امریکی نائب صدر کی مسلم دشمنی
- تحریر نصرت جاوید
- منگل 20 / اکتوبر / 2026
9 ویں جماعت کا امتحان دینے کے چند دنوں بعد ایوب حکومت کے ’دس سالہ دور ترقی‘ کے خلاف نکالے احتجاجی جلوسوں میں شامل ہونا شروع ہوگیا تھا۔ کچھ ہفتے گزر گئے تو اخبار پڑھنے کی عادت نے سمجھایا کہ پاکستان کے طلبہ ہی سڑکوں پر ہنگاموں میں مصروف نہیں۔
ایشیا، افریقہ اور خصوصاًلاطینی امریکہ کے بے شمار ملکوں میں بھی احتجاجی تحاریک برپا ہیں۔ قیادت ان تحاریک کی طلبہ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس دور کی جین-زی گویا نظام کہنہ سے اکتائی نظر آئی۔ چین کے ماؤزے تنگ، ویت نام کے ہوچی منہ اور کیوبا انقلاب کی وجہ سے مشہورہوئے چی گویرا نوجوانوں کے ہیرو تھے۔ نظام کہنہ کو للکارنے کا حوصلہ انہیں مارچ 1968کے برس فرانس میں شروع ہوئی طلبہ تحریک نے فراہم کیا تھا۔ تاریخ میں اگرچہ وہ مئی 1968تحریک کے نام سے مشہور ہے۔ اس تحریک کے نتیجے میں فرانس کے مردِ آہن جنرل ڈیگال مستعفی ہونے کو مجبور ہوا۔ اس جیسے قدآور آمر کے استعفیٰ نے وطن عزیز میں ایوب خان کے مستعفی ہونے کی گنجائش فراہم کی۔ موصوف مستعفی ہوگئے تو ہم ’انقلاب یا انتخاب‘ کا سوال اٹھاتے ہوئے خود ہی پھیپھڑوں کی تمام توانائی گلے کی رگیں پھلاکر’انقلاب-انقلاب‘ پکارتے ہوئے جواب دیتے۔ انقلاب مگر نصیب نہ ہوا۔ 1970میں البتہ پاکستان کو اپنے قیام کے کئی برس بعد بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلا انتخاب مل گیا۔
مذکورہ انتخاب مگر بالآخر پاکستان کو دولخت کرنے کا باعث بھی ہوا۔ پاکستان ماضی کے ’مغربی پاکستان‘ میں سکڑگیا تو ذوالفقار علی بھٹو نے سویلین ہوتے ہوئے بھی پاکستان کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھالا۔ ہمارے صدر بھی ہوگئے۔ ان دونوں عہدوں پر طویل عرصہ براجمان رہنے کے بجائے آئین پاکستان کو متفقہ طورپر منظور کروانے کی کوشش کی۔ بنیادی حقوق آئین لاگو ہوجانے کے باوجود بھی لیکن معطل رہے۔ بلوچستان اور ان دنوںصوبہ سرحد کہلاتے خیبرپختونخوا کی حکومتیں برقرار نہ رہ پائیں۔ بھٹو صاحب مجھ سادہ لوح کو لہٰذا آمر انہ روش اختیار کرتے محسوس ہونے لگے۔ ’انقلاب-انقلاب‘ کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ احتجاجی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد صحافت بطور پیشہ اپنالی۔ تبدیلی کے خواب البتہ دیکھتا رہا۔ اس تناظر میں آزادی صحافت کی جدوجہد میں واجب حصہ بھی ڈالا۔ 1977کی جولائی میں لیکن جنرل ضیاالحق کے مارشل لا کا نفاذ ہوگیا۔ اس برس سے اب تک ’تبدیلی‘ کی تمنا دل میں ہلکی آنچ کی صورت اگرچہ برقرار رہی۔
1968کے پاکستان سے آج کے کالم کے آغاز کی وجہ رواں برس کے 18ستمبر سے فرانس میں شروع ہوا احتجاج ہے۔ وہاں کے طلبہ تعلیمی اداروں کی کھنڈر بنتی عمارتوں سے نالاں ہیں۔ پرہجوم کلاسوں کو اساتذہ توجہ سے پڑھا نہیں سکتے۔ تعلیم کی فراہمی ریاست وحکومت اپنی ذمہ داری تصور کرنا چھوڑ چکی ہیں۔ سرکاری اداروں سے بہتر تعلیم کے حصول کے لئے درکار رقوم میسر نہیں۔ ستمبر کے تیسرے ہفتے میں پیرس کے نواحی علاقے میں تاہم ایک سکول سے شروع ہوا ۔احتجاج اب ملک گیر بن چکا ہے۔ملک بھر میں ہوئے مظاہروں میں شرکا کی تعداد پانچ لاکھ کے قریب بتائی جارہی ہے۔ اتوار کی صبح اٹھ کر ناشتے کے لئے بیٹھا تو بیگم صاحبہ نے بی بی سی لگارکھا تھا۔ وہاں کی ہیڈ لائنز میں طلبہ کے احتجاجی مظاہرے پر تشدد احتجاج میں بدل کر دکانوں اور بینکوں کو لوٹتے نظر آئے۔ میں انہیں دیکھنے میں محو تھا تو طنزیہ آواز میں یاد دلایا گیا کہ ’شاید نوجوانی یاد آرہی ہے‘۔ سچی بات مگر یہ تھی کہ نوجوانی کا گرم خون یاد کرنے کے بجائے مظاہرین کا بغور جائزہ لیتے ہوئے میں فکر مند ہورہا تھا۔ میری فکر مندی کی کلیدی وجہ یہ حقیقت تھی کہ جن شہروں یا محلوں میں پرتشدد مظاہر ہورہے تھے، وہ افریقہ کے ممالک سے فرانس آکر آباد ہوئے ’تارکین وطن کے علاقے‘ شمار ہوتے ہیں۔ ان کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔
تارکین وطن اور خصوصاًمسلمان تارکین کا ذکر ہوتو یاد رکھنا ہوگا کہ گزشتہ کئی برسوں سے فرانس میں نسل پرستی وہاں کی سفید فام اکثریت میں مقبول سے مقبول تر ہورہی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت کو صحافی سے فلاسفر ہوئے رینو کامونے 2010اور 2011کے دوران لکھی دو کتابوں سے بھڑکایا۔ اس کی آخری کتاب نے Great Replacement کا نظریہ ایجاد کیا۔ اس ترکیب کے اردو میں لفظی ترجمے کے قابل نہیں۔ سادہ الفاظ میں بیان کرنا ہوگا کہ کامو نے اعدادوشمار سے کھیلتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ افریقہ اور خصوصاً الجزائر اور تیونس سے مسلمان سازشی منصوبہ بندی کے ساتھ فرانس در آتے ہیں۔ یہاں آباد ہو جانے کے بعد وہ ’جان بوجھ کر‘ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں۔ بچوں کی بنیادی ضروریات یقینی بنانا فرانسیسی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کا ’استحصال‘ کرتے ہوئے فرانس کو مسلم اکثریتی ملک بنانے کے ارادے ہیں۔
کامو کی ایجاد کردہ تھیوری کو سفید فام دانشوروں کی مناسب تعداد نے ٹھوس اعدادوشمار کے ذریعے دور کی کوڑی لانے کے مترادف ٹھہرایا ہے۔ کامو مگر فرانس میں مقبول ٹی وی سکرینوں پر تسلسل سے مدعو کیا جاتا رہا۔ اس کی پھیلائی داستان لہٰذا مقبول سے مقبول تر ہونا شروع ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں انتہائی دائیں بازو کی نسل پرست جماعت ’نیشنل ریلی‘ کے ووٹوں میں حیران کن اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ اپریل 2027 میں فرانس کے صدارتی انتخاب کا انعقاد ہونا ہے۔ فرانس کا صدر منتخب ہونے کے لئے آپ کو 50فی صد سے زیادہ ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ غیر جانب دار تنظیموں کی جانب سے ہوئے سروے مصر ہیں کہ صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے کے دوران مذکورہ جماعت کی مارین لے پین کم از کم 37فیصدووٹ حاصل کرسکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں نسبتاً معتدل مزاج اور وزیر اعظم رہا ایک امیدوار 12سے 18فی صد ووٹ حاصل کرسکتا ہے۔ فی الوقت میدان میں چار امیدوار نظر آرہے ہیں۔ امید ہی باندھی جاسکتی ہے کہ مرحلہ وار ہوئے صدارتی انتخاب کے انجام پر کوئی معتدل مزاج شخص مارین کو شکست سے دو چار کردے گا۔ اس کی ممکنہ شکست مگر تارکینِ وطن اور خصوصاًمسلمانوں کی زندگیوں میں آسانی یقینی نہیں بناسکتی۔
امن وامان یقینی بنانے کے نام پر معتدل مزاج صدر کو بھی مسلمان تارکین وطن کے ساتھ سخت گیر رویہ اپنانا ہوگا۔ وہ اس پر آمادہ نہ ہوا تب بھی مقامی حکومتیں ان کی زندگیاں اجیرن بنادیں گی۔ فرانس کے مسلمانوں پر نازل ہوئی آفتوں کے موسم میں امریکی نائب صدر کا اتوار کے دن ایکس پر لکھا پیغام نفرت بھڑکانے کی مذموم کوشش ہے۔ جے ڈی وینس کا دعویٰ ہے کہ ’لبرل افراد نے فرانس کو انسانی اخوت ا ور تکثریت کے نام پر تیسر ی دنیا کے حوالے کردیا ہے‘۔ یہ ارشاد فرمانے کے بعد موصوف نے دعا فرمائی کہ فرانس اپنے ہاں پھیلے ’پاگل پن‘ پر سختی سے قابو پانے میں کامیاب ہوجائے۔ یہ سب لکھنے کے بعد وینس نے یہ امید بھی باندھی کہ نومبر میں متوقع مڈٹرم انتخابات کے دوران امریکی عوام یاد رکھیں کہ ڈیموکریٹ پارٹی ان کے ملک کو بھی فرانس کی طرح (تیسری دنیا کے سپرد کرنے کو بے تاب ہے)۔
مسلم دشمنی گویا یورپ ہی نہیں امریکہ میں بھی ٹرمپ کے لاڈلے نائب صدر کی جانب سے بھڑکائی جارہی ہے۔ امریکی صدر بھی حیلے بہانوں سے مسلم دشمنی پر مبنی پیغامات لکھنا شروع ہوگیا ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)