عوام کو سب چھوڑ گئے

حکومت تو شاید یہی سمجھتی ہے کہ عوام پٹرول کی قیمت والے معاملے کو بھول گئے ہیں۔ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ ڈیزل اور پٹرول چار سو روپے سے اوپر بِک رہے ہیں۔ اس لئے یہ سکہ تو چل گیا، لیوی بھی کم نہیں ہوئی، اسے بھی جماعت اسلامی والے اور عوام بھول گئے۔

 اب کاہے کا ڈر، کاہے کا غم مگر نہیں صاحب حکومت اگر واقعی ایسا سوچ رہی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی غلطی اور بہت بڑا ظلم ہے۔ عوام کی کمر اب محاورتاً نہیں واقعتا ًٹوٹ چکی ہے۔ میں کل اپنے قریب ہی واقع پٹرول پمپ پر گیا تو بالکل خالی پڑا تھا۔ میں سمجھا بند ہے۔ میں نے دور سے پٹرول ڈالنے والے کو اشارہ کیا، اس نے کہا آجائیں۔ میں نے پوچھا کیا بات ہے رش نہیں، کہنے لگا روزانہ ہی ایسا ہوتا ہے۔ اس علاقے میں زیادہ تر غریب اور مزدور رہتے ہیں، موٹرسائیکل میں پٹرول ڈلواتے ہیں۔ اب بہت کم آتے ہیں ۔میں سوچنے لگا کیا وہ سب گھر بیٹھ گئے یا انہوں نے آمد و رفت کے لئے دیگر ذرائع ڈھونڈ لئے، شاید وہ اب بہت ضروری کام سے ہی نکلتے ہوں گے۔

 کل ایک دوست بتا رہے تھے پانچ ہزار روپے کا تقریباً 12لٹر پٹرول ڈلوا کر وہ بمشکل اپنے دفتر، بچوں کے سکول اور ضروری کام نمٹا کے گھر آتے ہیں۔ سوئی لال نشان پر پہنچی ہوئی ہے۔ اب میں لاکھ سوا لاکھ کا پٹرول ماہانہ کیسے ڈلوا سکتا ہوں۔ میں نے کہا بھائی پنجاب حکومت نے گرین الیکٹرک بسیں چلا دی ہیں، ان پر سفر کرو، کہنے لگے کیا مذاق کرتے ہیں۔اس کا سٹاپ گھر سے ڈیڑھ کلومیٹر پر ہے پھر وہ ایک گھنٹے میں مجھے دفتر پہنچائے گی۔وہ بھی ایک کلومیٹر دور اتار کر، بچوں کو کیسے اس پر بھیجوں، سکول کی طرف تو وہ جاتی ہی نہیں۔ ہم تو بیٹھے بٹھائے غریب ہو گئے ہیں۔ایک چھوٹی سی گاڑی لی تھی کہ ضروری کاموں میں مدد دے گی، اب تو وہ سفید ہاتھی لگنے لگی ہے ۔اب یہ باتیں ان لوگوں کی سمجھ میں تو نہیں آ سکتیں جو پالیسیاں بنا رہے ہیں۔ ان کی تو گاڑیاں بھی بڑی ہیں۔ تعداد بھی ایک سے زیادہ ہے، ڈرائیور اور پٹرول بھی فری ہے۔ پٹرول کتنا ہی مہنگا ہو جائے، ان کی گاڑیوں کی ٹینکی تو فل رہتی ہے۔

یہ اشرافیہ بھی کیا غضب کی شے ہے۔ ایک دور تھا پٹرول الاؤنس روپوں کی شکل میں دیا جاتا تھا ۔اسے چپ چاپ لٹروں میں تبدیل کرا لیا۔ کسی کو فی گاڑی دو سو لٹر، کسی کو چار سو اور کسی کو بے حساب ماہانہ فری پٹرول۔جو کام دنیا کے امیر ملکوں میں بھی نہیں ہوتا، وہ ہمارے ہاں بے دریغ اور بے خوف و خطر جاری ہے۔ اس پر آئی ایم ایف کو اعتراض ہے اور نہ پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہوئی ہے۔ جب اشرافیہ کا جہان ہی اور ہے تو اسے عوام کی مشکلات سے کیا غرض۔ پٹرول ہزار روپے فی لٹر بھی ہو جائے گا تو اس کے لٹر کم نہیں ہوں گے۔ یہ سب خرچ عوام کی جیب سے پورے ہوں گے۔

اس وقت سیاسی اور قومی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو آپ کو کہیں سے نہیں لگے گا کہ کسی کو   اس ملک کے مہنگائی میں پسے ہوئے عوام کی بھی   فکر ہے۔ حال مست اور مال مست والی کیفیت ہے۔ سیاسی ڈرامے اس قدر تیز رفتار ہیں کہ باقی معاملات گرد راہ بن کر پیچھے رہ جاتے ہیں۔ کسی سیاسی جماعت کو عوام کے بارے میں سوچنے کی فرصت نہیں۔ اب تو لگتا ہے جماعت اسلامی بھی تھک ہار کر بیٹھ گئی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا بس ہلکا سا بیان آ جاتا ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف اگر لیوی پر بات کرنے کے لئے تیار نہیں تو مجھے  بھی ان سے ملنے کا کوئی شوق نہیں۔ تحریک انصاف اپوزیشن میں ہے لیکن اُسے اپنی پڑی ہے۔ متحدہ اپوزیشن بھی کہانی یہی ہے۔ رہ گئیں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) تو وہ اس نظام کی علمبردار ہیں، بینفیشری ہیں،وہ یہ سب کچھ کرنے والی ہیں۔ اس لئے اس میں سے عوام کو ریلیف کیسے دے سکتی ہیں۔

رہ گئے اکیلے عوام، وہ تین میں نہ تیرہ میں، باہر نکلیں تو ڈنڈے کھائیں گھر بیٹھیں تو بچوں کی بھوک سے خود کو جلائیں۔ یہ پہلا دور دیکھا ہے، جس میں حکومت کو اس بات کی سرے سے فکر ہی نہیں کہ عوام مہنگائی سے بلک رہے ہیں کسی احتجاج کا ڈر اور نہ مظاہروں کا خطرہ۔ سنجیاں ہو جان گلیاں وچ مرزا یار پھرے والی صورت حال ہے۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا حکومت پانچ روپے لٹر اضافہ کرتے ہوئے ڈرتی تھی، آلو، پیاز، ٹماٹر مہنگے ہو جاتے تو حکمران وضاحتیں اور تسلیاں دیتے نظر آتے تھے۔ کسی کو غیر مقبول ہونے کا ڈر ہوتا تھا او رکسی کو یہ ڈر کہ ووٹ نہیں ملیں گے۔ پارلیمنٹ میں تحاریک التوا پیش ہوتی تھیں اور حکمرانوں کے خلاف آٹا چور، ٹماٹر چور کے نعرے لگتے تھے۔ اب ایسا لگتا ہے کسی نے اس سارے منظرنامے کا سوئچ آف کر دیا ہے ۔اب گورنر راج، ایمرجنسی، غداری اور دہشت گردی پر بات ہوتی ہے۔

سیاست اور حکومت اس بے حسی کا نام تو نہیں کہ عوام کے مسائل سے نظریں چرا کر اور انہیں حالات کی بھول بھلیوں میں ڈال کے اپنی دنیا میں مگن رہا جائے۔ غربت تو زمین پر رہنے سے پتہ چلتی ہے۔ یہ عرش کے مکین کیا جانیں، کروڑوں پاکستانی کیسے گزارا کر رہے ہیں۔ کبھی کبھار یہ شاہانہ بیان آ جاتا ہے کہ پاکستان میں کوئی غربت سے نہیں مرا۔ اب لوگ سینے پر غربت کا ٹیگ سجا کر تو مرنے سے رہے۔ ذرا ایک نظر سرکاری ہسپتالوں پر ہی ڈال لی جائے تو اندازہ ہو جائے گا کہ کم خوراک، بُرے معاشی حالات اور ناکافی سہولتوں نے عوام کو لاغر، بیمار اور کمزور کر دیا ہے۔ پھر انہیں دوائی بھی نہیں ملتی اور مہنگی دوائی خریدنے کی ان میں سکت نہیں ہوتی۔ میرا تجزیہ ہے کہ چالیس فیصد عوام تو موسمی پھل بھی نہیں کھا پاتے، کیونکہ چھ سو روپے انگور، پانچ سو روپے سیب، چار سو روپے امرود فی کلو کیسے خریدیں۔ گندم کی امدادی قیمت 4500 کرنے والوں کو اس بات کا اندازہ بھی ہے کہ آج ایک روٹی کتنے  میں مل رہی ہے اور وہ بھی غریب کی دسترس میں نہیں رہی، گندم ملی تو ایک روٹی کتنے کی ہوجائے گی۔ گندم مہنگی کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ کسان کی معاشی حالت کا تقاضا ہے مگر حکومت وہ سکیمیں بھی تو واپس لائے جو فلور ملوں کو سستی گندم فراہم کرنے،سستی روٹی مہیا کرنے کا ذریعہ تھیں۔ تاہم اس سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کو کمائی کا ذریعہ بنانے کی بجائے ان کی قیمت کو نیچے لایا جائے۔

لیوی کو ختم یا اتنا کم ضرور کریں کہ عوام کو کچھ ریلیف ملے۔ ضروری نہیں کہ عوام کے لئے اگر کوئی آواز اٹھانے والا نہیں تو انہیں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، یہ ظلم ہے اور اسے بند ہونا چاہیے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)