خضدار میں مسلح افراد نے ماربل فیکٹری کے 17 مزدوروں کو اغوا کر لیا
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے نال سے مسلح افراد نے ماربل فیکٹری پر دھاوا بول کر 17 مزدورں کو اغوا کر لیا۔ جان بچانے کے لیے بھاگنے والا ایک مزدور مسلح افراد کی فائرنگ سے زخمی ہو گیا۔
پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اُردو کو بتایا کہ ہفتے کی شام چھ بجے ڈویژنل ہیڈ کواٹر خضدار سے 40 کلومیڑ دور نال کے پہاڑی علاقے میں واقع نیشنل پارٹی کے سابق صوبائی وزیر سردار اسلم بزنجو اور ان کے بیٹے شاہ میر بزنجو کی ماربل فیکٹری پر درجنوں مسلح افراد نے دھاوا بولا۔ پولیس اہلکار کے مطابق مسلح افراد اس کارروائی کے دوران فیکٹری میں کام کرنے والے 17 مزدوروں کو گاڑیوں میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران وہاں سے ایک مزدور نے بھاگنے کوشش کی جس پر مسلح افراد نے فائرنگ کر کے اس مزدور کو زخمی کر دیا۔ پولیس کے مطابق مبینہ طور پر اغوا کیے گئے تمام مزدور مقامی ہیں اور ان کا تعلق خضدار کے مختلف علاقوں سے ہے۔
پولیس اہلکار نے مزید بتایا کہ اغوا کیے گئے افراد کی تلاش کے لیے سیکورٹی فورسز کی ٹیمیں روانہ ہو گئی ہیں تاہم طویل اور دشوار پہاڑی سلسلے کے باعث ان ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ خضدار وڈھ نال اور اس کے پاس کے علاقوں میں بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں سرگرم ہیں۔ ماضی میں مزدوروں کے اغوا اور سرکاری املاک پر حملوں اور ملازمین کی قتل کی ذمہ داری کالعدم تنظیموں نے قبول کی۔
دوسری جانب پاکستان فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ہفتے کو بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے آپریشنز میں ’انڈیا کے حمایت یافتہ‘ آٹھ شدت پسندوں کو مار دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے بیان میں کہا کہ کوئٹہ، نوشکی اور خضدار میں کارروائیوں کے دوران ’انڈین سرپرستی میں سرگرم آٹھ دہشت گردوں کی موت اہم کامیابی‘ ہے۔