ثالثی کے لیے روسی وزیر خارجہ متحرک، تہران پہنچ رہے ہیں
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف آج ایران کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔ یہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ان کا ایران کا پہلا دورہ ہو گا۔ ایرانی ٹیلی وژن نے اعلان کیا ہے کہ روسی وزیر خارجہ اس دورے کے دوران مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کریں گے۔
اطلاعات کے مطابق روس ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ثالث کے طور پر زیادہ نمایاں کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سرگئی لاوروف جن کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات طے ہے، نے کہا کہ ماسکو کی کوششوں کا مقصد ’ایک بڑے پیمانے کی جنگ کے دوبارہ آغاز کو روکنا‘ ہے۔
ایران کے دورے سے قبل سرگئی لاوروف بحرین گئے تھے۔ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ’روس-جی سی سی سٹریٹجک ڈائیلاگ‘ کے نویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خلیجی ممالک اور ان کے ہمسایہ ممالک، بشمول عراق اور اردن، کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا مطالبہ کیا۔
سرگئی لاوروف کا ایران کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے حالیہ دوطرفہ ملاقات میں مسعود پزشکیان سے کہا تھا کہ ماسکو ثالثی کی کوششوں میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں تنظیمِ تعاونِ اسلامی (او آئی سی) کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی ممکنہ شمولیت بھی ہو سکتی ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ سرگئی لاوروف کے دورۂ ایران کے دوران ہونے والی بات چیت میں ’ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی غیر قانونی جارحیت سے پیدا ہونے والے شدید بین الاقوامی بحران کے حل کے طریقوں‘ پر توجہ مرکوز کیے جانے کی توقع ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ نے دوبارہ لڑائی بھڑک اٹھنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ اس جنگ نے ’نہ صرف قریب اور مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر‘ استحکام اور سلامتی کو نقصان پہنچایا ہے۔