فرانس میں احتجاج: یورپ میں وسیع بے چینی کا اظہار

فرانس میں تاریخ کے بدترین احتجاجات فساد اور تشدد کی شکل اختیار کرچکے  ہیں جس کے بعد صدر مینوئیل میکرون نے بعض فوری اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان میں مقامی طور سے کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ  خفیہ معلومات اکٹھی کرنے کے نظام کو بہتر بنانے  کے اقدامات بھی شامل ہیں۔  اگرچہ فرانس احتجاج اور مظاہروں کے مزاج کی شہرت رکھتا ہے لیکن اس قسم کے احتجاج  حال ہی میں متعدد یورپی ممالک میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔

ان سب ممالک میں احتجاج کرنے والے مظاہرین  درحقیقت مشکل مالی حالات، بیروزگاری اور فلاحی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے  سڑکوں پر نکلے ہیں۔ بیشتر صورتوں میں حکومتوں کے  پاس ان شکایات کو دور کرنے کا فوری علاج دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے فوری طور سے فرانس کے علاوہ  یورپ بھر میں پھیلی ہوئی بے چینی کے سیاسی اثرات اور دائیں بازو  کی  پارٹیوں کے طاقت پکڑنے کا امکان موجود ہے۔ ان ممالک میں موجود تارکین وطن اور پناہ گزین بھی  اس صورت حال سے متاثر ہوں گے کیوں کہ سیاسی مباحث میں مقبول جماعتیں عام طور سے دیگر ناکامیوں کو چھپانے کے لیے معاشرے کے کمزور طبقات کو  نشانہ بناتی ہیں اور انہیں عوام کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیتی  ہیں۔ حقائق سے نابلد بہت سے لوگ اس قسم کے سستے نعروں پر یقین کرکے انتہاپسند گروہوں کو ووٹ بھی دیتے ہیں۔ اس طرح سیاسی بے چینی اور تقسیم  میں مزید اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

اس وقت فرانس کے علاوہ   بلجیم، اٹلی اور پرتگال میں  بھی مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات، رہائش کے بحران اور تعلیمی مسائل کے خلاف بڑے مظاہرے ہوئے ہیں۔ اسپین اور البانیہ میں  عوامی بے چینی کے مختلف مظاہر سامنے آئے ہیں۔   یہ تمام مظاہرے  ایک ہی تحریک کا حصہ  تو نہیں ہیں لیکن ان میں ایک قدر مشترک  دیکھی جاسکتی  ہے کہ عوام کی اکثریت اپنے معاشی حالات سے مطمئن نہیں ہے اور حکومتیں عوام کی خواہش کے مطابق وسائل فراہم کرنے میں ناکام ہورہی ہیں۔ اس کا بدترین مظاہرہ اگرچہ فرانس ہی میں ہؤا ہے۔

فرانس میں احتجاج کا موجودہ سلسلہ ستمبر  میں حالات کار کے خلاف استادوں کی  ہڑتال سے شروع ہؤا۔ کچھ عرصے بعد اس احتجاج میں طالب علم بھی  شامل ہوگئے۔ اس طرح اسکولوں کی خستہ صورت حال، تدریسی سہولتوں کی کمی  اور تعلیم سے متعلق دیگر مسائل بھی ایجنڈا  میں شامل کرلیے گئے۔ ملک میں چونکہ مہنگائی اور معاشی و معاشرتی بے چینی ہر سطح پر موجود تھی لہذا مہنگائی ، بیروزگاری اور ناکافی فلاحی سہولتوں  کے خلاف عوام کی بڑی اکثریت سڑکوں پر نکل آئی۔ میڈیا کی اطلاعات کے  مطابق فرانس کے مختلف شہروں میں پانچ سے آٹھ لاکھ تک لوگوں نے احتجاج میں شرکت کی۔ تاہم  یہ احتجاج اس وقت قابو سے باہر ہوگیا جب بعض عناصر نے صرف مطالبات پیش کرنے کی بجائے سرکاری عمارات اور دکانوں پر حملے شروع کردیے۔ اس دوران آتشزنی اور لوٹ مار کے متعدد واقعات دیکھنے میں آئے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران  فرانس کے مظاہروں میں تین ہزار سے زیادہ دکانیں اور کاروبار  تباہ کیے گئے اور انہیں لوٹ لیا گیا۔

اس تشدد اور لوٹ مار کی وجہ سے مظاہرین کے مطالبوں کی بجائے قانون ہاتھ میں لینے کے معاملات زیاد ہ زیر بحث آرہے ہیں۔ کسی حد تک اس قسم کے واقعات نے  بنیادی مسائل کی طرف سے توجہ اب لاقانونیت اور امن و ا مان بحال کرنے کی طرف مبذول کرائی ہے لیکن وہ معاشی بے چینی  مسلسل موجود ہے جس کے خلاف احتجاج شروع ہوئے تھے۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ فرانس میں مزید احتجاج نہیں ہوگا۔ تاہم اس دوران مختلف گروہ اس صورت حال کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔  فرانس میں دائیں بازو کی انتہا پسند لیڈر میرین لے پین اور ان کی جماعت نیشنل ریلی حکومت پر امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی کا الزام لگا رہی ہے۔  لے پین اس صورت حال   میں پیدا ہونے والے  حکومت مخالف جذبات    کواپنی  سیاسی حمایت میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی  کوشش کریں گی۔  فرانس میں اگلے سال صدارتی انتخاب ہونے والا ہے۔  بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت  عوام کی سہولتوں کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی تو احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس کے اثرات صدارتی انتخاب پر  بھی پڑیں گے۔

فرانس اور یورپ کے بیشتر ممالک میں عوامی بے چینی کا تعلق بنیادی طور پر معاشی حالات سے ہے۔  یورپ کے معاشی حالات  2022 میں یوکرین پر روسی حملہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں خراب ہونا شروع ہوئے۔ اس جنگ  کی وجہ سے انرجی کی قیمتوں میں اضافہ ہؤا اور نیٹو ممالک نے اپنا دفاعی بجٹ  بڑھانا شروع کیا۔ اس کے نتیجہ میں فلاحی سہولتوں میں کمی کرنا پڑی۔ اس کے ساتھ ہی بیشتر یورپی  ممالک اس جنگ کا بالواسطہ  حصہ ہیں اور   مقابلہ کرنے کے لئے یوکرین کو مالی مدد فراہم کررہے ہیں۔ کیوں کہ یورپی لیڈروں نے یہ باور کیا ہے کہ اگر روس یوکرین کے بعض علاقوں پر قابض ہونے میں کامیاب ہوگیا تو  مستقبل میں کوئی بھی یورپی ملک اس کی جارحیت سے محفوظ نہیں رہے گا۔ تاہم  ایران پر امریکی حملے اور اس کے بعد سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملوں اور آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کا  بحری راستہ مشکوک ہونے کی وجہ سے بھی یورپ کی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہر شعبہ  کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ  ان راستوں سے تجارتی ساز و سامان کی آمد ورفت   پر بھی اثر پڑا ہے۔

اب یہ بے چینی احتجاج کی صورت اختیار کررہی ہے اور فرانس میں ان کی بدترین  شکل  دیکھنے میں آئی ہے۔ فرانسیسی پولیس اب تک دو ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرچکی ہے اور 600 کے لگ بھگ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والے مظاہرین اس کے علاوہ ہیں۔ دل کا دورہ پڑنے سے   احتجاج میں شامل ایک شخص  ہلاک بھی ہوچکا ہے۔ فرانس میں حکومت، پولیس اور مظاہرین  تشدد کی وجوہات کے بارے میں اپنا اپنا مؤقف پیش کررہے  ہیں۔ ٹریڈ یونینز اور  بعض سیاسی نمائندوں کے خیال میں پولیس کے ہتھکنڈوں کی وجہ سے  اشتعال  میں اضافہ ہؤا اور حالات بے قابو ہوگئے جبکہ پولیس کا خیال ہے کہ مظاہرین میں  جرائم پیشہ عناصر نے شامل ہوکر لوٹ مار شروع کی اور پولیس کی مداخلت پر مظاہرین کے غول سرکاری عمارات اور نجی کاروباری ادفاروں پر حملہ آور ہوئے۔

  فرانسیسی حکام نے بائیں بازو کی سخت گیر جماعت France Unbowed (LFI) سے وابستہ کارکنوں پر احتجاج منظم کرنے اور کشیدگی بڑھانے کے الزامات لگائے ہیں۔ جماعت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا  ہےکہ حکومت طلبہ کے جائز مطالبات کو سیاسی مسئلہ بنا رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، حکام نے یہ مؤقف خفیہ اداروں کی بریفنگ کے حوالے سے پیش کیا۔ لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ تمام احتجاج یا تشدد اسی جماعت نے منظم کیا تھا۔  لوٹ مار کرنے والوں میں کم عمر مظاہرین کی شرکت بھی اس معاملہ کی حساسیت اور سنگینی میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے۔فرانسیسی  حکومت نے ان حالات میں ایک طرف اسے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور قانون کی عمل داری یقینی بنانا ہے  اور دوسری طرف ان سماجی و معاشی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے جنہوں نے بڑی تعداد میں لوگوں کو سڑکوں پر آنے پر آمادہ کیا۔  سخت سکیورٹی اقدامات  سے وقتی طور پر حالات کو قابو میں کیا جاسکتا ہے تاہم   دیرپا استحکام کے لیے عوامی شکایات کا مؤثر حل تلاش کرنا ضروری ہوگا۔

  فرانسیسی حکومت کو اس کا پہلا موقع 5نومبر کو ملنے والا ہے جب پارلیمنٹ میں بجٹ تجاویز پیش کی  جائیں گی۔ ان تجاویز میں  بعض سہولتیں اور فلاحی  مراعات کم کرنے  کے اقدامات کی خبروں نے  فرانس میں لوگوں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کیا تھا۔  حکومت اگر ان کٹوتیوں پر اصرار کرتی ہے تو ایک طرف مظاہروں میں شدت دیکھنے میں آئے گی تو دوسری طرف صدر میکرون  سیاسی  پوزیشن کمزور ہوگی۔