سعودیہ پر حملوں کا تاریخی پس منظر؟

درویش نے اپنے گھر والوں کو کہا کہ کتنا اچھا ہوتا اگر ہم سعودی ایئرلائن سے یورپ آتے، واپسی پر عمرہ بھی کرتے۔ اب سعودی عرب اور شیعہ یمنی حوثیوں کی جنگ میں حالات دن بدن خراب تر ہوتے جا رہے ہیں تو کہا جا رہا ہے کہ اگر آپ کی پسند والی ائرلائن لی ہوتی تو نومبر تک واپسی میں کتنی خرابی پڑ سکتی تھی۔

اب تو سعودی ایئرپورٹس اور جہازوں پر بھی حملے ہونے لگے ہیں، یہ واقعی افسوسناک صورتحال ہے۔ اس ناچیز کو اگرچہ ایسی صورتحال کے خدشات 1979 سے ہیں، وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب شاہ کا تخت الٹ کر انقلاب کے فوری بعدامام خمینی نے فرمایا تھا کہ ہم اپنے اس اسلامی انقلاب کو دیگر مسلم ممالک میں برآمد کریں گے، اسی دن درویش کا دھیان سعودی عرب کی طرف گیا۔ کیونکہ پس منظر میں وہی انقلاب کا اصلی ٹارگٹ تھا حالانکہ سعودی قیادت کی ہدایت پر امام کعبہ بنفس نفیس تہنیت کیلیے تہران گئے تھے، مگر ایرانی میڈیا پر سعودیوں کے متعلق بہت کچھ نازیبا بولا جا رہا تھا۔ امام کے متذکرہ بیان پر، اسلام کے ابتدائی دور کی وہ تصویر آنکھوں کے سامنے آئی تھی کہ کس طرح مولا علی ؓ اور مابعد حضرت امام حسین ؓ کو مکہ و مدینہ جیسے مقدس مقامات سے کوچ کرتے ہوئے کوفہ کا رخ کرنا پڑا لیکن دل میں تو یقینی طور پر یہ حسرت تھی کہ کاش ایسے نہ ہوتا۔ مولا علیؓ کے لئے اپنے پیغمبرﷺ، اپنے کزن، اپنے سسر جبکہ امام حسینؓ کے لئے اپنے نانا کے مفتوح ہر دو مقدس شہروں کو چھوڑنا کتنا مشکل تھا۔ تصور کیا جا سکتا ہے کہ انہیں کس دکھ کے ساتھ اپنی یہ مقدس سرزمین یا جاگیر چھوڑ کر سوئے کوفہ جانا پڑا۔

درویش کو ظہور اسلام کے ابتدائی دور کا وہ منظر نامہ کبھی نظروں سے اوجھل نہیں ہوا، جب سیدنا عبداللہ ابن عباس، حسین ابن علیؓ کو مدینہ چھوڑنے اور کوفہ جانے کے پروگرام سے روکنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے دکھتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ ابن عباس جو اس وقت بنو ہاشم کے سب سے زیرک، منجھے ہوئے، جہاندیدہ سردار تھے، ان کی اہمیت کا ادراک اس وقت کی قبائلی پہچان سے کیا جا سکتا ہے کہ حضرت عبد المطلب کے تین بیٹوں کی تین اولادیں کتنی اہم تھیں۔ حضرت عبداللہ ابن عبد المطلب کے بیٹے محمدﷺ، حضرت ابو طالب ابن عبد المطلب کے بیٹے علی ؓاور حضرت عباس ابن عبد المطلب کے بیٹے عبداللہ۔ تینوں ہستیوں کا ہمارے آقا کے اس نئے دین میں مرتبہ و مقام اور باہمی الفت و احترام تاریخی طور پر واضح ہے۔ سیدنا ابن عباس ؓنے طویل عمر پائی، اپنے دونوں اول الذکر کزنوں کے ساتھ وفاداری و مودت کا پورا حق ادا فرمایا۔ خود آقا ﷺ نے انہیں ترجمان القرآن کا لقب دیا۔ افسوس، سنی تو رہے ایک طرف، ہمارے شیعہ بھائیوں نے بھی کبھی ان کا جو مقام ہے، وہ انہیں نہیں دیا۔ ابن عباسؓ کی جگہ تقدس ہمیشہ اس دوسرے عباسؓ کو بخشا جو سیدنا علی ؓ کی غیر فاطمی اولاد تھے۔

عام شیعہ بھائی عباس کا نام آنے پر کبھی اس جلیل القدر ہستی کا نہیں سوچیں گے بلکہ کربلا والے مولا علیؓ کے غیر فاطمی بیٹے کو دھیان میں لائیں گے۔ بہرحال یہ عظیم مدبر ہاشمی سردار عبداللہ بن عباس ؓاپنے بھتیجے حسین بن علیؓ کا مبنی بر خروج پروگرام جاننے کے بعد سخت مضطرب و پریشان ہوئے، پیار اور ڈانٹ دونوں طرح سے سمجھانے بجھانے میں کوئی کسر اٹھائے نہ رکھی، یہاں تک کہہ دیا کہ کوفہ والے تمہارے ساتھ وہی بے وفائی کریں گے جو تمہارے باپ اور بڑے بھائی کے ساتھ کر چکے ہیں۔ اگر تم بضد اور مصر ہو تو بھی ایک بات مان لو، کم از کم اپنے گھر کی خواتین کو ساتھ لے کر نہ جاؤ، میری آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ تم عثمان ابن عفانؓ کی طرح اپنے گھر والوں کے سامنے ذبح کر دیے جاؤ گے۔ میرا بس چلے تو ایک ہاتھ سے تمہاری داڑھی اور دوسرے ہاتھ سے تمہاری پیشانی کے لمبے بال دبوچ کر تمہیں زمین پر پٹخ دوں اور کوفہ نہ جانے دوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ تم ضدی اور اپنے ارادوں کے پکے ہو۔ اس لئے میرے بھتیجے، میری درخواست ہے، تم نے اگر خروج کا پختہ ارادہ باندھ ہی لیا ہے تو بھی کوفہ (عراق) کی طرف ہرگز نہ جاؤ۔ تم اپنے ساتھیوں کو لے کر یمن کی طرف نکل جاؤ، وہ کوفہ کی نسبت محفوظ علاقہ ہے۔ یمن کے پہاڑی سلسلہ میں بیرونی حملہ آوروں کے لئے آپ پر قابو پانا مشکل ہو گا، یمن کے پہاڑ تمہاری مزاحمتی تحریک کو تحفظ دیں گے۔ حسین ابن علیؓ کے سامنے سیدنا ابن عباس ؓکی گفتگو کا یہ منظر نامہ کس قدر دلگداز دردمندی سے لبریزہے، کاش اسے فلمایا جا سکتا۔

عرض مدعا یہ ہے کہ بنو ہاشم، مولا علیؓ اور شیعان علی کی یہ دیرینہ آرزو وحسرت تھی کہ بشمول مکہ و مدینہ حجاز مقدس پر ان کا اسی طرح کنٹرول ہو جس طرح اصحاب ثلاثہ کا رہا لیکن افسوس تاریخی طور پر یہ حسرت کبھی پوری نہ ہو سکی۔ فاطمید عہد میں بھی محض نام کے خطبے پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ لیکن جب امام خمینی یہ فرما رہے تھے کہ ہم اپنے اس اسلامی انقلاب کو دیگر ہمسایہ عرب ممالک میں برآمد کریں گے تو درویش اس کی معنویت کو پوری طرح سمجھ رہا تھا۔ اس لیے انہی دنوں اس کی اپنے دادا حضور کے ساتھ بھری پنچایت میں جو بحث ہوئی، وہ کچھ اسی نوعیت کی تھی۔ ان دنوں یہ ناچیز اسلامی انقلاب کے نشے، ولولے یا جذبے سے سرشار، یہ تک بولے جا رہا تھا کہ سعودیوں کا عقیدت سے محروم روایتی مردہ فہمِ اسلام کوئی ویلیو نہیں رکھتا اس ایرانی انقلابی اسلامی عظمت کے سامنے، آل سعود تو آل یہود کی طرح گویا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

زندہ و متحرک اسلام کی عظمت و نشاط ثانیہ کے لیے اگر ایرانی اسلامی انقلاب کی حمایت میں سعودی عرب پر حملہ بھی کرنا پڑا تو امام خمینی کی قیادت میں ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں۔ اور دادا حضور فرما رہے تھے بیٹا ایسی باتیں نہیں کرتے، ہم تو حرمین شریفین کا اتنا اونچامقام سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب کی طرف پاؤں کر کے سونا یا بیٹھنا بھی گناہ خیال کرتے ہیں۔ تم اس پر حملے کی بات کر رہے ہو۔ ہم تو ادھر تھوکنا یا قضائے حاجت کیلیے ادھر منہ کر کے بیٹھنا بھی سخت برائی سمجھتے ہیں اور یہ احترام ہمارے ایمان کا لازمی جزو ہے۔ کاش میرا دادا آج کا یہ منظر نامہ دیکھ پاتا کہ ایرانی ولایت فقیہ کے ایما پر یمن کے شیعہ حوثی باغی کس ڈھٹائی، سینہ زوری اور جسارت کے ساتھ سرزمین مکہ و مدینہ کی طرف میزائل اور بارودی ڈرون پھینک رہے ہیں۔ دہائیوں قبل جو خدشات سوچوں یا لفظوں میں تھے آج وہ بدتہذیبی بالفعل آنکھوں کے سامنے ہے۔ ایسے میں کے پی کارروائی کے علی الرغم حکومتِ پاکستان کو شاباش دینا بنتا ہے جس نے صرف پاسدارانِ حرمین ہونے کا اعلان نہیں کیا بلکہ بالفعل اپنے مسلح دستوں کو حفاظتِ حرمین پر مامور کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی ایک ہزار حماقتوں کے بیچ کراؤن پرنس کو دو مرتبہ انکار کرتے ہوئے جو تلخ صورتحال پیدا کی اس میں بھلائی کی ایک بہتر بات یہ ہوئی ہے کہ ہم لوگ اپنا گند آپ صاف کریں۔

سعودیوں کی حفاظت کے لیے مکہ معاہدے کے تحت پاک ترک دستے آگے کھڑے ہوں، خداوند کراؤن پرنس محمد بن سلمان کا حامی و ناصر ہو تاکہ وہ سیاسی و عسکری سخت گیر جنونی مذہبیت کے بالمقابل، ہیومینٹی اور انسان نوازی کی سافٹ لبرل مذہبی آواز بن کر ابھریں۔