حکومت نے عوام کو کسٹمر سمجھ رکھا ہے؟
- تحریر ضمیر آفاقی
- سوموار 19 / اکتوبر / 2026
ریاست اور شہری کا تعلق صرف ووٹ، شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا ٹیکس کی رسید تک محدود نہیں ہوتا۔ یہ دراصل ایک ذمہ دارانہ سماجی معاہدہ ہے۔ شہری اپنی آمدن، کاروبار اور محنت سے ریاست کو ٹیکس ادا کرتا ہے، قوانین کی پابندی کرتا ہے اور ریاستی نظام کو چلانے میں اپنا حصہ ڈالتا ہے۔
اس کے بدلے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہری کو تحفظ، انصاف، تعلیم، صحت، صاف پانی، مواصلات، توانائی، روزگار کے مواقع اور ایک باوقار زندگی گزارنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔ لیکن آج ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا حکومت نے عوام کو شہری کے بجائے کسٹمر سمجھ لیا ہے؟
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جن سہولتوں کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے، انہیں ایک ایک کرکے تجارتی خدمات میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ بجلی چاہیے تو بھاری بل، گیس چاہیے تو بل، پانی چاہیے تو بل، علاج چاہیے تو فیس، تعلیم چاہیے تو فیس، سفر کرنا ہے تو مختلف ٹیکس، گاڑی رکھنی ہے تو ٹوکن اور دیگر محصولات، کاروبار کرنا ہے تو لائسنس اور فیس۔ حتیٰ کہ روزمرہ زندگی کی شاید ہی کوئی ایسی ضرورت ہو جس کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں ریاستی محصول، فیس یا چارج وابستہ نہ ہو۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ ریاست محصولات کیوں وصول کرتی ہے۔ ٹیکس ریاستی نظام چلانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ریاست شہری سے وصول کیا کچھ کر رہی ہے اور اس کے بدلے شہری کو واپس کیا دے رہی ہے؟ یہ فرق سمجھنا بہت ضروری ہے۔
ٹیکس کسی دکان سے خریدی جانے والی چیز کی قیمت نہیں کہ شہری نے رقم دی اور بدلے میں اسی مالیت کی کوئی مخصوص سہولت حاصل کرلی۔ ٹیکس اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ایک شہری آج جو ٹیکس دیتا ہے، ضروری نہیں کہ اس کے بدلے اسے اسی دن کوئی براہ راست فائدہ مل جائے۔ اس ٹیکس سے کسی دوسرے بچے کا اسکول چلتا ہے، کسی مریض کا علاج ہوتا ہے، کسی سڑک کی تعمیر ہوتی ہے، کسی پولیس اہلکار کی تنخواہ ادا ہوتی ہے یا کسی سرکاری ادارے کا نظام چلتا ہے۔ اسی لیے ٹیکس اور ریاستی خدمت کا تعلق کاروباری لین دین سے مختلف ہے۔
اگر ریاست شہری سے مسلسل یہ کہتی رہے کہ ہر سہولت کی الگ قیمت ادا کرو، ہر خدمت کے لیے فیس دو، ہر ضرورت پر محصول برداشت کرو اور ہر بحران کا بوجھ اپنی جیب سے اٹھاؤ تو پھر یہ سوال ضرور پیدا ہوگا کہ شہری ریاست کو ٹیکس کس مقصد کے لیے ادا کر رہا ہے؟
ریاستی نظام کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ عوام سے زیادہ سے زیادہ وصول کیا جائے۔ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ریاست اپنے وسائل کو اس طرح استعمال کرے کہ شہریوں کی زندگی آسان ہو، ان کی آمدن میں اضافہ ہو، کاروبار کے مواقع بڑھیں، روزگار پیدا ہو اور لوگوں کی قوتِ خرید بہتر ہو۔ ریاست کا کام صرف وصول کرنا نہیں، قوت پیدا کرنا بھی ہے۔ ایک کم آمدن والے شخص کی جیب سے مزید رقم نکال لینا آسان ہے، لیکن اس کی آمدن بڑھانا مشکل کام ہے۔ حکومت اگر ہر سال محصولات بڑھانے کا ہدف مقرر کرے مگر یہ نہ دیکھے کہ عام آدمی کی حقیقی آمدن کتنی بڑھی، اس کی قوت خرید کتنی کم ہوئی، اس کے گھریلو اخراجات کہاں پہنچ گئے اور اس کے پاس مہینے کے آخر میں کتنا بچتا ہے تو پھر معاشی کامیابی کے اعداد و شمار عام آدمی کی زندگی کی حقیقت بیان نہیں کرسکتے۔
ایک طرف مہنگائی بڑھتی ہے، دوسری طرف بجلی، گیس، پٹرول، تعلیم، علاج، کرایوں اور روزمرہ اشیا کے اخراجات بڑھتے جاتے ہیں۔ اس کے بعد مختلف محصولات اور فیسیں بھی شہری کی آمدن میں سے اپنا حصہ لے لیتی ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک عام خاندان اپنی آمدن کا بڑا حصہ صرف بنیادی ضروریات پوری کرنے میں خرچ کر دیتا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت اگر یہ کہے کہ معیشت بہتر ہو رہی ہے تو عام آدمی لازماً پوچھے گا کہ اس بہتری کا حصہ میری زندگی میں کہاں ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی پالیسیوں کو صرف خزانے کے نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ شہری کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
حکومت کے لیے کسی محصول میں اضافہ کرنا شاید بجٹ کی ایک سطر ہو، لیکن شہری کے لیے یہی اضافہ بچوں کی فیس، گھر کا راشن، بجلی کا بل، دوائی، کرایہ یا کاروباری اخراجات میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی لیے کسی بھی پالیسی کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت نے کتنی رقم جمع کی، بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس پالیسی کے بعد عام شہری کے پاس کتنی رقم باقی بچی؟ ریاست اگر شہری سے اس کی آمدن کا ایک حصہ ٹیکس کی صورت میں لے رہی ہے تو اسے شہری کی معاشی صلاحیت بڑھانے کی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی۔
اچھا نظام وہ ہے جہاں ریاست شہری کو صرف ٹیکس دہندہ نہیں سمجھتی بلکہ اسے معاشی شراکت دار سمجھتی ہے۔ جہاں حکومت کاروبار کے لیے آسانیاں پیدا کرتی ہے، چھوٹے تاجروں کو سہولت دیتی ہے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے، تعلیم کو بوجھ نہیں سرمایہ سمجھتی ہے، صحت کو کاروبار کے بجائے بنیادی ضرورت سمجھتی ہے اور قانون کی بالادستی کو ہر شہری کا حق بناتی ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر سرکاری ادارے شہری کو صرف فیس، جرمانے، بل اور ٹیکس کی رسید دینے کے لیے یاد کریں گے تو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کیسے پیدا ہوگا؟
ریاستی ادارے عوام کے خادم ہیں، دکاندار نہیں۔ پولیس کا کام صرف چالان کرنا نہیں، شہری کو تحفظ دینا بھی ہے۔ بلدیاتی اداروں کا کام صرف ٹیکس وصول کرنا نہیں، صاف ستھرا ماحول، نکاسی آب اور بنیادی شہری سہولتیں فراہم کرنا بھی ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف فیس وصول کرنا نہیں، ایک باشعور نسل تیار کرنا ہے۔ صحت کا نظام صرف ہسپتال کی عمارت یا فیس کا کاؤنٹر نہیں، انسانی زندگی کے تحفظ کا نظام ہے۔ یہی اصول توانائی، پانی، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اگر ہر ریاستی ذمہ داری کو تجارتی پراڈکٹ بنا دیا جائے تو پھر شہری اور کسٹمر کے درمیان فرق ختم ہوجاتا ہے۔ جبکہ شہری صرف خریدار نہیں ہوتا، وہ ریاست کا حصہ ہوتا ہے۔ وہ ریاست کو وسائل دیتا ہے، ریاستی نظام کو قانونی حیثیت دیتا ہے اور اپنے ووٹ کے ذریعے حکمرانی کا اختیار منتقل کرتا ہے۔ اس لیے ریاست کو عوام کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرنا ہوگا جس میں محصول کے ساتھ سہولت، ذمہ داری کے ساتھ خدمت اور اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی نظر آئے۔
یہ سوال بھی اب اہم ہے کہ ریاستی وسائل کا استعمال کس ترجیح کے تحت ہو رہا ہے؟ کیا غیر ضروری اخراجات کم کیے جا رہے ہیں؟ کیا سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر ہو رہی ہے؟ کیا ٹیکس کا دائرہ منصفانہ انداز میں وسیع کیا جا رہا ہے یا بار بار وہی طبقہ نشانہ بنتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس دے رہا ہے؟ کیا عام آدمی کو اس کے ٹیکس کے بدلے بہتر خدمات مل رہی ہیں؟ اگر ان سوالات کے جواب عوام کو مطمئن نہیں کرتے تو صرف مزید ٹیکس لگا دینا مسئلے کا حل نہیں۔ ریاست کو اپنی آمدن بڑھانے کے ساتھ ساتھ عوام کی آمدن بڑھانے کا منصوبہ بھی بنانا ہوگا۔ اسے صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ عوام سے مزید کتنا لیا جاسکتا ہے، بلکہ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ عوام کو اس قابل کیسے بنایا جائے کہ وہ بہتر زندگی گزار سکیں، اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دے سکیں، علاج کرا سکیں، گھر چلا سکیں، کاروبار کرسکیں اور ریاستی ذمہ داریوں میں اپنا حصہ باعزت انداز میں ادا کرتے رہیں۔ ایک مضبوط ریاست وہ نہیں جو اپنے شہری کی جیب سے زیادہ سے زیادہ رقم نکال لے۔ مضبوط ریاست وہ ہے جو اپنے شہری کو اس قابل بنا دے کہ وہ زیادہ کمائے، زیادہ پیدا کرے، زیادہ ٹیکس دے اور پھر بھی ایک باوقار زندگی گزار سکے۔
آخر میں سوال پھر وہی ہے:
کیا ریاست کا مقصد صرف عوام سے وسائل حاصل کرنا ہے یا عوام کو وسائل پیدا کرنے کے قابل بنانا بھی ہے؟ اگر حکومت عوام کو صرف ٹیکس دہندہ، بل ادا کرنے والا اور فیس جمع کرانے والا کسٹمر سمجھتی رہے گی تو ریاست اور شہری کے درمیان وہ اعتماد پیدا نہیں ہوسکے گا جو کسی بھی مضبوط معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ عوام حکومت سے مفت کچھ نہیں مانگ رہے۔ وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ وہ ریاست کو دے رہے ہیں، اس کے بدلے انہیں ایک محفوظ، منصفانہ، باوقار اور قابلِ اعتماد نظام ملے۔ کیونکہ شہری ریاست کا کسٹمر نہیں، ریاست کا شریک ہے۔
اور ریاست کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ اس نے عوام سے کتنا وصول کیا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنے عوام کو کتنا مضبوط، محفوظ، خوشحال اور باوقار بنایا۔