فیصل آباد میں نوجوان صنعتکار کا قتل، لمحہ فکریہ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چند روز پہلے فرمایا کہ انہوں نے سی سی ڈی کا محکمہ بنایا تھا اور آج فخر سے کہہ سکتی ہیں کہ اِس کی وجہ سے پنجاب میں جرائم آدھے رہ گئے ہیں،بعض شہروں میں تو کئی ماہ گزر جاتے ہیں، کوئی جرم ہوتا ہی نہیں۔

پتہ نہیں اُنہیں یہ معلومات کون دیتا ہے، یہاں یہ عالم ہے کہ کوئی دن نہیں جاتا جب کسی بھیانک جرم کی خبر نہ آئے۔میں خود کئی بار یہ لکھ چکا ہوں کہ سی سی ڈی کے آنے سے فرق پڑا ہے مگر جو اندھا دھند واقعات ہوئے انہوں نے خود اس محکمے پر بھی سوال کھڑے کئے اور اسے دفاعی پوزیشن پر آنا پڑا۔اب فیصل آباد سے یہ اندوہناک خبر آئی کے ملک کے ایک مشہور صنعتی برانڈ کے مالک جواں سال صنعتکار ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ایک بارونق علاقے میں جاں بحق ہو گئے۔یہ واقعہ بذاتِ خود اِس بات کی گواہی دے رہا ہے پنجاب کے دور دراز علاقوں اور شہروں کی صورتحال تو رہی ایک طرف فیصل آباد جیسے پنجاب کے دوسرے بڑے شہر میں اَمن و امان کی صورتِ حال کتنی تشویشناک ہو چکی ہے۔کہانی اس لئے بھی دیدہ دلیری کی حد تک پہنچی نظر آئی کہ یہ واقعہ فیصل آباد کے سب سے محفوظ اور پوش علاقے چناب کلب سے شروع ہوا اور جڑانوالہ روڈ پر بندو خان ریسٹورنٹ کے قریب اس کا المناک انجام ایک انسان کی جان لے گیا۔اس سے تو یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ پنجاب میں اسلحہ بردار ڈاکو اور لٹیرے دندناتے پھر رہے ہیں اور انہیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔

نوجوان صنعتکار میاں ریحان اشرف اپنی نئی لینڈ کروز پر ایک کھانے کیلئے چناب کلب فیصل آباد گئے۔گاڑی باہر کھڑی کی،ویلٹ پارکنگ والے کو چابی دی،جب وہ کھانا کھا رہے تھے تو ٹریکنگ سسٹم کی وجہ سے سگنل موصول ہوئے کہ کوئی اُن کی گاڑی سے چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے۔ وہ فوراً اُٹھ کر باہر گئے تو دیکھا اُن کی گاڑی موجود نہیں اور نہ وہ ویلٹ پارکنگ والا آدمی موجود ہے۔انہوں نے فوراً ٹریکنگ کمپنی کو اطلاع دی،جس کے بعد نظام ایکٹو ہوا تو کمپنی نے بتایا کہ گاڑی جڑانوالہ روڈ پر ہے۔ ریحان اشرف اپنے بھائی اور دوستوں کے ساتھ دوسری گاڑی میں اُس طرف گئے تو انہیں گاڑی نظر آ گئی۔انہوں نے اپنی گاڑی سے اُتر کر انہیں للکارا تو گاڑی لے جانے والوں نے فائرنگ کر دی، ایک گولی ریحان اشرف کی گردن پر لگی اور وہ وہیں خون میں لت پت ہو کر جان کی بازی ہار گئے۔ فائرنگ کرنے والے گاڑی سمیت موقع سے فرار ہو کر نامعلوم سمت کی طرف نکل گئے۔ ویسے تو اِس واقعہ میں کئی سبق موجود ہیں تاہم اس زمینی حقیقت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جرائم پیشہ افراد کہیں گئے نہیں بلکہ انہی شہروں، محلوں اور گلیوں میں دندناتے پھرتے ہیں،واردات کے بعد ملزموں کو پکڑ لینا اتنا بڑا کارنامہ نہیں جتنا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ واردات سے پہلے انہیں دھر لیا جائے۔جب کسی کی جان چلی جاتی ہے تو وہ واپس نہیں آ سکتی، چاہے آپ بندے پکڑ کر اِن کاؤنٹر میں مار دیں۔

اب اِس کہانی میں سب سے بڑی غلطی تو یہ ہوئی کہ مقتول ریحان اشرف نے جلد بازی یا جذباتی حالت میں یہ فیصلہ کیا کہ کار چوروں کا خود ہی پیچھا کیا جائے۔ ٹریکر لگوانے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ گاڑی جہاں بھی جائے گی ٹریس ہو گی اور ملزم پکڑے جائیں گے۔پہلا کام تو یہ بنتا تھا کہ فوراً 15پر کال کی جاتی، ٹریکنگ کمپنی کا بھی بتایا جاتا تاکہ پولیس اُس کے ساتھ مل کر گاڑی کی لوکیشن تک پہنچ جاتی۔ اب ذرا سوچیں کہ یہی کام اگر پولیس کے ذریعے کیا گیا ہوتا ، جو ریحان اشرف نے خود کیا تو ملزم بچ کر نہ جا سکتے۔اُن کا پولیس کے ساتھ آمنا سامنا ہوتا تو وہ فائرنگ کی بجائے ہتھیار ڈال دیتے۔ پھر سیف سٹیز کے کیمرے بھی فیصل آباد میں ہر جگہ موجود ہیں، اُن سے بھی لینڈ کروز کی لوکیشن بآسانی معلوم ہو جاتی۔دوسرا یہ گاڑی ویسے بھی انشورڈ ہو گی کیونکہ بغیر انشورنس  کے ٹریکر نہیں لگتا۔ بس یہی کہنا چاہئے کہ ریحان اشرف کی زندگی اتنی ہی تھی ،وگرنہ اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا اور گاڑی بھی ریکوور ہو سکتی تھی۔

مجھے یقین ہے جب تک یہ کالم چھپے گا فیصل آباد پولیس ملزموں کو پکڑ چکی ہو گی کیونکہ وہ کئی جگہ کیمروں کی زد میں آ چکے ہوں گے،لیکن اُس نقصان کی تلافی نہیں ہو سکے گی جو ریحان اشرف کی موت کی وجہ سے ہوا اور اُن کے معصوم بچے یتیم اور اہلیہ بیوہ ہو گئیں۔یہاں چناب کلب کی سکیورٹی پر بھی کئی سوالات اُٹھتے ہیں۔ عام طور پر بڑے ہوٹلوں اور ایسے پوش کلبوں کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے گاڑیوں کی سکیننگ کی جاتی ہے کہ اُن میں اسلحہ یا بارود تو نہیں۔یہ کار لفٹرز کس ذریعے سے چناب کلب کی پارکنگ تک پہنچے تھے،اگر پیدل آئے تھے تو سکیورٹی سٹاف نے انہیں چیک کیوں نہیں کیا، اگر کسی گاڑی میں سوار ہو کر وہاں پہنچے تو وہ کیسے اسلحہ سمت اندر چلی گئی۔

بعض ایسے واقعات ہوتے ہیں جو پورے شہر کی فضا کو مغموم اور خوفزدہ کر دیتے ہیں۔یہ واقعہ بھی ایسا ہی ہے۔ فیصل آباد ایک صنعتی شہر ہے اور ریحان اشرف اپنی کمپنی کے ذریعے جو پراڈکٹ بناتے تھے وہ گھر گھر استعمال ہوتی ہے۔ ایک معروف صنعتکار جو جواں سال بھی تھا اس طرح موت کا شکار ہو کر دنیا سے رخصت ہو گیا،شاید کسی کے وہم گمان میں بھی نہ ہو۔ایسے واقعات احساسِ عدم تحفظ کو بڑھا دیتے ہیں،اُن تمام دعوؤں پر پانی پھیر دیتے ہیں جو صوبے کو اَمن و امان کا گہوارہ بنانے کے ضمن میں کئے جاتے ہیں۔اس سانحہ میں بہت سے سبق موجود ہیں۔ پولیس کے لئے بھی اور عوام کے لئے بھی۔

مجھے سابق آئی جی سردار محمد چودھری کی ایک بات یاد آتی ہے وہ کہا کرتے تھے پولیس کے لئے اطمینان کا لمحہ کوئی نہیں ہوتا۔وہ کبھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتی اُس نے جرائم پر قابو پا لیا ہے، قانون شکنوں کا صفایا کر دیا ہے کیونکہ مجرم تو روزانہ پیدا ہو سکتے ہیں ہر وقت اُن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے پولیس یا سی سی ڈی اس بات پر اطمینان کا اظہار نہ کریں کہ جرائم کم ہو گئے ہیں ۔کوئی ایک جرم سارے اطمینان کی ہوا نکال سکتا ہے۔دوسری طرف عوام کے لئے یہ پیغام ہے کہ جرم ہوتا دیکھیں تو خود مقابلے میں نہ آئیں بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دیں۔ ایک خود کار نظام ایکٹو ہو جائے گا اور مجرم جلد یا بدیر قابو آ جائیں گے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)