حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف مذاکرات کی دعوت، اپوزیشن کا انکار

  • منگل 20 / اکتوبر / 2026

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ وزیراعظم کے ساتھ دہشت گردی کے مسئلہ پر سر جوڑ کر بیٹھیں۔ سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے  انہوں نے کہا کہ کے پی میں  دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کا تعاون نہیں مل رہا تھا۔

تاہم رانا ثنا اللہ  نے کہا کہ  بلوچستان میں صوبائی حکومت مکمل طور پر وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔  انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں سر جوڑ کر بیٹھیں تو وزیراعظم اس سارے مسئلہ پر بیٹھنے کے لیے تیار ہیں۔ میں آج تمام سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ دہشت گردی کے معاملے پر وزیراعظم کے ساتھ بیٹھیں۔ وزیراعظم آج بھی دہشت گردی کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی سپیکر قومی اسمبلی کے دستخط سے اپوزیشن لیڈر بنے ہیں۔ اپوزیشن کا عہدہ سنبھال لیا ہے کہ لیکن سپیکر چیمبر میں اچکزئی جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔  میں خود محمود اچکزئی کے پاس گیا اور کہا کہ ضد چھوڑیں اور وزیراعظم سے ملاقات کریں۔

اس دوران پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا ہے کہ اب مذکرات کا نہیں عملی اقدام کا وقت ہے۔ منگل کے روز پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہمارا لانگ مارچ جاری ہے۔ مذکرات اگر ہونے تھے تو ابھی تک ہو چکے ہوتے۔ ایمرجنسی اور گورنر راج کو ’غیر جمہوری و آئینی‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کو چیلنج کیا ہوا ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ فیصلے عدالتوں میں ہوں کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو معاملات سڑکوں پر آئیں گے۔ پشاور میں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 1973 کا آئین بڑی مشکل سے بنا ہے۔ محمود اچکزئی کے مطابق آئین کے آرٹیکل 58 (2بی) نے ہماری چار اسلمبیاں توڑی ہیں۔

قائدِ حزبِ اختلاف کا کہنا تھا کہ ہماری نہ نواز شریف اور نہ ہی آصف زرداری سے کوئی دشمنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس میں مہنگائی کے خلاف لاکھوں لوگ نکلے، آگ لگائی لیکن وہاں پولیس نے ابھی تک ایک گولی نہیں چلائی۔ ہمیں اس حکومت کے خلاف بھی پر امن احتجاج کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی کا اب آخری مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔