یمن سعودی جنگ میں ’حق‘ پر کون ہے؟

یمن کے حوثیوں یا ان کی تنظیم انصاراللہ کی طرف سے سعودی عرب کے خلاف علی الاعلان جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورت حال مسلسل تناؤ کی طرف بڑھ رہی ہے۔   میدان جنگ کی غیر واضح صورت حال کی وجہ سے اس بارے میں کوئی حتمی اندازہ کرنا ممکن نہیں ہے لیکن  سعودی عرب  پر  میزائل اور ڈرون حملوں  کے ذریعے حوثیوں نے اپنی عسکری صلاحیت تسلیم کرائی ہے۔

سعودی عرب کو امریکہ سمیت تقریباً دنیا بھر کے ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ پاکستان اور ترکیہ تو مکہ معاہدہ کے تحت سعودی عرب کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں اور اس بارے میں  اسلام آباد اور انقرہ سے  یہ اعلانات سامنے آتے رہے ہیں کہ  سعودی عرب کے  خلاف جنگی کارروائی کا مقابلہ کیا جائے گا اور سعودی دفاع کے لیے مدد فراہم کی جائے گی۔ تاہم کسی طرف سے بھی ابھی تک واضح امداد  دینے، فوج بھیجنے اور جنگ میں باقاعدہ حصہ دار بننے کی اطلاع نہیں ہے۔ ترکی  پارلیمنٹ میں مکہ معاہدہ اور اس کے تحت مشترکہ دفاع کا معاملہ زیر غور ہے اور اسی طرح مصر  کے صدر عبدالفتاح السیسی نے  پارلیمنٹ سے سعودی عرب کی مدد کے لیے فوج بھیجنے کی قراداد  پیش کی ہے جس پر ووٹنگ سوموار تک کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔ پاکستانی لیڈروں نے متعدد بار سعودی عرب کی عسکری مدد کا وعدہ کیا ہے لیکن اس بارے میں ہونے والے عملی اقدامات کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ آئی ایس پی آر کے سربراہ واضح کرچکے ہیں کہ پاکستانی  فوج طویل مدت سے سعودی سرزمین پر  تعینات ہے لیکن کسی عسکری تعاون کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی جاسکتیں۔

دوسری طرف گزشتہ دنوں میں سعودی فضا  حوثی میزائل حملوں  کے سامنے  غیرمحفوظ دیکھی گئی ہے۔  اسی ماہ کے دوران ریاض  ائرپورٹ کے علاوہ دیگر ٹھکانوں پر میزائل گرنے سے  19 افراد ہلاک اور  ساڑھے تین سو زخمی ہوچکے  ہیں۔  آج ہی سعودی عرب کے جنوب مغربی شہر نجران میں ایک پروجیکٹائل گرنے کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ سعودی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق واقعے میں تین رہائشی مکانات اور تین گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس دوران حوثیوں کے عسکری ترجمان نے تیل  کی تنصیبات کے قریب شہریوں کو محفوظ مقامات کی طرف جانے کی  ہدایت کرنے کے علاوہ دعویٰ کیا ہے کہ حرمین الشریفین کے علاوہ تمام سعودی علاقے اس  کے میزائیلوں کی زد پر ہیں۔

سعودی عرب میں  میزائل گرنے اور  ہلاکتوں کی وجہ سے   ملک کے  ائر ڈیفنس سسٹم کی فعالیت پر سوالات ضرور اٹھائے گئے  ہیں کیوں کہ سعودی عرب نے امریکی ٹیکنالوجی کی خریداری پر کھربوں ڈالر صرف کیے  ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہے کوئی بھی دفاعی نظام سو فیصد حفاظت کا ضامن نہیں ہوسکتا۔ سعودی عسکری قیادت حوثیوں کے متعدد حملے  ناکام بنانے کا اعلان بھی کرتی رہی ہے۔ اس دوران یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ حوثی   کم قیمت میزائل استعمال کرتے ہیں جبکہ سعودی ڈیفنس کے پاس  ڈیٹرنٹ مہنگی امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے۔  اس لیے  اگر حوثیوں کے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے تو انہیں روکنے کے لیے سعودی عرب کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔   اس دوران سعودی دفاعی اتحاد نے یمن میں حوثیوں پر  حملے جاری رکھے ہوئے  ہیں۔ تاہم اس بارے میں زیادہ تفصیلات  منظر عام پر نہیں ہیں۔ اکا دکا بیانات میں اس طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

یمن میں سرکاری فوجیں حوثیوں کی پیش قدمی روکنے اور اہم شہروں  پر دوبارہ قابض ہونے کے لیے جنگی کارروائی کررہی ہیں۔  اس وقت  تعز  پر قبضہ کے لیے سخت لڑائی ہورہی ہے۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی صوبہ تعز کے سنامہ اور صراری محاذوں پر  پیش رفت  ہوئی ہے۔سرکاری فوج کے ایک  بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کی صبح شروع کیے گئے فوجی آپریشن کے دوران حوثی جنگجوؤں کی پوزیشنوں کو ’بھاری نقصان‘ پہنچایا گیا۔ فوج کے مطابق تعز کے شمال مغربی علاقوں میں حوثی جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے تین فضائی حملے بھی کیے گئے، جبکہ صوبے کے مختلف محاذوں پر لڑائی تاحال جاری ہے۔  دوسری طرف حوثیوں کے ’دارالحکومت‘ صنعا پر سعودی حملے جاری ہیں ۔ ان میں صنعا کے ہوئی اڈے کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ البتہ میدان جنگ سے براہ راست معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس لیے جب تک کوئی ایک فریق اہم شہروں پر قبضہ کرکے ساحلی علاقوں   پر کنٹرول حاصل نہیں کرتا، اس جنگ کا کوئی نتیجہ  واضح نہیں ہوگا۔

اس جنگ میں سعودی عرب کو اگرچہ پاکستان و ترکیہ سمیت متعدد ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے لیکن کوئی بھی ملک براہ راست اس جنگ میں مداخلت کا فیصلہ نہیں کرپایا۔ اس کی ایک وجہ یہ حقیقت ہے کہ اصل جنگ یمن کے اندر ہورہی ہے جہاں یمن کی سرکاری فوج حوثیوں کے حملوں  کا سامنا کررہی  ہے۔ اس فوج کی عملی صلاحیت کو چیلنج درپیش  ہے۔ اگر وہ سعودی عرب کی غیر مشروط فضائی مدد  کے باوجود تھوڑی مدت میں حوثیوں کو پسپا ہونے پر مجبور نہیں کرتی تو اس کی طاقت کے بارے میں شبہات پیدا ہوں گے۔ مکہ معاہدہ کے  حلیف ممالک سعودی عرب کی حفاظت کے لیے تو مدد فراہم کریں گے لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ پاکستان یا ترکیہ  بری فوج کو یمن میں حوثیوں سے لڑنے کے لیے بھیجیں گے۔ تاہم ریاض کی حکومت شام اور مصر سے ایسے فوجی دستے لینے کی کوشش کررہی ہے جو یمنی فوج کی مدد کے لیے جاسکیں ۔ تاہم زمینی جنگ میں ملوث ہونے کی صورت میں کسی بھی فوج کو شدید بے یقینی اور خطرناک صورت حال کا سامنا ہوگا ۔ اس لیے کسی بھی ملک کے لیے اپنی فوج یمن بھیجنا آسان نہیں ہوگا۔ سعودی عرب بھی اپنے فوجی دستے  یمن میں بھیج براہ راست زمینی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

اس دوران اس جنگ میں ایران کے کردار پر سوالات سامنے آتے رہے ہیں ۔ سعودی عرب براہ راست بھی تہران پر یہ الزام لگا چکا ہے جبکہ اب امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے  دعویٰ کیا ہے کہ ایران حوثیوں کو صرف ہتھیار فراہم نہیں کر رہا بلکہ انہیں سعودی عرب پر حملوں کی منصوبہ بندی اور اہداف کے تعین میں بھی مدد دے رہا ہے۔  ایران حوثیوں کو بتاتا ہے کہ میزائل اور ڈرون حملوں کے لیے کون سے اہداف زیادہ مؤثر ہوں گے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار اور لبنانی حزب اللہ کے کارکن حوثیوں کو تربیت، تکنیکی معاونت اور جنگی حکمت عملی فراہم کرتے رہے ہیں۔  یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بعض ایرانی اہلکار یمن میں حوثیوں کی براہ راست مدد کرنے پر مامور ہیں۔ تاہم  ایسی خبروں کی سچائی کے بارے میں حتمی طور سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ ایک تو ایران خود حالت جنگ میں ہے اور اسے امریکی جارحیت کا سامنا ہے۔ امریکی و اسرائیلی بمباری میں اس کی  بیشتر عسکری صلاحیت  تباہ ہوئی ہے۔ دوسرے ایرانی قیادت مسلسل حوثیوں سے لاتعلقی کاا علان کرتی رہی  ہے اور  ثالثی کی  پیش کش بھی کی گئی ہے۔ تاہم عدم اعتماد کی موجودہ فضا میں ایران کسی قسم  کی ثالثی میں کامیاب نہیں ہؤا۔

البتہ سیاسی طور سے ایران حوثیوں کا سرپرست رہا ہے اور اس گروہ کو حزب اللہ کی طرح  ایران کی پراکسی قرار دیاجاتا رہا ہے۔  یہ بھی واضح ہے کہ حوثیوں کی جنگ محض داخلی اختلافات تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ بھی ایران  کی طرح عسکری بالادستی کے ذریعے مشرق وسطیٰ پر  کنٹرول اور اسرائیل کے گرد حصار سخت کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ایران کی طرح حوثی  قیادت بھی ناقابل اعتبار ہے اور سعودی  عرب پر حملوں سے وہ تیل کی مارکیٹ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ ہدف بھی ایرانی حکمت عملی  ہی کا حصہ ہے۔ سعودی عرب   طویل عرصہ سے یمن میں قابل اعتبار حکومت کے قیام کے لیے حوثیوں کے خلاف سرگرم رہا ہے لیکن وہ ابھی  تک اس مقصد میں کامیاب نہیں ہؤا۔  سعودی عرب کو دنیا بھر میں ایک اعتدال پسند اور ذمہ دار حکومت کی شہرت حاصل ہے جبکہ حوثیوں نے  ہمیشہ علاقے میں ایرانی بالادستی  کے لیے آلہ کار بننے کی کوشش کی اور عالمی سطح پر ان کی سفارتی شنوائی موجود نہیں ہے۔

یہ جنگ بلاشبہ علاقوں پر قبضے اور خاص گروہ کی حکومت قائم کرنے کے بارے میں ہے۔ اس میں حق  وباطل تلاش کرنا درست رویہ نہیں ہے۔  لیکن جب کسی ملک کے عسکری گروہ یا ایران کی طرح کوئی حکومت اپنی  جغرافیائی حدود سے بڑھ کر اثر و رسوخ بنانے اور ایک  ملک کو تباہ کرنے کے منشور پر عمل کرے تو اسے  عام طور سے عالمی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حوثی  بظاہر امریکی حملوں کے خلاف ایران کو سہولت دلوانے، باب المندب پر قبضہ کے ذریعے  عالمی معیشت پر اثر انداز ہونے اور  سعودی عرب کی معیشت پر وار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ عسکری اہداف صرف  یمن میں حکومت قائم کرنے سے زیادہ  وسیع ہیں جو کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں۔