تحریک انصاف کی جان کس طوطے میں ہے؟

کیا تحریک انصاف کی جان اقتدار کے طوطے میں تھی؟ جب اُس کی گردن مروڑ دی گئی،  اس کی روح پرواز کر گئی؟دو باتیں ظاہر وباہر ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں تحریک انصاف نے اگر کہیں زندگی کا کوئی ثبوت فراہم کیا ہے تو اس کا اظہار کے پی میں ہوا۔

وزیراعلیٰ کے پی نے لاہور یا کراچی کا رخ کیا تو کچھ ہلچل دکھائی دی۔ اس کے بعد اور پہلے وہی قبرستان والی خاموشی کا غلبہ ہے۔ دھرنے کا شور بلند ہوا تو صرف کے پی میں۔ سارا ملک اس سے لاتعلق رہا۔ صوبے میں حکومت کا خاتمہ تحریک انصاف کے لیے بڑا واقعہ تھا۔ اس پر بھی اگر احتجاج کی کوئی صدا بلند ہوئی تو پارلیمنٹ کے ایوانوں سے۔ اب تو کے پی میں بھی پُراسرار خاموشی چھائی ہوئی ہے۔ جیسے کچھ تھا ہی نہیں۔

تحریک انصاف اگر سیاسی جماعت ہوتی تو اقتدار سے بے نیاز اپنی قوت کا اظہار کرتی۔ کوئی صدائے احتجاج بلند ہوتی، کوئی شور برپا ہوتا، کہیں صفِ ماتم بچھتی۔ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ سیاسی جماعتیں اپنی زندگی کے لیے اقتدار کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ان کا تکیہ عوام پر ہوتا ہے۔ خود تحریک انصاف کی اپنی تاریخ میں اس کی مثال موجود ہے۔ 2018میں تحریک انصاف کو اقتدار ملا تو نااہلی کی دیمک اس کو چاٹ گئی۔ ان کی مقبولت کا گراف نیچے آنے لگا۔ یہاں تک کہ جب اس کے خلاف عدم اعتماد ہو رہا تھا وہ غیر مقبولیت کی انتہا پر تھی۔ آئندہ انتخابات کے لیے ہر سیاسی کارکن کی خواہش تھی کہ اسے (ن) لیگ کا سائبان میسر آ جائے۔جیسے ہی اقتدار کا سورج غروب ہوا،تحریک انصاف میں جان پڑ گئی۔ عمران خان صاحب ایک متبادل سیاسی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے اوران کی عدم مقبولیت ،مقبولیت میں بدلنے لگی۔

 دو باتوں نے پی ٹی آئی کو نئی زندگی دی۔ ایک سیاسی بیانیہ جو غلط ہونے کے باوجود مقبول ہوا۔ دوسری عمران خان کی قیادت۔ اقتدار سے ان کی رخصتی میں امریکہ کا ہاتھ نہ تھا نہ ریاست کا۔ حالات میں صرف ایک تبدیلی آئی تھی۔ جو ریاستی ادارے ان کی سرپرستی کر رہے تھے، انہوں نے اپنا دستِ شفقت اٹھا لیا اور یہ پیغام اہلِ سیاست تک پہنچ گیا۔ مخالفین کے لیے ریاست کی اتنی حمایت کافی تھی۔ یہ پیغام ملنے کے بعد بقا کے لیے انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک ہی کا ساتھ دینا تھا۔ عمران خان صاحب نے اپنی کمزوری کو اپنی طاقت میں بدل دیا۔ ایک بیانیہ بنایا جو عوامی حمایت حاصل کر سکتا تھا۔

پاکستان میں دو بیانیے ہمیشہ مقبول رہے ہیں۔ ایک مذہب اور دوسرا امریکی مخالفت۔ عمران خان صاحب نے دوسرے کو استعمال کیا اور کامیابی کے ساتھ۔ یوں انہوں نے صفیں الٹ دیں۔ بھاگتے ہوئے لوگ لوٹ آئے اور مقبولیت نے دوبارہ ان کے گھر کا رخ کر لیا۔ عمران خان صاحب کی شخصیت نے مایوس کارکنوں میں دوبارہ جوش و خروش پیدا کر دیا۔ یہ حکمت عملی کامیاب ثابت ہوئی۔ اس کے دو اسباب تھے۔ ایک یہ کہ پارٹی کے ساتھ ایسے لوگ وابستہ تھے جو متحرک تھے۔ دوسرے یہ کہ خود عمران خان عوام کے درمیان تھے جو مرکزِ کشش تھے۔تحریک انصاف کو یہ بات سیکھنی چاہیے تھی کہ سیاسی جماعتوں کے لیے اقتدار مستقل سہارا نہیں ہوتا۔ ان کو زندہ رہنے کے لیے عوامی تائید پر انحصارکرنا پڑتا ہے۔ سیاسی تنظیم موجود ہو تو مشکل حالات میں بھی زندہ رہا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی،ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، اے این پی سمیت کئی مثالیں موجود ہیں کہ جن جماعتوں کی جڑیں عوام میں تھیں،انہوں نے خود کو مرنے نہیں دیا۔ بدلتے حالات میں خود کو زندہ رکھا۔ گزشتہ انتخابات کے بعدپی ٹی آئی کے پاس موقع تھا کہ وہ اپنی صفوں کی ترتیت درست کرتی۔ اسے ایک صوبے کا اقتدار میسر تھا اور پارلیمنٹ میں بھی اس کی قابلِ ذکر نمائندگی موجود تھی۔ اگر ان میں سیاسی حس ہوتی تو وہ اپنی اس قوت کو منظم کرتے۔ سسٹم نے ان کے لیے جو جگہ پیدا کر دی تھی، اس سے فائدہ اٹھاتے۔ عمران خان صاحب کے متبادل کے طور پر سیاسی بیانیہ اور تنظیم مضبوط بناتے۔ اس کے برخلاف انہوں نے یہ خیال کیا کہ ان کی اصل قوت ہیجان ہے۔ صوبائی حکومت نے عوام کے لیے فلاحی منصوبے بنانے کے بجائےحکومتی وسائل کو بھی ہیجان برپا کرنے کے لیے استعمال کیا۔ وزیراعلیٰ جوبھی آیا، اس نے بلند آہنگ ہونے کو اپنی قوت سمجھا۔

یہ اندازِ سیاست عمران خان صاحب کا عطا کردہ تھا۔ علی امین گنڈاپور ہوں یا سہیل آفریدی،ان کا اپنا انتخاب تھا۔ اس سے واضح تھا کہ وہ خود ہی ہیجان پر مبنی سیاست کرنا چاہتے تھے۔ اس سے ایک طرف ریاست کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا اور دوسری طرف ان کو وہ سیاسی قیادت میسر نہ آ سکی جو تحمل اورصبر کے ساتھ سیاسی جدوجہد جاری رکھتی۔ جس نے حکمت کی بات کی،اسے نکو بنا دیا گیا۔ سیاست ٹیسٹ میچ ہے،ٹی ٹوینٹی نہیں۔ عمران خان صاحب کو یہ بات سمجھنا چاہیے تھی۔ وہ خود اس بات کا اظہارکرتے تھے کہ میں نے 26 سال سیاست کی۔ ان کو سمجھنا چاہیے تھا کہ پاشا،باجوہ یا کسی اور کا فیض لازم نہیں کہ ہمیشہ میسر رہے۔

بتایا گیا کہ عمران خان نواز شریف نہیں بننا چاہتے۔ نواز شریف بننے کے لیے سیاست کے فن کو سیکھنا پڑتا ہے۔ کچھ نیم خواندہ اور نیم انقلابی لوگوں نے سیاست کے مفہوم کو بدلنے کی کوشش کی اور حکمت کو بزدلی کے مترادف بنا دیا۔ پاکستان میں کلثوم نواز صاحبہ نے سیاست کی اور علیمہ خان صاحبہ نے بھی۔ دونوں کے اندازِ سیاست کا فرق بتاتا ہے کہ دونوں کے تصوراتِ سیاست کتنے مختلف ہیں۔ 2022تک نواز شریف صاحب نے جو سیاست کی وہ سیاست کی روح کے مطابق تھی۔ اس کے بعد ان کی سیاست کا رخ بدلا لیکن یہ اس وقت میرا موضوع نہیں۔ اس کا تجزیہ کسی دوسرے کالم میں۔ میں خود کو ان کی موجودہ سیاست سے متفق نہیں پاتا اور اس کا اظہار بھی کرتا ہوں۔

آج تحریک انصاف نے اپنے لیے سب راستے بند کر دیے ہیں۔ سسٹم نے اس کے لیے جو راستے کھولے تھے، اس نے ان پر چلنے سے انکارکیا۔ ایک راستہ تھا کے پی کی حکومت۔ اس نے اسے اپنے ہاتھوں سے بند کر دیا۔ اب صرف پارلیمنٹ کا راستہ کھلا ہے۔ میں بارہا توجہ دلاتا رہا کہ تحریک انصاف کو سیاسی جماعتوں کے ساتھ معاملہ کرنا چاہیے۔ ان کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلق قائم کرنا چاہیے۔ وہی ان کے فطری حریف ہیں۔ اسی طرح ریاست کے ساتھ تصادم کے بجائے،اسے اپنے لیے امکانات تلاش کرنے چاہئیں تھے۔ لیکن چونکہ انہوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ عقل وحکمت کی ہر بات کے لیے دل ودماغ کے دروازے بند رکھنے ہیں اور اپنی باگ ان وی لاگرز کے ہاتھ میں تھما دینی ہے جو انہیں جھوٹی خبریں دیتے اور سبز باغ دکھاتے ہیں۔ اس لیے وہ آج اس حال کو پہنچے۔

تحریک انصاف کو آج بھی عوام میں مقبولیت حاصل ہے۔ یہ تعداد معمولی نہیں۔ اس کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ یہ عوامی حمایت اس کے لیے سیاسی طور پر کیسے مفید ہو سکتی ہے؟ یہ سیاسی سوال ہے اور سیاست کو انہوں نے گالی بنا کر اسے نواز شریف صاحب سے منسوب کر دیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہیجان سے تبدیلی آتی ہے۔ اقتدار ہو تو بھی ہیجان، نہ ہو تو بھی ہیجان۔ جب تک ان کا یہ اندازِ نظر باقی ہے، ان کے لیے راستے کھل سکتے ہیں نہ جیل کے دروازے۔

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)