کر کبھی  مرکزی حکومت سے سیاسی فائدے حاصل کرتے ہیں اور کبھی صوبے میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آتے رہے ہیں۔ 

2024  میں ہونے والے  انتخابات کے بعد   مولانا فضل الرحمان  انتخابی دھاندلی کے الزامات میں اسی لیے حصہ دار بنے تھے کہ  انہیں   کے پی کے سے  مناسب تعداد میں سیٹیں نہیں مل سکیں۔ اس طرح نہ تو وہ مرکز میں کسی قابل ذکر بارگیننگ پوزیشن میں آسکے اور نہ ہی انہیں صوبائی اسمبلی میں اتنی نشستیں ملیں کہ وہ  جوڑ توڑ کرکے وہاں  تحریک انصاف کے مد مقابل اپنی طاقت دکھانے کے قابل  ہوتے۔ البتہ مولانا چونکہ ہوشیار سیاسی کھلاڑی ہیں، اس لیے انہوں نے خاص طور سے خیبر پختون   خوا میں اپنی سیاسی ناکامی کا حوالہ دینے کی بجائے قومی سطح پر انتخابی دھاندلی کے بیانیہ کا حصہ بننا بہتر سمجھا تاکہ ان کی باتوں کو جمہوریت اور آئینی انتظام  کے ساتھ ان کی وفاداری سے تعبیر کرایا جائے۔ حالانکہ ان کی جمہوریت پسندی کا پول تو اسی وقت کھل گیا تھا جب زور ذبردستی سے  تحریک انصاف کی مخصوص نشستیں چھین کر دیگر سیاسی پارٹیوں میں تقسیم کرنے کا اہتمام کیا گیا اور مولانا نے بھی  اپنا  ’پورا‘ حصہ وصول کیا۔

اس پس منظر میں محسن نقوی کا  یہ الزام بعید از قیاس نہیں ہے کہ  ایمرجنسی اور گورنر راج سے  عین پہلے  حکومت نے مولانا فضل  الرحمان سے جو راہ و رسم بڑھائی تھی، اس دوران نئے انتظام   میں حصہ داری کے معاملہ پر اتفاق نہ ہوسکا ہو۔ اور اب اسی خفت میں مولانا حکومت پر تنقید کرکے ایک طرف اپنا کلیجہ ٹھنڈا کررہے ہیں تو دوسری طرف  تحریک انصاف کے لیے کے پی کی زمین تنگ ہونے کے بعد وہ وہاں اپنی سیاسی  جگہ بنانے کے لیے ہاتھ پاؤں ماررہے ہوں ۔مولانا فضل الرحمان کو خوب اندازہ ہے کہ اس وقت اگر انہوں نے سرکاری بیانیہ کا ساتھ دیا تو تحریک انصاف کے حامیوں کے علاوہ خیبر پختون خوا کا ایسا  ووٹر بھی ان کے خلاف ہوجائے گا جو اس  اقدام کو صوبے کے عوام کے حقوق پر ڈاکہ سمجھتا ہے۔ مولانا اب اسی ناراضی کو اپنے حق میں ہموار کرکے ایک بار پھر خیبر پختون خوا  ’جمہوری طریقے سے فتح‘ کرنے کا خواب دیکھ رہے ہوں گے۔ گو کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ  مولانا اس حکمت عملی میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں لیکن دیگر ثقہ تجزیہ نگاروں کی طرح مولانا فضل الرحمان اور جمیعت علمائے اسلام نے بھی یہی اندازہ قائم کیا ہوگا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا فیصلہ کرتے ہوئے اب تحریک انصاف کے لیے تمام انتخابی راستے بند کر نے کا  قصد کیا گیا ہے ۔ اس لیے تحریک انصاف کی عوامی مقبولیت سے قطع نظر اسے کسی انتخاب میں شاید جمہوری مقابلہ کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔  ان حالات میں مولانا اپنی سیاسی کامیاب کے لیے میدان ہموار کرنے کا  خواب دیکھ رہے ہیں۔

اس بحث سے قطع نظر کہ مولانا فضل الرحمان  کس حد  صوبے کے نئے انتظام میں حصہ داری کے خواہاں تھے، وزیر داخلہ کے بیان سے یہ بہر حال واضح  ہوگیا ہے کہ ملک میں آئین کے نام پر جو جمہوری انتظام مروج ہے، اسے اسٹبلشمنٹ  ہی  کنٹرول کرتی ہے اور  سب سیاسی پارٹیاں اسی کی مرضی حاصل کرنے کے لیے اپنے اپنے طور پر جد و جہد میں مصروف رہتی ہیں۔   بلکہ وزیر داخلہ نے جب یہ  دعویٰ کیا کہ خیبر پختون خوا کی گورنری اور نئے انتظام میں حصہ نہ ملنے پر ایک لیڈر ناراض ہیں  حالانکہ ماضی میں تو وہ  ’اپنی سیاسی جماعت کے ہوائی ٹکٹ بھی اسٹبلشمنٹ سے بنواتے تھے‘۔  تو اس سے یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر آپ ’اسٹبلشمنٹ‘ کا ساتھ دیں گے تو  دوسری سہولتوں کے علاوہ فری ہوائی ٹکٹ بھی لے سکتے ہیں۔

 نظام کی  ناکامی اور اسے ری بوٹ کرنے کے دعوے کرنے والے ہمارے بااصول وزیر داخلہ نے اس  حقیقت پر قطعی کوئی شرمندگی یا پریشانی محسوس نہیں کی کہ اسٹبلشمنٹ سیاسی لیڈروں کو چارہ ڈالنے کے لیے کیسے  کیسے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے اور وہ کس حد تک آئینی طریقے یا جمہوری روایات پر پورے اترتے ہیں۔ کسی آڈٹ یا  مالی احتساب کے بغیر ’اسٹبلشمنٹ‘ نام کا کوئی ادارہ اگر سیاسی جماعتوں  کو مالی سہولتیں فراہم کرتا ہے اور وزیر داخلہ کو اس کا علم ہے تو اس کا اعلان کرنے  کی بجائے، اصولی طور سے  اس کی جواب  دہی ہونی چاہئے۔ کیا محسن نقوی گزشتہ چند ماہ کے دوران ایسے ہی نظام کی باتیں نہیں کرتے رہے جو شفاف ہو اور جس میں سب کو انصاف ملے۔  کیا  یہ انصاف اسٹبلشمنٹ کو  غیر آئینی و غیر جمہوری اختیارات  دے کر مل سکے گا؟

ملک میں  جمہوریت کا ڈھونگ کیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ تمام عناصر نے اپنے اپنے مفاد کے لیے جمہوری روایت پامال کرنے  میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اس میں کسی سیاسی گروہ کو اختصاص حاصل نہیں ہے۔ جسے حکومت یا اقتدار میں حصہ ملتا ہے، وہ اسے  جمہوریت کہہ کر خوش ہولیتا ہے اور جسے یہ حصہ نہیں مل پاتا وہ اپوزیشن میں بیٹھ کر ہائے ہائے جمہویت کا الاپ اٹھا کر درحقیقت اپنی باری مانگنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  2022 سے پہلے جو  راگ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی  گا رہی تھیں، اسے اب تحریک انصاف کے لیڈروں کی زبانوں پر رواں دیکھا جاسکتا ہے۔

اسی پر اکتفا نہیں ہے کہ سیاسی لیڈر اور پارٹیوں نے سیاسی و قومی معاملات میں اسٹبلشمنٹ کو حتمی طاقت سمجھ کر اس کے سامنے سرنگوں ہونے کا فیصلہ کیا ہؤا ہے۔  بلکہ پورے ملک میں  جمہوریت کا ایسا پاٹھ پڑھانے کا اہتمام کیا جاچکا ہے جس میں یہی پیغام دہرایا اور یاد کرایا جاتا ہے کہ اصل طاقت اسٹبلشمنٹ اور ڈنڈے کے پاس ہے۔ اگر اقتدار میں حصہ چاہئے  تو ڈنڈے والوں  کے سامنے سر اٹھانے یا آواز بلند کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ کالم نگار، ٹاک شو اینکرز کے علاوہ سیاست دانوں کی ایک پوری کھیپ اس پیغام کو عام کرنے کے کام جتی ہوئی ہے۔ اس کا تازہ ترین مظاہرہ اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں فیصل واوڈا پنی  پریس کانفرنس میں کرچکے ہیں۔