قانون نہیں چھاپے سے ڈر لگتا ہے

کل میں نے قاسم بیلہ ملتان میں ایک عجیب منظر دیکھا، اچانک جیسے آندھی نہیں چلتی،اُسی طرح یہ خبر پھیلی کہ پیرا فورس والے آ رہے ہیں۔ یہ ملتان کا وہ نواحی علاقہ ہے جہاں سے گیلانی خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد الیکشن لڑتا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی بھی اس علاقے سے امیدوار بنتے رہے ہیں۔

گنجان آبادی کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی اس طرف نظر کم ہی جاتی ہے اس لئے یہاں تجاوزات اور ریڑھی بانوں نے واحد بازار کی سڑک پر تقریباً قبضہ جمایا ہوتا ہے،اتنا زیادہ قبضہ کہ دن کے وقت گاڑی لے جانا دشوار ہو جاتا ہے۔ میں اُس وقت سبزی پھل لینے کے لئے وہیں موجود تھا، ابھی دو دن پہلے میں اسی بازار میں گاڑی پر جانے کی غلطی کر بیٹھا تو ہر دکاندار نے یہی کہا گاڑی آگے لے جائیں حالانکہ اُن کی دکانوں کے آگے ریڑھیاں اور گدھا ریڑیاں بھی کھڑی ہوئی تھیں۔ میری تُو تکار بھی ہوئی اور سب نے یہی کہا بابو جی گاڑی آگے لے جائیں، یہ کسی کی نہیں سنتے، آج میں موٹر سائیکل پر گیا تھا۔ میں نے دیکھا جونہی یہ خبر پھیلی کہ پیرا فورس آ رہی ہے، ایک طوفان سا مچ گیا۔ ریڑھی والے ایسے بھاگے جا رہے تھے جیسے سیلاب آ رہا ہو۔دکاندار اپنی دکانوں کے آگے سے سامان ایسے اندر پھینک رہے تھے جیسے باہر آگ لگ گئی ہو۔ یوں کہنا چاہئے کہ قیامت صغریٰ کا سماں تھا۔

میں یہ منظر دیکھ کر گہری سوچ میں پڑ گیا۔ مجھے یوں لگا جیسے اس معاشرے کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہو۔ استاد گرامی پروفیسر اعجاز رسول چشتی کہا کرتے ہیں کہ یہ ڈنڈے کا یار معاشرہ ہے۔ شرافت کی زبان نہیں سمجھتا،ذرا سی ریاستی طاقت اس کے کس بال نکال دیتی ہے۔میں سوچنے لگا ابھی دو دن پہلے یہاں کے دکاندار مجھے گاڑی نہیں کھڑی کرنے دے رہے تھے، حالانکہ اُس نے سڑک پر کھڑی ہونا تھا۔ وہ اپنے سامنے کھڑے ہوئے ریڑھی والوں کو نہیں ہٹاتے، کیونکہ اُن سے کرایہ لیتے  تھے، میں لڑتا تو وہ شاید مجھے مل کر پھینٹی بھی لگا دیتے مگر اب وہ ایسے بھاگے جا رہے تھے جیسے چور ہوں، قانون شکن ہوں، گویا یہ بات ثابت ہو گئی وہ غلط تھے۔ ناجائز قبضے کئے ہوئے تھے، عملاً اُن کا ضمیر انہیں ملامت نہیں کرتا تھا وہ اپنی حدود میں نہیں رہنا چاہتے تھے لیکن جب انہیں قانون کا ڈنڈا نظر آیا تو بھاگ پڑے جیسے پولیس کے ہتھے چڑھنے سے چور ڈاکو بھاگتے ہیں۔ایک بار میں اسی بازار میں ایک ایسے جنرل سٹور پر گیا جس کی ہر چیز اپنی حدود میں تھی اور باہر سے دکان بہت کم نظر آتی تھی۔ میں نے اُس کے بزرگ مالک سے پوچھا،انہوں نے باہر سامان کیوں نہیں رکھا ہوا،لٹکایا کیوں نہیں ہوا تو انہوں نے بہت شاندار بات کی۔ کہنے لگے میں کوئی مجرم ہوں کہ بلدیہ والے آئیں تو سامان اندر رکھتا پھروں۔ میں جانور تو نہیں، مجھے معلوم ہے ایک چیز غلط ہے، پھر بھی یہ سوچ کر کرتا رہوں کہ کس نے روکنا،کس نے پکڑنا ہے۔ میں قانون کو مانتا ہوں، قانون کے ڈنڈے کو دیکھ کے نہیں مانتا یہ تو گدھے،گھوڑے کرتے ہیں کہ لاٹھی سوٹی سے ڈرتے ہیں۔

صاحبو! یہ ماجرا صرف بازاروں سڑکوں تک محدود نہیں۔ اس رویے نے پوری سوسائٹی کو گھیر رکھا ہے، ٹریفک وارڈن کو دیکھ کر بھیگی بلی بن جانے والا موٹر سائیکل یا گاڑی سوار آپ کی تنقید پر ایسا گلے پڑے گا جیسے آپ نے اُس کی دُم پر پاؤں رکھ دیا ہو، مجال ہے وہ اپنی غلطی تسلیم کرے، ٹریفک کا شعور پیدا کرنے کی آپ جتنی بھی کوشش کر لیں جب تک یہ منفی رویہ نہیں بدلے گا کچھ بھی تبدیل نہیں ہو گا،ڈنڈے کے یاروں دلداروں کو اور کوئی زبان سمجھ ہی نہیں آتی۔اب ہر چوک پر تو ڈنڈے والا نہیں کھڑا کیا جا سکتا۔بیرون ملک رہنے اور جانے والے دوست بتاتے ہیں کہ رات کے سناٹے میں بھی جب دور دور تک بندہ نہیں ہوتا، سرخ لائٹ پر گاڑی رُک جاتی ہے۔ قانون کا خوف سنتری بادشاہ کی وجہ سے نہیں، انسان ہونے کے ناتے کہا جاتا ہے کہ معاشرے ایسے ہی مہذب اور باوقار بنتے ہیں۔وہاں انسانوں کی تربیت ایسی ہو گئی کہ جانوروں کے ریوڑ بھی تربیت اور قطار میں چلتے ہیں،زیبرا کراسنگ سے سڑک پار کرتے ہیں اور انہیں کسی قسم کا ڈنڈا دکھانا نہیں پڑتا۔یہ عادت اور سعادت عالیہ ہم پاکستانیوں کو حاصل ہے کہ جونہی دیکھیں گے وارڈن موجود نہیں سرخ سگنل کو بھی بلا خوف و خطر پار کر جائیں گے۔ وہ تو بھلا ہو سیف سٹی والوں کا جہاں وہ پہنچ گئے ہیں وہاں یہ سیف سٹی کا کیمرہ ان قانون شکنوں کے لئے ڈنڈا بن گیا ہے اور ای چالان آنے کا ڈر انہیں رکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

 میں نے کچھ دن پہلے موٹروے سے سفر کیا۔ بھیرہ قیام و طعام پر رُک کر میں نے یہ کھوج لگانے کی کوشش کی کہ گزشتہ دِنوں  ٹاسک فورس کی سربراہ سلمیٰ بٹ نے جو ناجائز منافع خوری پر جرمانے کئے تھے اُن کا کوئی اثر موجود ہے یا نہیں، تو دیکھا کوئی اثر موجود نہیں تھا۔ اسی طرح بیس روپے کا مال سو روپے میں بیچا جا رہا تھا، پانی کی چھوٹی بوتل سو روپے کی تھی، اب میں نے سوچا کچھ تو مجھے بھی کرنا چاہئے،میں نے جیب سے موبائل نکالا۔کیمرہ کھول کے کاؤنٹر کے پیچھے کھڑے ہوئے نوجوان سے پوچھا یہ بوتل کتنے کی ہے۔ وہ ہنسنے لگا، اُس نے کہا کیمرہ بند کریں گے تو دو گنا سے بھی زائد قیمت پر ملے گی۔ کیمرہ سامنے رکھیں گے تو اصل قیمت پر دے دوں گا۔ میں نے کہا ایسا کیوں کرتے ہو، کہنے لگا میں تو ملازم ہوں، جیسا مالک کہتا ہے ویسے ہی کرتا ہوں۔ اب مالک نے یہ کہہ رکھا ہے کوئی کیمرے سے تمہاری ویڈیو بنانے لگے تو اسے زائد قیمت نہ بتانا۔باقی جتنے بھی سادہ لوح مسافر آئیں انہیں مہنگی بیچتے رہنا۔

 مجھے اُس کی صاف گوئی بہت اچھی لگی تاہم یہ بات واضح  ہو گئی کہ چور بازاری سے باز نہیں آنا چاہے آپ جتنے بھی وقتی طور پر چھاپے مارتے رہے۔ قانونی شکنی اب ذہنیت کے بگاڑ کا مسئلہ ہے۔ہم نے سوچ لیا ہے کہ جب قانون ہماری شہ رگ کے قریب نہیں آتا،ہم نے اُسے نہیں ماننا۔ کئی بار یہ تاریخی جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ہمیں مہذب شہری ہو نے کا ثبوت دینا چاہئے،یعنی ہم سے ایسا ثبوت مانگا جا رہا ہے جو ہمارے پاس ہے ہی نہیں۔یہ جانوروں کی نفسیات ہے کہ سامنے کھڑے ڈنڈا بردار سے ڈر جاتے ہیں مگر ہم نے بطور معاشرہ یہ اپنا لی، اس کا علاج تو حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں ہو گا۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)