فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے
پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی اور بی بی سی فارسی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ دوراہ ایران کے لیے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی بھی ایران گئے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ساتھ فیلڈ مارشل بھی ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا یہ پانچواں سرکاری دورہ ہے۔ اس سے قبل دو ستمبر کو اپنے دورۂ ایران کے دوران انہوں نے صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی، پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ سکندر مومنی سے ملاقاتیں کی تھیں۔
عاصم منیر کی آمد سے ایک گھنٹہ قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اس ملاقات کا بنیادی مقصد ’دوطرفہ تعلقات اور مشترکہ تعاون کو مضبوط بنانا‘ ہے۔
فیلڈ مارشل اس اہم دورے کے دوران ایران کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دو طرفہ دفاعی تعاون، بارڈر مینجمنٹ اور خطے کے مجموعی سکیورٹی معاملات کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی جو دونوں ممالک کے تعلقات میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
اس دورے کا ایک اہم ترین پہلو ایران اور امریکا کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا کلیدی کردار ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں خطے میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ اپنے عروج پر ہے۔ پاکستان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا نہ صرف خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے کی ایک اہم کوشش بھی ہے