کھسیانی بلی کھمبا نوچے!
- تحریر فہیم اختر
- سوموار 19 / اکتوبر / 2026
کہتے ہیں، کھسیانی بلی کھمبا نوچے! جب انسان اپنی خواہش کو حقیقت میں بدلنے میں ناکام رہتا ہے تو کبھی وہ اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے کے بجائے دوسروں پر برسنے لگتا ہے۔ کبھی اپنی محرومی کو سازش کا نام دیتا ہے اور کبھی آئینہ دکھانے والوں ہی کو مجرم قرار دینے لگتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نوبل امن انعام سے محروم رہ جانے کے بعد سامنے آنے والے ردعمل کو دیکھ کر یہ محاورہ بے اختیار یاد آتا ہے۔ دنیا کی سب سے طاقتور کرسی پر بیٹھا ہوا شخص بھی جب ایک اعزاز حاصل نہیں کر پاتا تو اس کی بے چینی اس حقیقت کو نمایاں کر دیتی ہے کہ اقتدار کی بلندی انسان کو ہر خواہش کی تکمیل کی ضمانت نہیں دے سکتی۔نوبل امن انعام 2026 کا اعلان ہوا تو اعزاز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حصے میں نہیں، بلکہ جنوبی افریقہ کی ممتاز انسانی حقوق کی وکیل اور بین الاقوامی قانون کی علم بردار ناوی پِلے کے نام آیا۔ ٹرمپ نے اس فیصلے پر ناراضی ظاہر کی، ناروے اور نوبل کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس انتخاب کو نظریاتی تعصب سے جوڑنے کی کوشش کی۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امن کا انعام کسی سربراہِ مملکت کی خواہش، سیاسی اثرورسوخ یا عالمی طاقت کے بل پر حاصل کیا جا سکتا ہے؟ کیا امن کی تعریف بھی اب طاقت ور حکمرانوں کی پسند و ناپسند کی محتاج ہو جائے؟نوبل امن انعام کے لیے کسی شخص کی اپنی خدمات کے بارے میں رائے کافی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے اس کے کام، اصولوں، جدوجہد اور انسانیت کے لیے اس کی خدمات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی ناراضی اپنی جگہ، لیکن ناوی پِلے کی زندگی اور جدوجہد کی تاریخ اپنے اندر ایسی معنویت رکھتی ہے جسے محض سیاسی بیان بازی سے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ناوی پِلے 1941 میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں ایک تمل نژاد ہندوستانی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کی پرورش اس معاشرے میں ہوئی جہاں رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانوں کے حقوق تقسیم کیے جاتے تھے۔ اپارتھائیڈ کا نظام محض سماجی تفریق نہیں تھا۔ یہ ایک ایسا قانونی اور سیاسی ڈھانچہ تھا جس نے سیاہ فام آبادی اور دیگر نسلی گروہوں کو بنیادی حقوق، مساوی مواقع اور انسانی وقار سے محروم رکھا۔پِلے نے اسی ماحول میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور وکالت کو محض روزگار نہیں، بلکہ ناانصافی کے خلاف جدوجہد کا وسیلہ بنایا۔ 1967 میں وہ صوبہ ناتال میں وکالت کا دفتر قائم کرنے والی پہلی خاتون بنیں۔ نسلی امتیاز کے عہد میں ایک غیر سفید فام خاتون کے لیے یہ راستہ آسان نہیں تھا۔ ان کی اپنی زندگی اس حقیقت کی گواہ تھی کہ قانون کی کتابوں میں درج مساوات اور عملی زندگی میں موجود انصاف کے درمیان کتنا بڑا فاصلہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کا دفاع کیا اور نیلسن منڈیلا سمیت ان افراد کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی جو جبر کے نظام کو چیلنج کر رہے تھے۔ اپارتھائیڈ کے خاتمے کے بعد 1995 میں وہ جنوبی افریقہ کی ہائی کورٹ میں خدمات انجام دینے والی پہلی غیر سفید فام خاتون بنیں۔ یہ محض ایک فرد کی کامیابی نہیں تھی، بلکہ اس معاشرے کے لیے بھی ایک علامتی پیش رفت تھی جس نے طویل عرصے تک انسانوں کو ان کی رنگت اور نسل کی بنیاد پر تقسیم کیا تھا۔ناوی پِلے کی خدمات کا دائرہ جنوبی افریقہ تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل میں جج کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور بعد میں اس کی اپیلز چیمبر سمیت اہم عدالتی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ روانڈا میں 1994 کے قتلِ عام کے بعد ہونے والی عدالتی کارروائیوں میں ان کا کردار اہم رہا۔ اس دور کے مقدمات نے دنیا کو یہ سمجھانے میں مدد دی کہ جنسی تشدد بھی بعض حالات میں انسانیت کے خلاف جرم اور نسل کشی کے جرائم کا حصہ بن سکتا ہے، اور نفرت انگیز پروپیگنڈا بعض صورتوں میں نسل کشی پر اکسانے کے جرم کی بنیاد بن سکتا ہے۔2008سے 2014 تک وہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق رہیں۔ یہ ایک ایسی ذمہ داری تھی جس میں انہیں دنیا کے مختلف خطوں میں انسانی حقوق کی پامالی، ریاستی جبر، امتیازی سلوک اور جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحرانوں پر توجہ دینا تھی۔ اس کے بعد ان کا تعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت آئی سی سی اور دیگر عالمی عدالتی اداروں سے بھی رہا۔ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف آئی سی جے میں میانمار کے خلاف نسل کشی کے مقدمے میں بھی جج کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔
9 اکتوبر 2026 کو ناروے کی نوبل کمیٹی نے ناوی پِلے کوامن اور بین الاقوامی قانون کے فروغ کے لیے ان کی طویل جدوجہد کے اعتراف میں نوبل امن انعام دینے کا اعلان کیا۔ کمیٹی کے مطابق ان کی زندگی اس اصول کی نمائندگی کرتی ہے کہ جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانا عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ اعزاز کسی ایک رپورٹ، کسی ایک تنازعے یا کسی ایک سیاسی موقف کا انعام قرار دینا ان کی دہائیوں پر محیط جدوجہد کو محدود کر دینا ہوگا۔ البتہ غزہ کے بارے میں ان کی سربراہی میں تیار ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ نے اس اعزاز کو موجودہ عالمی سیاست اور انسانی ضمیر کے ایک نہایت اہم سوال سے ضرور جوڑ دیا ہے۔ناوی پلِے نے نوبل امن اعزاز حاصل کرنے کے بعد کھلے عام طور پر غزہ کو نسل کشی بتاتے ہوئے اسرائیل کو ملزم ٹھہرایا ہے۔ غزہ کی داستان محض سرحدوں، زمین اور سیاسی اقتدار کی کشمکش نہیں؛ یہ ان لاکھوں انسانوں کی داستان ہے جن کی زندگی جنگ کے شعلوں، تباہ شدہ گھروں، اجڑے خاندانوں، بھوک، بے گھری اور مسلسل خوف کی نذر ہوئی۔ وہاں بچوں کے خواب ملبے میں دبے، ماؤں کی آغوشیں اجڑیں، بیماروں اور زخمیوں نے علاج کے لیے جدوجہد کی اور لاکھوں انسانوں کے سامنے زندگی کی بنیادی ضروریات کا حصول ایک سنگین مسئلہ بن گیا۔7 اکتوبر 2023 کے بعد اسرائیل کی فوجی کارروائیوں نے غزہ میں تباہی کی ایسی صورت پیدا کی جس نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی قانونی اداروں کو شدید تشویش میں مبتلا کیا۔
اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائیوں کو حماس کے خلاف جنگ اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے تناظر میں پیش کیا، لیکن کسی بھی ریاست کا اپنے دفاع کا دعویٰ اسے بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندیوں سے آزاد نہیں کر دیتا۔ شہریوں کا تحفظ، غیر امتیازی حملوں سے اجتناب، انسانی امداد کی رسائی اور جنگی قیدیوں و دیگر متاثرین کے حقوق ایسے اصول ہیں جن کا اطلاق فریقین کے طرزِ عمل پر ہونا چاہیے۔یہیں ناوی پِلے کی سربراہی میں اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ غیر معمولی اہمیت اختیار کرتی ہے۔16 ستمبر 2025 کو جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی حکام اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ کمیشن نے قتل، شدید جسمانی اور ذہنی نقصان پہنچانے، ایسی زندگی کی صورتِ حال مسلط کرنے جو کسی گروہ کی مکمل یا جزوی جسمانی تباہی کا سبب بن سکتی ہو، اور پیدائش روکنے کے لیے اقدامات جیسے افعال کا جائزہ لیا۔ رپورٹ نے اسرائیلی حکام کے بعض بیانات اور فوجی کارروائیوں کے مجموعی نمونے کو بھی اپنی قانونی جانچ کا حصہ بنایا۔ کمیشن نے بعض اعلیٰ اسرائیلی عہدیداروں کے بیانات کو نسل کشی پر اکسانے کے تناظر میں بھی دیکھا۔
یہاں ایک اہم قانونی وضاحت ضروری ہے۔ یہ اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کا نتیجہ تھا، بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مقدمے میں حتمی عدالتی فیصلہ نہیں۔ اسرائیلی حکومت نے اس رپورٹ کو مسترد کیا اور اس کے نتائج کی مذمت کی۔ لیکن کسی رپورٹ کو محض اس لیے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے نتائج کسی طاقت ور ریاست کے لیے ناگوار ہیں۔ اس کی دلیل، شواہد، طریقہ تحقیق اور قانونی استدلال کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔نسل کشی ایک نہایت سنگین قانونی اصطلاح ہے۔ اس کے اطلاق کے لیے مخصوص قانونی عناصر، بالخصوص کسی قومی، نسلی، نسلی یا مذہبی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی مخصوص نیت، کا جائزہ ضروری ہوتا ہے۔ اسی لیے اس نوعیت کے الزامات کی جانچ شواہد اور قانون کی روشنی میں ہونی چاہیے۔ ناوی پِلے کی سربراہی میں کمیشن نے اسی قانونی معیار کے تحت اپنے نتائج پیش کیے۔مگر ان تمام قانونی بحثوں کے درمیان ایک انسانی حقیقت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا: فلسطینی شہریوں کی جان، ان کی عزت، ان کے گھر، ان کے بچے اور ان کا مستقبل بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں جتنی دنیا کے کسی دوسرے انسان کی زندگی۔ اگر عالمی ضمیر کو واقعی رنگ، مذہب، قومیت اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہونا ہے تو اسے فلسطینیوں کے دکھ کو بھی اسی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا جس سنجیدگی سے دنیا کے دوسرے مظلوم انسانوں کے دکھ کو دیکھا جاتا ہے۔انسانی حقوق کا اصل امتحان یہی ہے کہ ہم ان اصولوں کا دفاع صرف اپنے پسندیدہ لوگوں کے لیے کرتے ہیں یا ان کے لیے بھی جن کے حقوق کی بات کرنا سیاسی طور پر مشکل ہو۔
نوبل امن انعام کے اعلان کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل محض ایک انعام نہ ملنے کی مایوسی تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے ناروے اور نوبل کمیٹی پر تنقید کی اور ناوی پِلے کو ایک غیر معروف شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کے انتخاب کو نظریاتی تعصب سے جوڑا۔ لیکن اس معاملے کا زیادہ اہم پہلو وہ ہے جو محض بیانات سے آگے بڑھ کر عالمی اداروں اور بین الاقوامی قانون کے مستقبل سے تعلق رکھتا ہے۔10 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف نئی پابندیاں عائد کیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ اپنے شہریوں کے خلاف عدالت کے دائر? اختیار کو قبول نہیں کرتا۔ واشنگٹن پہلے ہی اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے پر عدالت کو تنقید کا نشانہ بنا چکا ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے، اگر عالمی ادارے کسی طاقت ور ملک کے شہریوں یا اس کے اتحادیوں کے خلاف قانونی کارروائی کریں تو کیا اس ملک کو ان اداروں کو مالی اور انتظامی دباؤ کے ذریعے کمزور کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے؟امریکہ کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو امریکی شہریوں پر اختیار حاصل نہیں۔ امریکہ روم معاہدے کا فریق بھی نہیں ہے اور اس نے عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اس کے باوجود عدالت کے اقدامات اور ان کے قانونی جواز پر بحث کا راستہ پابندیوں اور دھمکیوں سے مختلف ہونا چاہیے۔ عدالت کے اختیار، اس کے فیصلوں اور اس کے طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن اختلاف کا جواب کس حد تک قانونی اور سفارتی ذرائع سے دیا جاتا ہے۔
یہی کسی عالمی نظام کی ساکھ کا امتحان ہے۔بین الاقوامی فوجداری عدالت اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف دو الگ ادارے ہیں۔ پہلی عدالت افراد کے خلاف نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم جیسے الزامات پر فوجداری کارروائی کرتی ہے، جبکہ دوسری ریاستوں کے درمیان قانونی تنازعات سنتی ہے اور متعلقہ مشاورتی آرا بھی دیتی ہے۔ ان دونوں اداروں کے اختیارات اور طریقہ کار کو ایک سمجھنا درست نہیں ہوگا۔لیکن دونوں کے درمیان ایک بنیادی قدر مشترک ہے: یہ تصور کہ بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے ساتھ قانون کی بھی اہمیت ہے۔ اگر کوئی ریاست اپنے لیے الگ معیار اور دوسروں کے لیے الگ معیار چاہے تو عالمی انصاف کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے۔یہی وہ پس منظر ہے جس میں ناوی پِلے کو نوبل امن انعام دیا جانا معنی خیز دکھائی دیتا ہے۔ ان کی جدوجہد کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ کسی بھی انسان یا ریاست کو محض اپنی طاقت کی بنیاد پر قانون اور جواب دہی سے بالاتر نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے معاملے میں اصل سوال یہ نہیں کہ وہ نوبل امن انعام کے خواہش مند کیوں تھے۔ کوئی بھی سیاست دان اپنی خدمات کو امن کے لیے اہم سمجھ سکتا ہے اور کسی اعزاز کی امید بھی رکھ سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ امن کی تعریف کیا ہے اور اس کے حصول کا معیار کون سا ہونا چاہیے؟کیا امن کا مطلب صرف جنگ بندی کا اعلان ہے؟ کیا چند سفارتی معاہدے، سیاسی ملاقاتیں اور سربراہانِ مملکت کے درمیان تصویریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دنیا میں امن قائم ہو گیا؟ یا حقیقی امن کے لیے انصاف، انسانی وقار، حقوق کی حفاظت اور مظلوموں کو داد رسی فراہم کرنا بھی ضروری ہے؟امن صرف میدانِ جنگ میں گولیوں کا رک جانا نہیں؛ امن اس وقت بھی خطرے میں رہتا ہے جب انسان اپنے گھر میں غیر محفوظ ہو، کسی بچے کو خوراک اور علاج میسر نہ ہو، کسی قوم کو اجتماعی سزا کا سامنا ہو یا کسی مظلوم کو یہ یقین نہ رہے کہ اس کی فریاد کہیں سنی جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ امن اور انصاف کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی معاشرے میں ظلم جاری رہے اور خاموشی کو امن کا نام دے دیا جائے تو وہ پائیدار امن نہیں، بلکہ ایک ایسے بحران پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے جو کسی بھی وقت دوبارہ پھوٹ سکتا ہے۔
ناوی پِلے کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ قانون کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کا اطلاق کسی کمزور کے حق میں اور کسی طاقت ور کے خلاف ہو۔ کمزور کے حق میں انصاف کرنا آسان نہیں، لیکن طاقت ور کو جواب دہی کے دائرے میں لانا اس سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ اسی لیے آزاد عدلیہ، غیر جانب دار تحقیقات اور بین الاقوامی قانونی اداروں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔جنوبی افریقہ کی تاریخ میں اپارتھائیڈ ایک ایسا نظام تھا جس نے نسلی امتیاز کو قانون اور ریاستی پالیسی کے ذریعے برقرار رکھا۔ اس نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والوں نے یہ ثابت کیا کہ ریاست کا بنایا ہوا قانون بھی اخلاقی اور انسانی معیار پر پرکھا جا سکتا ہے۔ کوئی قانون محض اس لیے منصفانہ نہیں ہو جاتا کہ اسے حکومت نے نافذ کیا ہے۔ناوی پِلے نے اسی ماحول میں اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ جب قانون طاقت ور کے مفاد کا محافظ بن جائے تو مظلوم کے لیے انصاف کا راستہ کتنا دشوار ہو جاتا ہے۔ بعد میں بین الاقوامی عدالتی اداروں میں ان کی خدمات نے اسی بنیادی سوال کو عالمی سطح پر آگے بڑھایا: کیا انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو محض سیاسی طاقت یا ریاستی عہدے کی وجہ سے تحفظ ملنا چاہیے؟
غزہ کے معاملے میں بھی دنیا اسی سوال سے دوچار ہے۔ فلسطینیوں کے حقوق، اسرائیلی شہریوں کی سلامتی، حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں شہریوں پر تشدد اور یرغمال بنائے گئے افراد کی رہائی، نیز اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران فلسطینی شہریوں کو پہنچنے والے نقصان، سب کو بین الاقوامی قانون کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ ایک فریق کے جرائم دوسرے فریق کے لیے قانونی استثنا پیدا نہیں کرتے۔کسی قوم کے دکھ کو تسلیم کرنے کے لیے دوسری قوم کے دکھ سے انکار ضروری نہیں۔ اسرائیلی شہریوں کی زندگی اور سلامتی اہم ہے، تو فلسطینی بچوں، عورتوں، بزرگوں اور عام شہریوں کی زندگی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ انسانی حقوق کی عالمگیریت کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان کی قدر اس کے پاسپورٹ، مذہب، قومیت یا سیاسی شناخت سے طے نہ ہو۔فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت، آزادی، سلامتی اور باوقار زندگی کے سوال کو محض سفارتی اصطلاحات میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ جب کسی قوم کی زمین، گھر، بنیادی سہولتیں اور مستقبل مسلسل عدم تحفظ کا شکار ہوں تو عالمی برادری کی ذمہ داری صرف بیانات جاری کرنا نہیں، بلکہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری، انسانی امداد کی رسائی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کی حمایت کرنا بھی ہے۔
ناوی پِلے کے اعزاز کی معنویت اسی تناظر میں بڑھ جاتی ہے۔ ان کے کام کو سراہنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی سربراہی میں پیش کیے گئے ہر نتیجے کو بحث سے بالاتر سمجھ لیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے والوں، شواہد سامنے لانے والوں اور جواب دہی کا مطالبہ کرنے والوں کو محض اس وجہ سے خاموش نہیں کرایا جانا چاہیے کہ ان کے نتائج کسی طاقت ور حکومت کے مفادات سے متصادم ہیں۔نوبل امن انعام کی تاریخ میں متعدد ایسے افراد کو اعزاز دیا گیا ہے جن کی جدوجہد کا تعلق آزادی، نسلی مساوات، انسانی حقوق اور سیاسی جبر کے خلاف مزاحمت سے رہا ہے۔ نیلسن منڈیلا اور ڈیسمنڈ ٹوٹو جیسے جنوبی افریقی رہنماؤں کے نام اس روایت کی یاد دلاتے ہیں۔ ناوی پِلے کا نام بھی اسی وسیع تر تاریخ میں شامل ہو گیا ہے۔ان کی کامیابی اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ وہ کسی بڑی فوج، حکومت یا سیاسی تحریک کی سربراہ نہیں رہیں۔ ان کی اصل قوت قانون، تحقیق، دلیل اور انسانی وقار کے اصولوں میں رہی ہے۔ ان کا سفر ڈربن میں نسلی امتیاز کے ماحول سے شروع ہو کر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلیٰ ترین منصب اور عالمی عدالتوں تک پہنچا۔ یہ سفر اس بات کی مثال ہے کہ ایک وکیل کی پیشہ ورانہ جدوجہد بھی عالمی سیاست اور انسانی تاریخ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔نوبل کمیٹی نے اپنے اعلان میں اس حقیقت پر زور دیا کہ عالمی قانون کا نظام شدید دباؤ میں ہے اور اس کے اداروں کو حملوں اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ کمیٹی کا پیغام یہ تھا کہ پائیدار امن محض طاقت کے توازن سے نہیں، بلکہ قانون، جواب دہی اور انصاف سے قائم ہوتا ہے۔
ٹرمپ کی ناراضی اس بحث کا ایک حصہ ہے، پوری کہانی نہیں۔ اصل کہانی ان اصولوں کی ہے جنہیں ایک انعام کے ذریعے عالمی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ کسی بھی امریکی صدر کو اپنی پالیسیوں کا دفاع کرنے، اپنے ملک کے مفادات کی نمائندگی کرنے اور بین الاقوامی اداروں کے اختیارات پر سوال اٹھانے کا حق حاصل ہے۔ لیکن دنیا کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ وہ ہر حکومت کے اقدامات کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے معیار پر پرکھے۔طاقت ور ملکوں کی ذمہ داری کمزور ملکوں سے زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ ان کے فیصلوں کے اثرات بھی زیادہ وسیع ہوتے ہیں۔ اگر عالمی طاقتیں قانون کو صرف اس وقت تسلیم کریں جب وہ ان کے حق میں ہو، تو قانون کی بالادستی محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گی۔
اب پھر اسی محاورے کی طرف لوٹتے ہیں جس سے بات شروع کی تھی، کھسیانی بلی کھمبا نوچے!ٹرمپ کا نوبل امن انعام نہ ملنے پر ناراض ہونا ایک سیاسی ردعمل ہے، لیکن اس ناراضی سے ناوی پِلے کی دہائیوں پر محیط خدمات ختم نہیں ہو جاتیں۔ نہ اس سے اپارتھائیڈ کے خلاف ان کی جدوجہد کی اہمیت کم ہوتی ہے، نہ روانڈا کے مقدمات میں ان کے کردار کی، اور نہ ہی غزہ کے بارے میں اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کی قانونی اور اخلاقی بحث ختم ہو جاتی ہے۔اگر کوئی شخص خود کو امن کا سب سے بڑا علم بردار سمجھتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اختلاف کو برداشت کرے، آزاد اداروں کے وجود کو تسلیم کرے اور اپنے مؤقف کو دلیل سے ثابت کرے۔ امن کا دعویٰ صرف تقریروں سے نہیں، بلکہ اس طرزِ عمل سے معتبر بنتا ہے جو قانون، انسانی وقار اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہو۔
ناوی پِلے کو ملنے والا نوبل امن انعام اس لیے اہم ہے کہ یہ دنیا کو یاد دلاتا ہے کہ انصاف کی آواز ہمیشہ حکومتوں کے ایوانوں سے بلند نہیں ہوتی۔ کبھی وہ ایک وکیل کی دلیل میں، کبھی کسی جج کے فیصلے میں، کبھی کسی تحقیقاتی رپورٹ میں اور کبھی کسی بے گھر بچے کی خاموش آنکھوں میں سنائی دیتی ہے۔غزہ کے مظلوموں کے لیے اس اعزاز کی اصل اہمیت تب ہوگی جب ان کے لیے انصاف، تحفظ، انسانی امداد اور باوقار مستقبل کی راہیں کھلیں گی۔ محض ایک انعام سے جنگ کے زخم نہیں بھرتے، اجڑے گھر آباد نہیں ہوتے اور بچھڑے ہوئے خاندان دوبارہ نہیں ملتے۔ لیکن یہ اعزاز اس عالمی ضمیر کو ضرور جھنجھوڑ سکتا ہے جو کبھی سیاسی مصلحتوں، کبھی طاقت کے خوف اور کبھی مفادات کے حساب کتاب میں خاموش ہو جاتا ہے۔تاریخ بالآخر یہ نہیں پوچھتی کہ کس حکمران کے پاس کتنی طاقت تھی، کتنے ملک اس کے اتحادی تھے یا اس نے کتنے اعزازات حاصل کیے۔ تاریخ یہ بھی پوچھتی ہے کہ جب انسانیت کٹہرے میں کھڑی تھی تو کس نے اس کے حق میں آواز بلند کی، کس نے قانون کا دامن تھاما اور کس نے مظلوم کی فریاد سننے سے انکار کیا۔
نوبل امن انعام کسی حکمران کی ذاتی خواہش کی تکمیل کا نام نہیں۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس کی معنویت اس جدوجہد سے پیدا ہوتی ہے جو جنگ کے مقابلے میں امن، نفرت کے مقابلے میں انسانی وقار اور طاقت کے مقابلے میں قانون کو اہمیت دیتی ہے۔ٹرمپ کی ناراضی اپنی جگہ، ناوی پِلے کا اعزاز اپنی جگہ؛ مگر اصل سوال آج بھی وہی ہے: کیا دنیا میں قانون طاقت ور کے تابع رہے گا، یا طاقت ور کو بھی قانون کے تابع ہونا پڑے گا؟اس سوال کا جواب صرف نوبل کمیٹی نے نہیں، پوری دنیا نے دینا ہے۔ اور اس کا فیصلہ بیانات سے نہیں، آنے والے وقت میں انسانی حقوق، عالمی انصاف اور فلسطین سمیت دنیا کے مظلوم انسانوں کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے ہوگا۔